گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت مشاورتی کونسل کا پہلا اجلاس گورنر ہاؤس پشاور میں منعقد ہوا، اجلاس میں چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان، انسپکٹر جنرل آف پولیس ذوالفقار حمید اور مشاورتی کونسل کے اراکین نے شرکت کی، دوسری جانب سیکیورٹی صورتحال سے متعلق بھی اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں اہم فیصلے کئے گئے ۔
پشاور: آئی جی ذوالفقار حمید نے صوبہ میں امن وامان کی موجودہ صورتحال پر اجلاس کو تفصیلی بریفنگ دی، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر نے مشاورتی کونسل کے اراکین کا خیر مقدم کیا اور انہیں نئی ذمہ داریوں پر مبارکباد دی ۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک مشکل فیصلہ تھا، بہت زیادہ چیلنجز درپیش ہیں تاہم تمام امور کو ذمہ داری کے ساتھ بر وقت سرانجام دیں گے۔ کرپشن برداشت نہیں کی جائیگی اور نہ ہی اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ کیا جائیگا
اس موقع پر گورنر نے عوام کے نام پر پیغام میں کہا کہ صوبے میں غیر معمولی صورتحال کے پیش نظر آئین کے تحت کچھ ضروری اقدامات کئے گئے ہیں۔ سیاسی بحث یا الزام تراشی نہیں کرنا چاہتا،خیبر پختونخوا کو امن، تحفظ، استحکام اور ترقی کی طرف واپس لے کر جائیں گے ۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام نے دہشت گردی کی بڑی قیمت ادا کی ہے۔ ہم نے اپنے بہادر پولیس اہلکاروں، فوج کے جوانوں، لیویز، سرکاری ملازمین، علماء، اساتذہ، تاجروں اور عام شہریوں کو قربان ہوتے دیکھا ہے ،وقت آ گیا ہے کہ خیبر پختونخوا کو امن کا حق دیا جائے،ہماری جنگ دہشت گردی کے خلاف ہے، ہماری جنگ اس سوچ، اس نیٹ ورک اور اس ماحول کے خلاف ہے جس میں دہشت گردی پنپتی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ مشکلات بڑی ہیں لیکن ہمارا عزم اس سے بھی بڑا ہے اور انشاءاللہ ریاستی رٹ مضبوط ہوگی اور صوبے میں امن واپس آئیگا، پختون دہشت گردی کا مسئلہ نہیں، پختون دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار ہیں، ریاست کا عزم ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو دہشت گردی سے نجات دلائی جائیگی ۔
سیکیورٹی سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس : ۔
دریں اثنا گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت صوبے میں سیکیورٹی سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں مشیر داخلہ کفایت اللہ خان، چیف سیکرٹری ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان، انسپکٹر جنرل آف پولیس ذوالفقار حمید، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم امجد علی خان، ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ محمد کاشف عالم، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی، سی سی پی او ڈاکٹر میاں سعید، جوائنٹ ڈائریکٹر جنرل آئی بی ارشد علی خان اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی ۔
اجلاس میں گورنر خیبر پختونخوا کو صوبے میں سیکیورٹی کی مجموعی صورتحال، انسداد دہشت گردی اور موجودہ صورتحال سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر آج تعلیمی ادارے بند رکھے جائیں گے ، پشاور میں جلد از جلد تمام کنٹینرز مرحلہ وار ہٹا دیے جائیں گے ۔
اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ انٹرنیٹ سروس کو ضرورت کے مطابق جزوی طور پر بحال کیا جائیگا، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پولیس شہداء پیکیج میں اضافہ اور پولیس کی تنخواہوں پر نظرثانی کی جائیگی، اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ شہداء کے ورثاء کی تعلیم و تربیت کا خاص خیال رکھا جائیگا ۔
اس موقع پر گورنر نے انتظامیہ اور پولیس کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ خوش آئند بات ہے کہ موجودہ حالات میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا خاتمہ ہماری اولین ترجیح ہے اور اس کیلئے پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعداد کار میں مزید بہتری لائی جائیگی ۔

