Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, ستمبر 17, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • کرک پولیس مقابلہ، ظفران شہید کیس کا مرکزی نامزد اشتہاری ملزم ہلاک
    • تحریک انصاف لانگ مارچ کیلئے اسلام آباد نہیں پہنچے گی،گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی
    • فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی صورتحال پر غور
    • لاہور ہائیکورٹ نے محمد رضوان کی این سی سی آئی اے نوٹسز کیخلاف درخواست مسترد کردی
    • لندن میں پاکستان انویسٹمنٹ راؤنڈ ٹیبل: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا معاشی اصلاحات پر خطاب
    • ازبک میڈیا وفد کا وزارت خارجہ کا دورہ، پاک ازبک تعلقات پر بریفنگ
    • مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کی کوشش، پاکستانی دفترِ خارجہ کی شدید مذمت
    • ہونہار طلبہ کو میرٹ پر معیاری اور جدید تعلیم کی فراہمی حکومت کی اوّلین ترجیح ہے، وزیراعظم شہباز شریف
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » پشدان ڈیم تنازع، افغانستان اور ایران کے پانی کے حقوق کا سنگین مسئلہ
    افغانستان جنوری 9, 2025

    پشدان ڈیم تنازع، افغانستان اور ایران کے پانی کے حقوق کا سنگین مسئلہ

    Facebook Twitter Email
    Iran and Afghanistan Water Rights Clash
    ہریرود پر ایران اور افغانستان آمنے سامنے
    Share
    Facebook Twitter Email

    ایران اور افغانستان کے درمیان پانی کے حقوق کے مسئلے پر تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے، خاص طور پر دریائے ہریرود پر بننے والے پشدان ڈیم کے معاملے پر۔ ایران نے اس منصوبے پر سخت اعتراض کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اس سے ایران کے آبی حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہ تنازع نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو متاثر کر رہا ہے بلکہ خطے میں پانی کے وسائل کے استعمال پر وسیع تر بحث کا حصہ بھی بن گیا ہے۔

    ایران کے اعتراضات کی نوعیت

    ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے جمعے کے روز افغانستان کی جانب سے پشدان ڈیم کے منصوبے پر شدید احتجاج کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ ایران کے پانی کے بہاؤ کو کم کر سکتا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان موجود معاہدوں اور روایتی اصولوں کی خلاف ورزی ہوگا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے پانی کے حقوق کا احترام کیے بغیر آبی وسائل کا استحصال قابل قبول نہیں ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ معاہدوں اور ہمسائیگی کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس مسئلے کا حل نکالا جانا چاہیے۔”

    پشدان ڈیم

    پشدان ڈیم افغانستان کے صوبے ہرات میں دریائے ہریرود پر تعمیر کیا جا رہا ہے۔ اقتصادی امور کے نائب افغان وزیر اعظم عبدالغنی برادر کے مطابق یہ منصوبہ تکمیل کے قریب ہے اور پانی ذخیرہ کرنا شروع کر دیا گیا ہے۔

    یہ ڈیم54 ملین کیوبک میٹر پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔13 ہزار ہیکٹر زرعی زمین کو سیراب کرے گا۔2 میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا۔برادر نے اسے ہرات کے لیے ایک اہم اور اسٹریٹیجک منصوبہ قرار دیا، جو خطے کی زرعی اور توانائی ضروریات کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔

    پانی کے تنازع کی تاریخی پس منظر

    ایران اور افغانستان کے درمیان پانی کے حقوق کا تنازع نیا نہیں ہے۔ دونوں ممالک 900 کلومیٹر سے زیادہ طویل سرحد رکھتے ہیں، اور پانی کے وسائل کی تقسیم طویل عرصے سے دونوں کے درمیان کشیدگی کا سبب رہی ہے۔

    دریائے ہریرود

    دریائے ہریرود، جسے ہری اور تیجن کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، وسطی افغانستان سے نکل کر ترکمانستان کے پہاڑوں تک بہتا ہے اور ایران کے ساتھ سرحدی علاقے سے گزرتا ہے۔ اس دریا کے پانی کا بڑا حصہ افغانستان اور ایران کے درمیان مشترک ہے، جس کی وجہ سے دونوں ممالک اس پر اپنے حقوق کا دعویٰ کرتے ہیں۔

