کابل میں دوحہ عمل کے تحت انسدادِ منشیات ورکنگ گروپ کا چوتھا اجلاس منعقد ہوا، جس کی میزبانی اقوامِ متحدہ کے مشن برائے افغانستان یوناما نے کی۔ اجلاس میں اسلامی امارتِ افغانستان، اقوامِ متحدہ، یورپی یونین، تنظیمِ تعاونِ اسلامی، بین الاقوامی اداروں اور مختلف ممالک کے سفارتی نمائندوں نے بالمشافہ اور آن لائن شرکت کی۔
وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق اجلاس میں بتایا گیا کہ اسلامی امارت کے رہبر کے فرمان کے بعد افغانستان میں پوست کی کاشت تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ منشیات کے خلاف کارروائی نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے اور دنیا کے مفاد میں ہے، تاہم ان کامیابیوں کو برقرار رکھنے کے لیے مشترکہ تعاون اور سرمایہ کاری ضروری ہے۔
اجلاس کے دوران مصنوعی اور صنعتی منشیات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ ان منشیات کے خام مال کے ذرائع افغانستان سے باہر واقع ہیں اور اگر انہیں نہ روکا گیا تو اس کے اثرات پورے خطے اور دنیا تک پھیل سکتے ہیں۔
مزید کہا گیا کہ یوناما اور بین الاقوامی تنظیموں نے کسانوں کی مدد، متبادل روزگار کی فراہمی، منشیات کے عادی افراد کے علاج میں توسیع اور ان کی معاشرے میں دوبارہ بحالی پر زور دیا۔ کئی ممالک اور اداروں نے دوحہ عمل کے فریم ورک اور دو طرفہ سطح پر تعاون اور امداد کا وعدہ بھی کیا۔
دوسری جانب جامعہ کے استاد نقیب اللہ نوری نے کہا کہ عالمی برادری کو تنقید کے بجائے کسانوں، نجی شعبے اور موجودہ حکومت کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے تاکہ منشیات کے مسئلے کا مؤثر حل ممکن ہو سکے۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا جب اقوامِ متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں مصنوعی منشیات کے بڑھتے استعمال کی نشاندہی کی گئی ہے۔

