اسلام آباد: اقوام متحدہ کے ادارے یو این او ڈی سی نے افغانستان میں افیون کی کاشت اور پیداوار سے متعلق سالانہ سروے رپورٹ 2026 جاری کر دی ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق افغانستان میں افیون کی کاشت اور پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
یو این او ڈی سی کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں افیون کی کاشت 2025 میں 10 ہزار ہیکٹر تھی، جو 2026 میں بڑھ کر 43 ہزار ہیکٹر تک پہنچ گئی۔
اسی طرح افیون کی سالانہ پیداوار 296 ٹن سے بڑھ کر 1,466 ٹن ہو گئی، جو تقریباً پانچ گنا اضافہ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں افیون کی کاشت 11 سے بڑھ کر 16 صوبوں تک پھیل گئی ہے اور کئی صوبوں میں اس کی کاشت دوبارہ شروع ہو چکی ہے۔
بدخشاں افیون کی کاشت کا سب سے بڑا مرکز بن گیا ہے، جہاں 29 ہزار ہیکٹر رقبے پر افیون کاشت کی جا رہی ہے۔
تخار میں بھی افیون کی کاشت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں زیرِ کاشت رقبہ 274 ہیکٹر سے بڑھ کر 3 ہزار ہیکٹر تک پہنچ گیا، جو بارہ گنا سے زائد اضافہ ہے۔
یو این او ڈی سی کے مطابق افغانستان میں 2026 کے دوران افیون کی فروخت سے تاجروں نے 52 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کمائے۔
افغانستان میں افیون کی فروخت ملکی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا 2.7 فیصد ہے۔
ماہرین کے مطابق طالبان کے کابل پر قبضے کے وقت کسانوں اور تاجروں کے پاس افیون کے وسیع ذخائر موجود تھے۔
طالبان رجیم کی جانب سے افیون کی کاشت پر پابندی کا اعلان ان ذخائر کی قیمت بڑھانے کا حربہ تھا۔
گزشتہ چار سال کے دوران پرانے ذخائر کے باعث افیون کا کاروبار جاری رہا اور ذخیرہ شدہ افیون بھاری منافع پر فروخت کی جاتی رہی۔
ماہرین کے مطابق طالبان کے کابل پر قبضے کے وقت افیون کی قیمت 100 ڈالر فی کلو تھی، جو 2025 میں بڑھ کر 575 ڈالر تک پہنچ گئی۔
ذخیرہ شدہ افیون کے ذخائر ختم ہونے کے باعث اب افغانستان میں اس کی کاشت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ افیون کو تیار شدہ منشیات میں تبدیل کرنے اور بیرونِ ملک اسمگلنگ کے ذریعے بھی اضافی آمدن حاصل کی جاتی رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں مصنوعی منشیات، خصوصاً میتھ ایمفیٹامین (آئس)، منشیات کی تجارت کی ایک بڑی پیداوار بن چکی ہے۔

