Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    ہفتہ, اکتوبر 17, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • سرحد پار سے دراندازی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی, جنرل سید عامر رضا
    • پاکستان میں ایوی ایشن سکیورٹی: عالمی معیار سے ہم آہنگ بنانے کے لیے 12 ارب روپے کا منصوبہ
    • پارٹی رہنماؤں کے مفاد کے لیے پی ٹی آئی حکومت کا سکولوں سے متعلق قانون میں مجرمانہ ترمیم کا تہلکہ خیز انکشاف
    • پی ٹی آئی دور حکومت: خیبرپختونخوا کے محکمہ معدنیات میں 16 ارب روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کا انکشاف
    • گورنر پختونخوا کی جانب سے صوبہ کی پولیس کے شہدا اور زخمی اہلکاروں کے لیے ریلیف پیکج میں بڑا اضافہ
    • پولیس کی بروقت کارروائی، پشاور میں 11 کلوگرام وزنی پریشر ککر بم ناکارہ بنا دیا گیا
    • خیبرپختونخوا کے عوام کو اب پتا چلے گا ترقی کسے کہتے ہیں، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز
    • صوبے کے عوام خستہ حال سکولوں کی نشاندہی کریں، ممبر ایڈوائزری کونسل ثمر ہارون بلور کی اپیل
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • خاص خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » پشدان ڈیم تنازع، افغانستان اور ایران کے پانی کے حقوق کا سنگین مسئلہ
    افغانستان جنوری 9, 2025

    پشدان ڈیم تنازع، افغانستان اور ایران کے پانی کے حقوق کا سنگین مسئلہ

    Facebook Twitter Email
    Iran and Afghanistan Water Rights Clash
    ہریرود پر ایران اور افغانستان آمنے سامنے
    Share
    Facebook Twitter Email

    ایران اور افغانستان کے درمیان پانی کے حقوق کے مسئلے پر تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے، خاص طور پر دریائے ہریرود پر بننے والے پشدان ڈیم کے معاملے پر۔ ایران نے اس منصوبے پر سخت اعتراض کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اس سے ایران کے آبی حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہ تنازع نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو متاثر کر رہا ہے بلکہ خطے میں پانی کے وسائل کے استعمال پر وسیع تر بحث کا حصہ بھی بن گیا ہے۔

    ایران کے اعتراضات کی نوعیت

    ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے جمعے کے روز افغانستان کی جانب سے پشدان ڈیم کے منصوبے پر شدید احتجاج کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ ایران کے پانی کے بہاؤ کو کم کر سکتا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان موجود معاہدوں اور روایتی اصولوں کی خلاف ورزی ہوگا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے پانی کے حقوق کا احترام کیے بغیر آبی وسائل کا استحصال قابل قبول نہیں ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ معاہدوں اور ہمسائیگی کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس مسئلے کا حل نکالا جانا چاہیے۔”

    پشدان ڈیم

    پشدان ڈیم افغانستان کے صوبے ہرات میں دریائے ہریرود پر تعمیر کیا جا رہا ہے۔ اقتصادی امور کے نائب افغان وزیر اعظم عبدالغنی برادر کے مطابق یہ منصوبہ تکمیل کے قریب ہے اور پانی ذخیرہ کرنا شروع کر دیا گیا ہے۔

    یہ ڈیم54 ملین کیوبک میٹر پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔13 ہزار ہیکٹر زرعی زمین کو سیراب کرے گا۔2 میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا۔برادر نے اسے ہرات کے لیے ایک اہم اور اسٹریٹیجک منصوبہ قرار دیا، جو خطے کی زرعی اور توانائی ضروریات کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔

    پانی کے تنازع کی تاریخی پس منظر

    ایران اور افغانستان کے درمیان پانی کے حقوق کا تنازع نیا نہیں ہے۔ دونوں ممالک 900 کلومیٹر سے زیادہ طویل سرحد رکھتے ہیں، اور پانی کے وسائل کی تقسیم طویل عرصے سے دونوں کے درمیان کشیدگی کا سبب رہی ہے۔

    دریائے ہریرود

    دریائے ہریرود، جسے ہری اور تیجن کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، وسطی افغانستان سے نکل کر ترکمانستان کے پہاڑوں تک بہتا ہے اور ایران کے ساتھ سرحدی علاقے سے گزرتا ہے۔ اس دریا کے پانی کا بڑا حصہ افغانستان اور ایران کے درمیان مشترک ہے، جس کی وجہ سے دونوں ممالک اس پر اپنے حقوق کا دعویٰ کرتے ہیں۔

