وادی تیراہ میں عوام کی نقل مکانی کا بحران خیبر پختونخوا میں سیاسی قیادت کی ناکامی کا ایک واضح ثبوت ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (PTI) کی حکومت کے زیر انتظام، جو ایک منظم اور رضاکارانہ نقل مکانی ہو سکتی تھی، وہ ایک انسانی المیہ بن گئی۔ شدید برفباری میں ہزاروں لوگ سڑکوں پر پھنس گئے، انہیں خوراک، رہائش اور ٹرانسپورٹ کی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ PTI کی کے پی کے حکومت نے نہ صرف اپنی ذمہ داریوں سے منہ موڑا بلکہ وفاقی حکومت اور سیکورٹی فورسز کے خلاف منظم پروپیگنڈا مہم چلائی۔
وادی تیراہ نقل مکانی کا پس منظر
وادی تیراہ، خیبر ضلع میں واقع ہے، جو دہشت گرد گروہوں جیسے تحریک طالبان پاکستان (TTP) کی موجودگی کی وجہ سے سیکیورٹی چیلنجز کا شکار ہے۔ اس کی سرحدی حیثیت اور دشوار گزار علاقہ اسے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا مرکز بناتا ہے۔ 2025 کے آخر میں مقامی جرگوں نے موسم سرما میں عارضی اور رضاکارانہ نقل مکانی پر بات چیت شروع کی، جو اس علاقے میں موسم کی شدت کی وجہ سے عام ہے۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق، خیبر کے ڈپٹی کمشنر نے 28 اکتوبر 2025 کو صوبائی حکومت کو ممکنہ نقل مکانی کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔ خط میں ٹرانسپورٹ، خوراک، نقد امداد اور رجسٹریشن پوائنٹس کی تیاری کی درخواست کی گئی تھی۔ یہ نقل مکانی مقامی آبادی کی رضامندی اور ضلعی جرگے کی سفارشات پر مبنی تھی۔
نقل مکانی کا آغاز 10 جنوری 2026 سے ہونا تھا، جس سے صوبائی حکومت کو کافی وقت ملا تھا۔ تاہم، PTI حکومت نے بروقت اقدامات نہیں اٹھائے۔ 26 دسمبر 2025 کو نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ کے تحت خیبر ضلع میں ہنگامی حالت نافذ کی گئی۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) کو ٹرانسپورٹ، خوراک اور رجسٹریشن کے انتظام کی ذمہ داری سونپی گئی۔ وفاقی حکومت نے 4 ارب روپے سے زائد فنڈز جاری کیے، جن میں ہر خاندان کے لیے 7 لاکھ روپے نقل مکانی امداد، مکمل تباہ گھروں کے لیے 80 لاکھ اور جزوی تباہی کے لیے 40 لاکھ روپے شامل تھے۔ یہ سب تیاریاں نقل مکانی کو آسان بنانے کے لیے تھیں، لیکن صوبائی حکومت کی غفلت کی وجہ سے جنوری کے شروع میں شدید برفباری نے ہزاروں لوگوں کو پھنسا دیا۔ سڑکیں بند ہو گئیں، بچے اور بزرگ شدید سردی میں بغیر امداد کے رہ گئے۔
صوبائی حکومت کی سنگین ناکامی
ناکامی کی بنیادی وجہ PTI حکومت کا 28 اکتوبر کے انتباہ کو نظر انداز کرنا ہے۔ خط میں باغ کے علاقوں سے نقل مکانی، ٹرانسپورٹ اور امداد کی درخواست کی گئی تھی۔ 31 دسمبر 2025 کو پشاور میں ایک بڑا جرگہ ہوا جس کی صدارت چیف سیکرٹری نے کی اور آئی جی ایف سی شریک ہوئے۔ کور کمانڈر اس عمل میں شامل نہیں تھے، جو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ یہ سویلین اقدام تھا۔ اس کے باوجود، صوبائی حکومت نے تیاریوں میں تاخیر کی۔ فنڈز جاری ہوئے مگر غلط استعمال ہوئے، رجسٹریشن پوائنٹس قائم نہ ہو سکے۔ نقل مکانی شروع ہونے پر موسم کی شدت نے بحران کو مزید سنگین کر دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق، لوگ کئی کلومیٹر پیدل چلے۔ PDMA اور ضلعی انتظامیہ نے موثر کوآرڈینیشن نہیں کی۔ یہ ناکامی PTI کی کے پی میں ایک تسلسل ہے، جہاں سیاسی بقا کو ترجیح دی جاتی ہے۔ چیف منسٹر کی قیادت میں حکومت نے بحران کو سنبھالنے کی بجائے الزام تراشی کی۔
پروپیگنڈا مہم
ناکامی کو چھپانے کے لیے PTI نے وفاقی حکومت اور فوج کے خلاف پروپیگنڈا شروع کیا۔ دعویٰ کیا گیا کہ نقل مکانی فوج کے حکم پر "ڈی پاپولیشن” ہے۔ وزارت اطلاعات نے واضح کیا کہ فوج نے کوئی ایسا حکم نہیں دیا، آپریشن صرف دہشت گردوں کے خلاف ہیں۔ PTI کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور وابستگان نے فوج کو "ظالم” اور "پختونوں پر ظلم کرنے والا” قرار دیا۔ AI جنریٹڈ ویڈیوز اور جھوٹی تصاویر گردش کی گئیں۔ حقیقت یہ ہے کہ فوج نے صرف انسانی بنیاد پر امداد کی، خوراک اور ٹرانسپورٹ فراہم کیا جب صوبائی حکومت ناکام ہو گئی۔ یہ پروپیگنڈا PTI کی حکمت عملی ہے کہ عوام کو فوج اور وفاق کے خلاف کر کے سیاسی فائدہ اٹھایا جائے۔ اس سے نسلی تناؤ بڑھ سکتا ہے اور دہشت گردوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
خیبر پختونخوا کے عوام پر اثرات
اس پروپیگنڈا کی وجہ سے عوام فوج سے دور ہو سکتے ہیں، جو سرحدوں پر دہشت گردی کے خلاف لڑ رہی ہے۔ متاثرین کو دو ماہ بعد واپسی اور امداد کا وعدہ تھا، مگر انتظامی ناکامی کی وجہ سے ابھی تک مشکلات ہیں۔
احتساب کا مطالبہ
تیراہ بحران صوبائی ناکامی کی کہانی ہے۔ PTI کی حکومت نے وقت، فنڈز اور معلومات ہونے کے باوجود اقدامات نہیں کیے اور پروپیگنڈا کے ذریعے الزامات لگائے۔ اب احتساب کا وقت ہے۔ خیبرپختونخوا کے عوام مستحق ہیں کہ انہیں متحد کرنے والے لیڈر ملیں، نہ کہ تقسیم کرنے والے۔ وہ وقت دور نہیں جب حقائق پروپیگنڈا پر غالب آئیں گے۔

