Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    ہفتہ, جون 6, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • حکومت نے چھوٹے دکان داروں کے لیے فکس ٹیکس سکیم متعارف کرادی
    • حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں کمی کا اعلان کردیا
    • ملاکنڈ ڈویژن میں 50 ارب کی ترقیاتی سکیموں کی منسوخی حکومتی ناکامی ہے، عنایت اللہ خان
    • صدرِ مملکت اور وزیراعظم کا پنجگور میں فتنۃ الہندوستان کے خلاف کامیاب کارروائی پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
    • پاکستان ماحولیاتی تنزلی کی انسانی اور معاشی قیمت ادا کر رہا ہے، اجتماعی عزم اور تعاون ان چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کا واحد حل ہے، وزیر اعظم
    • پاکستان کی آزاد اور خودمختار پالیسی کی عالمی سطح پر تصدیق، روسی صدر نے بھارت کو آئینہ دکھا دیا
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امن کے داعی کے طور پر یاد رکھا جائے گا، وزیر اعظم شہبازشریف
    • بلوچستان کے ضلع پنجگور میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران 6 دہشگرد ہلاک
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » پشدان ڈیم تنازع، افغانستان اور ایران کے پانی کے حقوق کا سنگین مسئلہ
    افغانستان

    پشدان ڈیم تنازع، افغانستان اور ایران کے پانی کے حقوق کا سنگین مسئلہ

    جنوری 9, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Iran and Afghanistan Water Rights Clash
    ہریرود پر ایران اور افغانستان آمنے سامنے
    Share
    Facebook Twitter Email

    ایران اور افغانستان کے درمیان پانی کے حقوق کے مسئلے پر تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے، خاص طور پر دریائے ہریرود پر بننے والے پشدان ڈیم کے معاملے پر۔ ایران نے اس منصوبے پر سخت اعتراض کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اس سے ایران کے آبی حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہ تنازع نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو متاثر کر رہا ہے بلکہ خطے میں پانی کے وسائل کے استعمال پر وسیع تر بحث کا حصہ بھی بن گیا ہے۔

    ایران کے اعتراضات کی نوعیت

    ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے جمعے کے روز افغانستان کی جانب سے پشدان ڈیم کے منصوبے پر شدید احتجاج کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ ایران کے پانی کے بہاؤ کو کم کر سکتا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان موجود معاہدوں اور روایتی اصولوں کی خلاف ورزی ہوگا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے پانی کے حقوق کا احترام کیے بغیر آبی وسائل کا استحصال قابل قبول نہیں ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ معاہدوں اور ہمسائیگی کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس مسئلے کا حل نکالا جانا چاہیے۔”

    پشدان ڈیم

    پشدان ڈیم افغانستان کے صوبے ہرات میں دریائے ہریرود پر تعمیر کیا جا رہا ہے۔ اقتصادی امور کے نائب افغان وزیر اعظم عبدالغنی برادر کے مطابق یہ منصوبہ تکمیل کے قریب ہے اور پانی ذخیرہ کرنا شروع کر دیا گیا ہے۔

    یہ ڈیم54 ملین کیوبک میٹر پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔13 ہزار ہیکٹر زرعی زمین کو سیراب کرے گا۔2 میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا۔برادر نے اسے ہرات کے لیے ایک اہم اور اسٹریٹیجک منصوبہ قرار دیا، جو خطے کی زرعی اور توانائی ضروریات کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔

    پانی کے تنازع کی تاریخی پس منظر

    ایران اور افغانستان کے درمیان پانی کے حقوق کا تنازع نیا نہیں ہے۔ دونوں ممالک 900 کلومیٹر سے زیادہ طویل سرحد رکھتے ہیں، اور پانی کے وسائل کی تقسیم طویل عرصے سے دونوں کے درمیان کشیدگی کا سبب رہی ہے۔

    دریائے ہریرود

    دریائے ہریرود، جسے ہری اور تیجن کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، وسطی افغانستان سے نکل کر ترکمانستان کے پہاڑوں تک بہتا ہے اور ایران کے ساتھ سرحدی علاقے سے گزرتا ہے۔ اس دریا کے پانی کا بڑا حصہ افغانستان اور ایران کے درمیان مشترک ہے، جس کی وجہ سے دونوں ممالک اس پر اپنے حقوق کا دعویٰ کرتے ہیں۔

