کہتے ہیں کہانی اور داستاں میں یہی فرق ہے کہ کہانی ختم ہو جاتی ہے لیکن داستان چلتی رہتی ہے۔ ایک کے بعد ایک کردار آتے چلے جاتے ہیں اور یوں ایک شخصی واردات خود بخود زمانے کی روداد بن جاتی ہے۔ محمد اظہار الحق صاحب کی خود نوشت "بکھری ہے میری داستاں "بھی ایک ایسی ہی داستان ہے جو نان فکشن ہوتے ہوئے بھی اپنے اندر فکشن جیسی دلچسپی لئے ہوئے ہے۔
میں نے کتاب پڑھنا شروع کی تو ڈھاکہ، سندربن، سلہٹ، میمن سنگھ اور چائے کے باغات سے گزرتے ہوئے قرت العین حیدر یاد آئیں۔میری تمام سرگزشت کھوئے ہووں کی جستجو۔ پھر فیض احمد فیض یاد ائے۔ ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد۔ اور الطاف فاطمہ۔ نہ لال باغ جاتے،نہ بالم کھیرا کھاتے۔۔۔اور پھر اپنے مرحوم والد صاحب کی ذاتی کتب میں سے کسی پرانی کتاب کے پہلے صفحے پر دستخط کے نیچے لکھے ہوئے مغربی پاکستان کے الفاظ یاد آئے۔ اور میں نے یہ جانا کہ ہماری نسل جس نے متحدہ پاکستان میں سانس نہیں لی۔وہ اس نسل کی مشرقی پاکستان سے انسیت اور اس دکھ کی کاٹ کو نہیں سمجھ سکتی،جنہوں نے سقوط ڈھاکہ کا زخم اپنی روح پر جھیلا ہے۔ بس تاریخ کی راکھ اڑی اور ہمارے چہروں پر جم گئ۔ یہ دھول آج تک صاف نہیں ہو پائی۔ اور پھر جس طرح مختار مسعود کی آواز دوست میں دہلی کی جامع مسجد کی سیڑھیوں والا اقتباس ہر صاحب دل انسان کا دل کاٹ کر رکھ دیتا ہے۔ بکھری ہے میری داستاں میں بھی جرمنی میں ایک بھارتی مسلمان کا یہ کہنا کہ وہاں کے مسلمانوں کے حالات پاکستان سے بہت اچھے ہیں، قاری کو احساس ندامت سے پانی پانی کر دیتا ہے۔ اظہار الحق صاحب کی خودنوشت کا یہ حصہ جو مشرقی پاکستان میں ان کے قیام سے متعلق ہے۔ تاریخ کے ایک فیصلہ کن دور کے سیاسی و سماجی under currents کے بیان کے ساتھ ساتھ ہمارے اجتماعی رویوں پر ایک چشم کشا تبصرہ بھی ہے۔ اور یہ سب کچھ جس طرح مقبول عام تعصبات سے بالا تر ہو کر لکھا گیا ہے۔یہ وہی انسان لکھ سکتا ہے جس کا اپنا وجود بھی پاکستان کے ساتھ دو لخت ہوا ہو۔ غیر تاریخی تسلسل میں لکھی گئ اس خودنوشت کا نقطہ آغاز ڈھاکہ کا عرصہ طالب علمی ہے۔ لیکن بعد کے ابواب میں بھی ڈھاکہ ایک روشن سطر کی طرح جا بجا اپنی جھلک دکھاتا ہے۔ جس سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ یہ محض بازدید نہیں ہے۔ بلکہ روشن دنوں کے ساتھ ساتھ تاریکی اور ملگجے پن کے ابتدائی تجربات بھی شاید انہی دنوں کی دین ہیں جو مصنف نے مشرقی پاکستان میں گزارے۔
یہاں سے آگے بڑھیں تو ایک مرتبہ پھر یہ احساس ہوتا ہے کہ زندگی نے اظہار الحق صاحب سے مکالمہ انسانی رشتوں کی سرزمین پر کیا ہے۔ اسی لئے دادا،دادی، والد صاحب اور والدہ محترمہ کا ذکر محبت کے اتنے رچاو کے ساتھ آیا ہے کہ جھنڈیال اور بگھیال کی، آبائی حویلیوں، بزرگوں کے قدموں، آوازوں۔ کتابوں اور دسترخوان پر چنے کھانوں کی خوشبوئیں ہمارے آس پاس مہکنے لگتی ہیں۔ ماضی اگر اتنا شاندار ہو تو اس کی دیوار سے لگ کر حال کے زخم سہار لینا شاید اتنا مشکل نہیں رہتا۔ ان زخموں میں ان بے بدل رشتوں کی جدائی کے گھاو بھی ہیں، اور تاسف کی ٹیسیں بھی۔ بالخصوص والد کی وفات اگر زندگی کا سب سے بڑا شخصی المیہ ہو تو زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر کھوئے ہوئے بچپن اور گم شدہ باپ کی از سر نو بازیافت ایک جنت گم گشتہ کو پا لینے جیسا ہے۔ وہ احساس تفاخر اور تحفظ جو باپ کی موجودگی سے مشروط ہے،اور جس کے بغیر زندگی پیروں کو اپنی پوری طاقت فراہم نہیں کرتی۔ کہ یہ وہ انگلی ہے جسے تھام کر زندگی کا دشت بے خوف و خطر پار کیا جا سکتا ہے۔ اظہار الحق صاحب نے بھی جہاں جہاں اپنے والد صاحب کا ذکر کیا ہے،ان کی شخصیت ایک چھٹنار پیڑ کے جیسی محسوس ہوتی ہے۔جس کی چھاوں حدنظر سے آگے تک پھیلی ہوئی ہے۔ اسی طرح دادی اور والدہ کا تذکرہ تو آنسوؤں سے بھیگا ہوا ہے۔ یہ وہ رشتے ہیں جو آنکھوں سے اوجھل ہو کر بھی نہیں ہوتے۔ اور انسان تو ہے ہی بہت سی غائب اور حاضر حقیقتوں کا مجموعہ۔ پوری خود نوشت میں ہر اس مقام پر تحریر گہری تاثیر سے مملو ہے جہاں کسی رشتے کی محبت سے جڑی یاد کا دیا روشن ہے۔ جہاں کہیں زندگی نے اظہار الحق صاحب کو کسی چہرے، کسی تعلق، کسی تجربے کی شکل میں گہرائی تک چھوا ہے،وہاں واقعات کی معروضیت موضوعیت میں بدل گئی ہے۔
ان کے آبائی گاوں کا ذکر خودنوشت کی لائف لائن ہے۔ لوگ، واقعات اور مناظر اسی ایک ڈور سے جڑے اپنی معنویت ہم پر آشکار کرتے ہیں۔ کلیدی رشتوں کے علاوہ مائ بیگاں، قیوم جھلا اور ماما ڈنگراں والا جیسے زیب داستاں کے زمرے میں آنے والے کچھ کردار بھی ہیں جو اپنی جھلک دکھا کر غائب ہو جاتے ہیں۔ اور پھر ایسے جملوں میں ملفوف تحیر قاری کو اپنی گرفت میں لئے رکھتا ہے کہ گاوں کیا تھا اصحاب کہف کا غار تھا۔ اسلوب ایسا ہے کہ اہل خانہ، اہل علاقہ، دوست احباب، اساتذہ کرام، رفقاء کار، تعلیمی، نجی اور پیشہ ورانہ زندگی کے اس پینورامک ویو میں ایک بھرپور زندگی سے جستہ جستہ چنے ہوئے تمام مناظر اپنی جزئیات کے ساتھ قاری کے سامنے فلم کی طرح رواں ہو جاتے ہیں۔ انسانی شعور کی تاریخ میں ہر نسل اپنا تجربہ شاید اسی طرح اگلی نسل کو منتقل کیا کرتی ہے۔ جس کا لب لباب اس خود نوشت کی حد تک کم از کم یہ ہے کہ زندگی میں آگے بڑھنے کی قیمت اگر اپنی تہذیبی میراث سے کنارہ کشی ہو تو وہ خسارے کے سوا کچھ نہیں۔
ایک احساس جو یہ خود نوشت پڑھتے ہوئے مسلسل ہوتا رہا کہ نہ جانے کیسے کیسے قریوں کی مٹی ہوتی ہے جو انسان کے پیرہن سے لگ کر چلی جاتی ہے اور پھر زندگی بھر اس کے ساتھ رہتی ہے۔ اور ان سب تفصیلات کے بیان میں اظہار الحق صاحب کی تخلیقی نثر ایک اضافی خوبی ہے جو اس خودنوشت کو مزید قابل مطالعہ بناتی ہے۔ اردو کے نان فکشن ادب میں یہ کتاب بہت اہم اور قابل قدر اضافہ ہے۔
”بکھری ہے میری داستاں” بک کارنر جہلم سے اسی اہتمام اور جمالیاتی محاسن کے ساتھ شائع ہوئ ہے جو اس ادارے ،امر شاہد اور گگن شاہد صاحب کی پہچان ہے۔


