خیبر پختونخوا، خصوصاً پشاور سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں گرفتار کیے گئے ہزاروں افغان مہاجرین نے چھوٹی عید جیلوں میں گزاری، جس کے باعث ان کے گھروں میں خوشیوں کے بجائے غم اور افسردگی کا ماحول چھا گیا۔ اطلاعات کے مطابق ان افراد کو فارن ایکٹ کے تحت حراست میں لیا گیا تھا، تاہم عید کے موقع پر بھی انہیں رہا نہیں کیا گیا۔
ان مہاجرین کے اہل خانہ نے عید کی نماز آنسوؤں اور دکھ کے ساتھ ادا کی۔ کئی گھروں کے کفیل افراد جیلوں میں بند ہیں، جس کی وجہ سے خاندان شدید مالی اور ذہنی مشکلات کا شکار ہیں۔ سرحدی راستوں کی بندش کے باعث ان میں سے بہت سے افراد کو افغانستان واپس بھی نہیں بھیجا جا سکا، جس سے ان کی پریشانی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد ہی ان کے گھروں کا واحد سہارا تھے، اور ان کی غیر موجودگی میں وہ شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ دوسری جانب کچھ ایسے افغان مہاجرین بھی ہیں جنہوں نے واپسی کے لیے اپنی تیاریاں مکمل کر رکھی تھیں، مگر بارڈر بند ہونے کی وجہ سے انہیں جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
مزید برآں، کیمپوں سے بے دخل کیے گئے مہاجرین بھی شدید پریشانی کا شکار ہیں اور غیر یقینی صورتحال میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ عید جیسے خوشی کے موقع پر یہ حالات ان کے لیے ایک بڑے انسانی المیے کی تصویر پیش کر رہے ہیں۔