    دریائے ہلمند

    دریائے ہلمند افغانستان کا سب سے طویل دریا ہے، جس کی لمبائی 1,150 کلومیٹر ہے۔ یہ دریا افغانستان کے جنوبی اور جنوب مغربی علاقوں کے لیے زندگی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ دریائے ہلمند ایران کے سیستان و بلوچستان کے علاقے میں موجود ہامون جھیل کو پانی فراہم کرتا ہے، جو ایران کے لیے بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

    1973 کا آبی معاہدہ

    1973 میں ایران اور افغانستان نے دریائے ہلمند کے پانی کی تقسیم کے لیے ایک معاہدہ کیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت افغانستان نے ایران کو سالانہ 850 ملین کیوبک میٹر پانی فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

    لیکن حالیہ سالوں میں افغانستان میں نئے ڈیم منصوبے، خاص طور پر پشدان اور کمال خان ڈیم، ایران کے لیے تشویش کا باعث بنے ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں سے ایران کے پانی کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں، خاص طور پر سیستان و بلوچستان کے خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں۔

    افغانستان کا مؤقف

    افغانستان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے آبی وسائل کے استعمال کا حق رکھتا ہے۔ عبدالغنی برادر نے کہا کہ پشدان ڈیم نہ صرف زراعت کو ترقی دے گا بلکہ علاقے میں توانائی کے مسائل بھی حل کرے گا۔ افغانستان اس بات پر زور دیتا ہے کہ وہ کسی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کر رہا اور اپنے وسائل کو اپنے عوام کے فائدے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

    ایران کی تشویش کیوں بڑھ رہی ہے؟

    ایران میں بڑھتی ہوئی خشک سالی اور آبی قلت کے مسائل نے اس تنازعے کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ سیستان و بلوچستان جیسے علاقے، جو ہلمند اور ہریرود کے پانی پر انحصار کرتے ہیں، پانی کی کمی سے شدید متاثر ہیں۔ ایران کو خدشہ ہے کہ افغانستان میں بننے والے ڈیم اس بحران کو مزید گہرا کر سکتے ہیں۔

    تنازع کا ممکنہ حل

    ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کو اس مسئلے پر مذاکرات کے ذریعے اتفاق رائے تک پہنچنا چاہیے۔ آبی وسائل کے منصفانہ استعمال اور ماحولیات کے اصولوں کو مدنظر رکھ کر حل نکالنا ہی اس تنازع کا پائیدار حل ہو سکتا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleایشیا پیسفک کے 10 بہترین بینکوں میں پاکستان کے چار بینک شامل
    Next Article جماعت اسلامی نے 17 جنوری کو بجلی کی قیمتوں کےخلاف احتجاجی تحریک کا اعلان کردیا
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    پاکستان کی آزاد اور خودمختار پالیسی کی عالمی سطح پر تصدیق، روسی صدر نے بھارت کو آئینہ دکھا دیا

    جون 5, 2026

    بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدہ، برطانوی پارلیمان میں بحث، انسانی حقوق سے متعلق تشویش کا اظہار

    جون 4, 2026

    فوزیہ کوفی نے افغان طالبان رجیم کا بھیانک چہرہ بے نقاب کردیا

    جون 4, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    حکومت نے چھوٹے دکان داروں کے لیے فکس ٹیکس سکیم متعارف کرادی

    جون 5, 2026

    حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں کمی کا اعلان کردیا

    جون 5, 2026

    ملاکنڈ ڈویژن میں 50 ارب کی ترقیاتی سکیموں کی منسوخی حکومتی ناکامی ہے، عنایت اللہ خان

    جون 5, 2026

    صدرِ مملکت اور وزیراعظم کا پنجگور میں فتنۃ الہندوستان کے خلاف کامیاب کارروائی پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین

    جون 5, 2026

    پاکستان ماحولیاتی تنزلی کی انسانی اور معاشی قیمت ادا کر رہا ہے، اجتماعی عزم اور تعاون ان چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کا واحد حل ہے، وزیر اعظم

    جون 5, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.