Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, ستمبر 8, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پاسکو اور یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش کے عمل میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرصدارت اجلاس
    • شزہ فاطمہ خواجہ کی LEAP 2026 میں شرکت، ٹیک ڈیسٹنیشن پاکستان پویلین کا افتتاح
    • پاک چین میڈیا تعاون ایشیا بحرالکاہل میں مشترکہ خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے،ڈاکٹر شذرہ منصب علی
    • سٹاک ایکسچینج: عام شہریوں کی شرکت سے معاشی ترقی تیز ہو سکتی ہے، یوسف رضا گیلانی
    • ویمنز ایشیا کپ: آئی سی سی نے قومی ٹیم کی کپتان فاطمہ ثناء پرجرمانہ عائد کردیا
    • خیبر پختونخوا میں عدالتوں کے ایک دن کے بائیکاٹ سےعوام کے 12 کروڑ روپے ضائع ہوتے ہیں، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ
    • بھارت کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے حصول کیلئے اپنے وعدے پورے کرے، پاکستان
    • مادرِ وطن کا دفاع مقدس امانت ہے، ثابت قدمی سے نبھاتے رہیں گے: ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » معاشی استحکام کے علاوہ دیگر مسائل اب بھی توجہ طلب ہیں !
    اہم خبریں جنوری 25, 2025

    معاشی استحکام کے علاوہ دیگر مسائل اب بھی توجہ طلب ہیں !

    Facebook Twitter Email
    Government claims of economic stability and ground realities
    ان حالات میں اگر عمران خان کی حکومت ہوتی تو ملک ضرور ڈیفالٹ کرجاتا ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد(ارشد اقبال) پاکستان میں گزشتہ کچھ عرصے سے  وفاقی حکومت کی جانب سے معاشی بہتری کیلئے جو اقدامات اٹھائے گئے ہیں وہ یقیناَ َ قابل ستائش ہیں ، انہی اقدامات کی وجہ سے شرح سود میں بڑی  کمی دیکھی گئی ہے اور مزید کمی بھی متوقع ہے ۔ابھی بہت پرانی بات نہیں پی ٹی آئی دور کے بعد کی یعنی پی ڈی ایم دور کی  بات ہے کہ ملکی معیشت کے ڈیفالٹ ہونے کی باتیں ہو رہی تھیں ۔ اور محسوس بھی ایسے ہی ہو رہا تھا ۔مہنگائی روزانہ کی بنیاد پر بڑھ رہی تھی ، بازاروں میں ایک چیز کی قیمت صبح ایک اور شام کو دوسری ہوتی تھی ۔غریب اور متوسظ طبقے کے لوگوں کی یہ حالت تھی کہ ان  کو سمجھ ہی  نہیں آ رہا تھا کہ گھر کے اخراجات کیسے پورے کریں ۔

    اس تمام تر صورتحال سے نکلنا تو خیر ناممکن سی بات تھی لیکن ایک بد ترین صورتحال کا مقابلہ کرنا اور پھر تیزی سے بہتری کی جانب سفر کرنا بھی یقیناَ َ  کوئی آسان بات ہرگز نہ تھی۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ اس دور میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی پارٹی نے جلتے پر تیل چھڑکنے کا جو کردار نبھایا ہے وہ بھی تاریخ کا ایک سیاہ بات ہے ۔شہبازشریف حکومت ملکی بہتری کی کوششیں کرتی رہیں اور عمران خان اور ان کی پارٹی ملکی معیشت اور حکومت کی ناکامی کیلئے مختلف حربے آزماتے رہے ۔

    ان سب کے باوجود شہباز سپیڈ سامنے آیا اور معجزہ ہوگیا ۔جو کام شہبازشریف کی حکومت نے پی ڈی ایم کے دور میں اور پھر موجود حکومت میں کیا ہے اس کی مثال ملکی تاریخ میں نہیں ملتی ۔لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ملک کے تمام مسائل حل ہو چکے ہیں  اور اب ملک اور قوم کا کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔

    عالمی بینک کی جانب سے آئندہ 10 برس میں پاکستان میں 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان، سعودی عرب،آذر بائیجان،یو اے ای اور  کویت کی جانب سے پاکستان میں 27 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان، عمران خان کی حکومت میں چین نے سی پیک سے ہاتھ کھینچ لیا تھا، چین اب دوبارہ سی پیک فیز ٹو اور پانچ نئے کوریڈور پر آمادہ ہوچکا ہے، سعودی کمپنیوں کی بلوچستان کے ریکوڈک منصوبے میں الگ سرمایہ کاری اور اس طرح دیگر ممالک کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرنا بلاشبہ ملکی معیشت کیلئے  مثبت باتیں ہیں لیکن حکومت کو اب ان تمام منصوبوں سمیت عوام کے بنیادی مسائل پر بھی توجہ دینا ہوگی ۔

