Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, ستمبر 23, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • رہنما تحریک انصاف جنید اکبر کےخلاف پیکا ایکٹ کے تحت اسلام آباد میں مقدمہ درج
    • سکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 19 دہشت گرد ہلاک، صوبیدار شہید
    • خیبرپختونخوا کابینہ نے پولیس ایکٹ میں ترمیم کی منظوری دے دی
    • لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود مکہ دفاعی معاہدے کے پہلے سیکرٹری جنرل مقرر
    • پاکستانی حدود میں داخلے کی کوشش کرنے والے افغان طالبان کے 8 ڈرونز تباہ
    • پنجاب یونیورسٹی میں چار روزہ جینوم ایڈیٹنگ کروپ بائیوٹیکنالوجی تربیتی پروگرام کا افتتاح
    • بلوچستان کے علاقے ساران تنگی میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 6 دہشتگرد ہلاک
    • کراچی پورٹ کی عالمی شپنگ رابطہ انڈیکس میں تاریخی کامیابی
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » پشدان ڈیم تنازع، افغانستان اور ایران کے پانی کے حقوق کا سنگین مسئلہ
    افغانستان جنوری 9, 2025

    پشدان ڈیم تنازع، افغانستان اور ایران کے پانی کے حقوق کا سنگین مسئلہ

    Facebook Twitter Email
    Iran and Afghanistan Water Rights Clash
    ہریرود پر ایران اور افغانستان آمنے سامنے
    Share
    Facebook Twitter Email

    ایران اور افغانستان کے درمیان پانی کے حقوق کے مسئلے پر تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے، خاص طور پر دریائے ہریرود پر بننے والے پشدان ڈیم کے معاملے پر۔ ایران نے اس منصوبے پر سخت اعتراض کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اس سے ایران کے آبی حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہ تنازع نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو متاثر کر رہا ہے بلکہ خطے میں پانی کے وسائل کے استعمال پر وسیع تر بحث کا حصہ بھی بن گیا ہے۔

    ایران کے اعتراضات کی نوعیت

    ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے جمعے کے روز افغانستان کی جانب سے پشدان ڈیم کے منصوبے پر شدید احتجاج کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ ایران کے پانی کے بہاؤ کو کم کر سکتا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان موجود معاہدوں اور روایتی اصولوں کی خلاف ورزی ہوگا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے پانی کے حقوق کا احترام کیے بغیر آبی وسائل کا استحصال قابل قبول نہیں ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ معاہدوں اور ہمسائیگی کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس مسئلے کا حل نکالا جانا چاہیے۔”

    پشدان ڈیم

    پشدان ڈیم افغانستان کے صوبے ہرات میں دریائے ہریرود پر تعمیر کیا جا رہا ہے۔ اقتصادی امور کے نائب افغان وزیر اعظم عبدالغنی برادر کے مطابق یہ منصوبہ تکمیل کے قریب ہے اور پانی ذخیرہ کرنا شروع کر دیا گیا ہے۔

    یہ ڈیم54 ملین کیوبک میٹر پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔13 ہزار ہیکٹر زرعی زمین کو سیراب کرے گا۔2 میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا۔برادر نے اسے ہرات کے لیے ایک اہم اور اسٹریٹیجک منصوبہ قرار دیا، جو خطے کی زرعی اور توانائی ضروریات کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔

    پانی کے تنازع کی تاریخی پس منظر

    ایران اور افغانستان کے درمیان پانی کے حقوق کا تنازع نیا نہیں ہے۔ دونوں ممالک 900 کلومیٹر سے زیادہ طویل سرحد رکھتے ہیں، اور پانی کے وسائل کی تقسیم طویل عرصے سے دونوں کے درمیان کشیدگی کا سبب رہی ہے۔

    دریائے ہریرود

    دریائے ہریرود، جسے ہری اور تیجن کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، وسطی افغانستان سے نکل کر ترکمانستان کے پہاڑوں تک بہتا ہے اور ایران کے ساتھ سرحدی علاقے سے گزرتا ہے۔ اس دریا کے پانی کا بڑا حصہ افغانستان اور ایران کے درمیان مشترک ہے، جس کی وجہ سے دونوں ممالک اس پر اپنے حقوق کا دعویٰ کرتے ہیں۔