    دریائے ہلمند

    دریائے ہلمند افغانستان کا سب سے طویل دریا ہے، جس کی لمبائی 1,150 کلومیٹر ہے۔ یہ دریا افغانستان کے جنوبی اور جنوب مغربی علاقوں کے لیے زندگی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ دریائے ہلمند ایران کے سیستان و بلوچستان کے علاقے میں موجود ہامون جھیل کو پانی فراہم کرتا ہے، جو ایران کے لیے بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

    1973 کا آبی معاہدہ

    1973 میں ایران اور افغانستان نے دریائے ہلمند کے پانی کی تقسیم کے لیے ایک معاہدہ کیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت افغانستان نے ایران کو سالانہ 850 ملین کیوبک میٹر پانی فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

    لیکن حالیہ سالوں میں افغانستان میں نئے ڈیم منصوبے، خاص طور پر پشدان اور کمال خان ڈیم، ایران کے لیے تشویش کا باعث بنے ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں سے ایران کے پانی کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں، خاص طور پر سیستان و بلوچستان کے خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں۔

    افغانستان کا مؤقف

    افغانستان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے آبی وسائل کے استعمال کا حق رکھتا ہے۔ عبدالغنی برادر نے کہا کہ پشدان ڈیم نہ صرف زراعت کو ترقی دے گا بلکہ علاقے میں توانائی کے مسائل بھی حل کرے گا۔ افغانستان اس بات پر زور دیتا ہے کہ وہ کسی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کر رہا اور اپنے وسائل کو اپنے عوام کے فائدے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

    ایران کی تشویش کیوں بڑھ رہی ہے؟

    ایران میں بڑھتی ہوئی خشک سالی اور آبی قلت کے مسائل نے اس تنازعے کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ سیستان و بلوچستان جیسے علاقے، جو ہلمند اور ہریرود کے پانی پر انحصار کرتے ہیں، پانی کی کمی سے شدید متاثر ہیں۔ ایران کو خدشہ ہے کہ افغانستان میں بننے والے ڈیم اس بحران کو مزید گہرا کر سکتے ہیں۔

    تنازع کا ممکنہ حل

    ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کو اس مسئلے پر مذاکرات کے ذریعے اتفاق رائے تک پہنچنا چاہیے۔ آبی وسائل کے منصفانہ استعمال اور ماحولیات کے اصولوں کو مدنظر رکھ کر حل نکالنا ہی اس تنازع کا پائیدار حل ہو سکتا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleایشیا پیسفک کے 10 بہترین بینکوں میں پاکستان کے چار بینک شامل
    Next Article جماعت اسلامی نے 17 جنوری کو بجلی کی قیمتوں کےخلاف احتجاجی تحریک کا اعلان کردیا
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    افغانستان سے ایران منشیات سمگلنگ: طالبان رجیم میں چار گنا تشویشناک اضافہ

    اکتوبر 15, 2026

    پاک فوج کی ٹیم نے کیمبرین پٹرول 2026 میں سلور میڈل جیت لیا

    اکتوبر 14, 2026

    وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی آئی ایف سی کے نائب صدر سے ملاقات، ریکوڈک منصوبے پر تعاون کا جائزہ

    اکتوبر 13, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    سرحد پار سے دراندازی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی, جنرل سید عامر رضا

    اکتوبر 17, 2026

    پاکستان میں ایوی ایشن سکیورٹی: عالمی معیار سے ہم آہنگ بنانے کے لیے 12 ارب روپے کا منصوبہ

    اکتوبر 16, 2026

    پارٹی رہنماؤں کے مفاد کے لیے پی ٹی آئی حکومت کا سکولوں سے متعلق قانون میں مجرمانہ ترمیم کا تہلکہ خیز انکشاف

    اکتوبر 16, 2026

    پی ٹی آئی دور حکومت: خیبرپختونخوا کے محکمہ معدنیات میں 16 ارب روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کا انکشاف

    اکتوبر 16, 2026

    گورنر پختونخوا کی جانب سے صوبہ کی پولیس کے شہدا اور زخمی اہلکاروں کے لیے ریلیف پیکج میں بڑا اضافہ

    اکتوبر 16, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.