    بظاہر تو ملک کی معاشی صورتحال بہتر نظر آرہی ہے لیکن  عوام آج بھی بنیادی اشیا خریدنے سے قاصر ہیں ، مطلب یہ کہ  وفاقی حکومت اور وزرا جو صورتحال معیشت کا بیان کر رہے ہیں وہ زمینی حقائق کے مطابق نہیں ہے ، اس کیلئے حکومت کو توجہ دینا ہوگی ۔لوگ آج بھی بنیادی ضرورتوں کیلئے ترس رہے ہیں بالخصوص خیبرپختونخوا کے لو گ سخت سردی میں بھی بجلی کیلئے ترستے رہے ،وفاقی حکومت کو صوبہ خیبرپختونخوا پر بھی توجہ دینی چاہیے کہ صوبائی حکومت تو بالکل بھی اس طرف توجہ نہیں دے رہی ۔

    صرف یہی نہیں پنجاب اور سندھ کے مقابلے میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب ہو چکی ہے ، وفاقی حکومت کو اس معاملے پر بھی زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے ، ایک اور اہم مسئلہ سیاسی عدم استحکام کا بھی ہے ، سیاسی استحکام نہیں ہوگا تو تو معاشی استحکام بھی دیرپا برقرار رہنا ممکن نہیں ہوگا ، یہ مسائل بھی اہم ہیں اور وفاقی اتحادی حکومت کو اب اس طرف بھی زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔

    تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ شہبازشریف نے بطور وزیراعظم ملک کیلئے بہت بڑی قربانی دی ہے اور دے رہے ہیں  لیکن اب مزید قربانی دینی ہے اور ملک اور عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے ہیں ۔ ابھی بہت سارے مسائل ایسے جو حل طلب ہیں اوراس طرف  توجہ کی بھی اشد ضرورت ہے ۔ابھی گزشتہ روز چینی کی قیمت میں فی کلو 20 روپے اضافہ کیا گیا، پرائس کمیٹیاں یا تو موجود ہی نہیں یا پھر غیر فعال ہیں ، ابھی ایک ماہ بعد رمضان کا مہینہ شروع ہوگا اگر یہ صورتحال اسی طرح برقرار رہی تو عوام  تو پہلے سے مشکلات کا شکار ہیں پھر حکومت کو بھی حالات قابو کرنا آسان نہ ہوگا ۔

    یقین کیجئے جس طرح پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن  نے ملک کی بہتری کیلئے کام کیا ہے اور کر رہے ہیں ، ان حالات میں اگر عمران خان کی حکومت ہوتی تو ملک ضرور ڈیفالٹ کرجاتا ،اس کی وجہ یہ ہے کہ عمران خان سیاسی قیادت کو ساتھ چلنے پر یقین نہیں رکھتے اور ملکی مسائل اکیلے حل کرنا کسی کے بھی بس کی بات نہیں ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleخیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیاں ، 30 دہشت گرد ہلاک،8 زخمی
    Next Article ملک کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں سے آہنی ہاتھوں نمٹا جائے گا، وزیرداخلہ محسن نقوی
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    پاسکو اور یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش کے عمل میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرصدارت اجلاس

    ستمبر 7, 2026

    شزہ فاطمہ خواجہ کی LEAP 2026 میں شرکت، ٹیک ڈیسٹنیشن پاکستان پویلین کا افتتاح

    ستمبر 7, 2026

    پاک چین میڈیا تعاون ایشیا بحرالکاہل میں مشترکہ خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے،ڈاکٹر شذرہ منصب علی

    ستمبر 7, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پاسکو اور یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش کے عمل میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرصدارت اجلاس

    ستمبر 7, 2026

    شزہ فاطمہ خواجہ کی LEAP 2026 میں شرکت، ٹیک ڈیسٹنیشن پاکستان پویلین کا افتتاح

    ستمبر 7, 2026

    پاک چین میڈیا تعاون ایشیا بحرالکاہل میں مشترکہ خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے،ڈاکٹر شذرہ منصب علی

    ستمبر 7, 2026

    سٹاک ایکسچینج: عام شہریوں کی شرکت سے معاشی ترقی تیز ہو سکتی ہے، یوسف رضا گیلانی

    ستمبر 7, 2026

    ویمنز ایشیا کپ: آئی سی سی نے قومی ٹیم کی کپتان فاطمہ ثناء پرجرمانہ عائد کردیا

    ستمبر 7, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.