    دریائے ہلمند

    دریائے ہلمند افغانستان کا سب سے طویل دریا ہے، جس کی لمبائی 1,150 کلومیٹر ہے۔ یہ دریا افغانستان کے جنوبی اور جنوب مغربی علاقوں کے لیے زندگی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ دریائے ہلمند ایران کے سیستان و بلوچستان کے علاقے میں موجود ہامون جھیل کو پانی فراہم کرتا ہے، جو ایران کے لیے بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

    1973 کا آبی معاہدہ

    1973 میں ایران اور افغانستان نے دریائے ہلمند کے پانی کی تقسیم کے لیے ایک معاہدہ کیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت افغانستان نے ایران کو سالانہ 850 ملین کیوبک میٹر پانی فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

    لیکن حالیہ سالوں میں افغانستان میں نئے ڈیم منصوبے، خاص طور پر پشدان اور کمال خان ڈیم، ایران کے لیے تشویش کا باعث بنے ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں سے ایران کے پانی کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں، خاص طور پر سیستان و بلوچستان کے خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں۔

    افغانستان کا مؤقف

    افغانستان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے آبی وسائل کے استعمال کا حق رکھتا ہے۔ عبدالغنی برادر نے کہا کہ پشدان ڈیم نہ صرف زراعت کو ترقی دے گا بلکہ علاقے میں توانائی کے مسائل بھی حل کرے گا۔ افغانستان اس بات پر زور دیتا ہے کہ وہ کسی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کر رہا اور اپنے وسائل کو اپنے عوام کے فائدے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

    ایران کی تشویش کیوں بڑھ رہی ہے؟

    ایران میں بڑھتی ہوئی خشک سالی اور آبی قلت کے مسائل نے اس تنازعے کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ سیستان و بلوچستان جیسے علاقے، جو ہلمند اور ہریرود کے پانی پر انحصار کرتے ہیں، پانی کی کمی سے شدید متاثر ہیں۔ ایران کو خدشہ ہے کہ افغانستان میں بننے والے ڈیم اس بحران کو مزید گہرا کر سکتے ہیں۔

    تنازع کا ممکنہ حل

    ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کو اس مسئلے پر مذاکرات کے ذریعے اتفاق رائے تک پہنچنا چاہیے۔ آبی وسائل کے منصفانہ استعمال اور ماحولیات کے اصولوں کو مدنظر رکھ کر حل نکالنا ہی اس تنازع کا پائیدار حل ہو سکتا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleایشیا پیسفک کے 10 بہترین بینکوں میں پاکستان کے چار بینک شامل
    Next Article جماعت اسلامی نے 17 جنوری کو بجلی کی قیمتوں کےخلاف احتجاجی تحریک کا اعلان کردیا
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود مکہ دفاعی معاہدے کے پہلے سیکرٹری جنرل مقرر

    ستمبر 23, 2026

    جب عوامی آوازیں دبتی ہیں، تو ریاستیں لرزتی ہیں. تحریر: قریش خٹک

    ستمبر 22, 2026

    کوہاٹ حملے میں ملوث ایک خودکش بمبار افغان شهری نکلا، افغانستان کی جانب سے دہشتگردی کے واقعے کی مذمت

    ستمبر 19, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    رہنما تحریک انصاف جنید اکبر کےخلاف پیکا ایکٹ کے تحت اسلام آباد میں مقدمہ درج

    ستمبر 23, 2026

    سکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 19 دہشت گرد ہلاک، صوبیدار شہید

    ستمبر 23, 2026

    خیبرپختونخوا کابینہ نے پولیس ایکٹ میں ترمیم کی منظوری دے دی

    ستمبر 23, 2026

    لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود مکہ دفاعی معاہدے کے پہلے سیکرٹری جنرل مقرر

    ستمبر 23, 2026

    پاکستانی حدود میں داخلے کی کوشش کرنے والے افغان طالبان کے 8 ڈرونز تباہ

    ستمبر 23, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.