سوات قومی جرگہ کے زیر اہتمام مینگورہ میں تمام سیاسی جماعتوں، تاجر تنظیموں، وکلا اور سول سوسائٹی کا گرینڈ جرگہ منعقد ہوا، جس میں سوات میں کسی بھی نئے فوجی آپریشن کو یکسر مسترد کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ایک ماہ کے اندر سوات اور ملاکنڈ ڈویژن سے تمام دہشت گردوں کا خاتمہ کرکے پائیدار اور مستقل امن قائم کیا جائے، بصورت دیگر احتجاجی تحریک شروع کرکے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کیا جائے گا ۔
سوات(عدنان باچہ) جرگہ میں مقررین نے کہا کہ سوات اور ملاکنڈ ڈویژن 2007 سے اب تک مسلسل دہشت گردی، فوجی آپریشنز، قدرتی آفات اور سیلابی صورتحال سے دوچار رہے ہیں، جس کے باعث علاقے کی معیشت تباہ ہوچکی ہے، جبکہ سیاحت بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے، ایسے حالات میں عوام نہ مزید کسی فوجی آپریشن اور بدامنی کے متحمل ہوسکتے ہیں اور نہ ہی کسی قسم کے نئے ٹیکس دینے کی پوزیشن میں ہیں، لہٰذا حکومت فوری طور پر عملی اقدامات اٹھائے ۔
مقررین نے صوبائی حکومت کی جانب سے کیپرا اور دیگر صوبائی ٹیکسز کے نفاذ کا فیصلہ واپس لینے کے اقدام کو سراہتے ہوئے وفاقی حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ ملاکنڈ ڈویژن اور ضم اضلاع میں وفاقی ٹیکسز کے نفاذ کا فیصلہ واپس لیا جائے اور ملاکنڈ ڈویژن کی جداگانہ حیثیت بحال کی جائے ۔
جرگہ کے بعد گرینڈ جرگہ کے صدر اور سابق تحصیل ناظم مٹہ عبدالجبار خان نے اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ سوات اور ملاکنڈ ڈویژن میں پائیدار اور مستقل امن چاہتے ہیں، ملاکنڈ ڈویژن کی جداگانہ حیثیت بحال کی جائے اور ہر قسم کے ٹیکس کے نفاذ کا فیصلہ واپس لیا جائے۔ اعلامیہ میں ریاست اور اداروں سے پرزور مطالبہ کیا گیا کہ ایک ماہ کے اندر سوات اور ملاکنڈ ڈویژن بھر سے تمام دہشت گردوں کو نکالا جائے۔ اعلامیہ کے مطابق مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو سوات کے تمام عوام متحد ہوکر ایک بڑا احتجاجی جلسہ کریں گے، جس کے بعد بدامنی کے خاتمے اور ٹیکسوں کے فیصلے واپس نہ لینے کی صورت میں سوات کے تمام مشران، سیاسی و غیر سیاسی تنظیمیں اور سول سوسائٹی اہم شاہراہوں کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کرکے دھرنا دیں گے ۔
اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ دھرنے کے باوجود حکومت نے مطالبات تسلیم نہ کیے تو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا جائے گا ۔
جرگہ سے ایم پی اے فضل حکیم خان، ایم این اے ڈاکٹر امجد علی خان، سابق ایم این اے ڈاکٹر حیدر علی خان، اے این پی کے ضلعی صدر شیر شاہ خان، سابق امیدوار صوبائی اسمبلی ظاہر شاہ رورجان، پاکستان پیپلز پارٹی کے ڈویژنل صدر ملک اکرم خان، جماعت اسلامی کے اختر علی خانجی اور محمد امین، جمعیت علماء اسلام کے اعجاز خان، پختونخوا نیشنل پارٹی کے عمر علی خان یوسف زئی،سلیم خان ، فضل احدلالا جی، ملاکنڈ ڈویژن ٹریڈرز فیڈریشن کے صدر عبدالرحیم، سوات قومی جرگہ کے ترجمان احمد شاہ، عرفان خان چٹان، مسلم لیگ ن کے ڈویژنل صدر واجد علی خان، ضلعی صدر قوی خان ایڈووکیٹ، سابق ضلعی ناظم جمال ناصرخان اور سابق ضلعی ناظم محمد علی شاہ سمیت دیگر نے خطاب کیا ۔
مقررین نے کہا کہ سوات اور ملاکنڈ ڈویژن کے عوام نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران دہشت گردی اور بدامنی کے خلاف بھاری قیمت ادا کی ہے، اب وقت آگیا ہے کہ ریاست عوام کے تحفظ، علاقے میں مستقل امن اور معاشی بحالی کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کرے ۔