    دریائے ہلمند

    دریائے ہلمند افغانستان کا سب سے طویل دریا ہے، جس کی لمبائی 1,150 کلومیٹر ہے۔ یہ دریا افغانستان کے جنوبی اور جنوب مغربی علاقوں کے لیے زندگی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ دریائے ہلمند ایران کے سیستان و بلوچستان کے علاقے میں موجود ہامون جھیل کو پانی فراہم کرتا ہے، جو ایران کے لیے بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

    1973 کا آبی معاہدہ

    1973 میں ایران اور افغانستان نے دریائے ہلمند کے پانی کی تقسیم کے لیے ایک معاہدہ کیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت افغانستان نے ایران کو سالانہ 850 ملین کیوبک میٹر پانی فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

    لیکن حالیہ سالوں میں افغانستان میں نئے ڈیم منصوبے، خاص طور پر پشدان اور کمال خان ڈیم، ایران کے لیے تشویش کا باعث بنے ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں سے ایران کے پانی کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں، خاص طور پر سیستان و بلوچستان کے خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں۔

    افغانستان کا مؤقف

    افغانستان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے آبی وسائل کے استعمال کا حق رکھتا ہے۔ عبدالغنی برادر نے کہا کہ پشدان ڈیم نہ صرف زراعت کو ترقی دے گا بلکہ علاقے میں توانائی کے مسائل بھی حل کرے گا۔ افغانستان اس بات پر زور دیتا ہے کہ وہ کسی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کر رہا اور اپنے وسائل کو اپنے عوام کے فائدے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

    ایران کی تشویش کیوں بڑھ رہی ہے؟

    ایران میں بڑھتی ہوئی خشک سالی اور آبی قلت کے مسائل نے اس تنازعے کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ سیستان و بلوچستان جیسے علاقے، جو ہلمند اور ہریرود کے پانی پر انحصار کرتے ہیں، پانی کی کمی سے شدید متاثر ہیں۔ ایران کو خدشہ ہے کہ افغانستان میں بننے والے ڈیم اس بحران کو مزید گہرا کر سکتے ہیں۔

    تنازع کا ممکنہ حل

    ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کو اس مسئلے پر مذاکرات کے ذریعے اتفاق رائے تک پہنچنا چاہیے۔ آبی وسائل کے منصفانہ استعمال اور ماحولیات کے اصولوں کو مدنظر رکھ کر حل نکالنا ہی اس تنازع کا پائیدار حل ہو سکتا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleایشیا پیسفک کے 10 بہترین بینکوں میں پاکستان کے چار بینک شامل
    Next Article جماعت اسلامی نے 17 جنوری کو بجلی کی قیمتوں کےخلاف احتجاجی تحریک کا اعلان کردیا
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی صورتحال پر غور

    ستمبر 17, 2026

    لندن میں پاکستان انویسٹمنٹ راؤنڈ ٹیبل: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا معاشی اصلاحات پر خطاب

    ستمبر 17, 2026

    ازبک میڈیا وفد کا وزارت خارجہ کا دورہ، پاک ازبک تعلقات پر بریفنگ

    ستمبر 17, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    کرک پولیس مقابلہ، ظفران شہید کیس کا مرکزی نامزد اشتہاری ملزم ہلاک

    ستمبر 17, 2026

    تحریک انصاف لانگ مارچ کیلئے اسلام آباد نہیں پہنچے گی،گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی

    ستمبر 17, 2026

    فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی صورتحال پر غور

    ستمبر 17, 2026

    لاہور ہائیکورٹ نے محمد رضوان کی این سی سی آئی اے نوٹسز کیخلاف درخواست مسترد کردی

    ستمبر 17, 2026

    لندن میں پاکستان انویسٹمنٹ راؤنڈ ٹیبل: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا معاشی اصلاحات پر خطاب

    ستمبر 17, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.