پاکستان میں را کا جاسوسی نیٹ ورک بے نقاب ہونے کے بعد سیکیورٹی اداروں نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے تین ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق یہ افراد بھارتی خفیہ ایجنسی کے لیے حساس معلومات حاصل کرنے میں ملوث تھے۔
ذرائع کے مطابق گرفتار افراد کا تعلق نارووال، بہاولپور اور آزاد کشمیر کے ضلع نیلم سے ہے۔ تفتیش کے دوران ملزمان نے اعتراف کیا کہ وہ سوشل میڈیا کے ذریعے بیرونی عناصر کے رابطے میں آئے اور انہیں مختلف لالچ دے کر استعمال کیا گیا۔
تحقیقات میں سامنے آیا کہ ملزمان کو خواتین کے ذریعے ہنی ٹریپ کیا گیا اور پیسوں کا جھانسہ دے کر اہم معلومات تک رسائی حاصل کی گئی۔ رقوم ایزی پیسہ، بینک اکاؤنٹس اور کرپٹو والٹس کے ذریعے منتقل کی جاتی رہیں، جس سے اس نیٹ ورک کو خفیہ رکھنے میں مدد ملی۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان مسلسل بھارتی ایجنسی سے منسلک افراد کے ساتھ رابطے میں تھے۔ اس واقعے نے واضح کر دیا کہ دشمن عناصر جدید طریقوں سے عام شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
ملزمان کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد انہیں سزائیں سنا دی گئیں۔
دفاعی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ دشمن خفیہ ایجنسیاں سوشل میڈیا کے ذریعے شہریوں کو پھانسنے کے لیے ہنی ٹریپ اور مالی لالچ جیسے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہیں۔ انہوں نے عوام کو محتاط رہنے اور مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع دینے کی ہدایت کی ہے۔

