Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, مارچ 17, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • افغانستان میں دہلی کی مداخلت اور پاکستان.. تحریر: ڈاکٹر حمیرا عنبرین
    • کراچی میں سی ٹی ڈی کی بڑی کامیابی: بی ایل اے کے اہم کمانڈر سمیت چار دہشتگرد ہلاک
    • ایران کا آپریشن وعدہ صادق 4، اسرائیل اور امریکی اہداف پر حملوں کی نئی لہر
    • آپریشن غضب للحق، پاک افواج کے افغانستان میں کامیاب فضائی حملے جاری ، کابل میں ایمونیشن اور ٹیکنیکل انفراسٹرکچر تباہ
    • تیمرگرہ کے صحافیوں کا احتجاجی مظاہرہ، محمد اسرار پر حملے اور صحافیوں کو دھمکیوں کی شدید مذمت
    • بلوچستان میں امن کے قيام کیلئے فیڈرل کانسٹیبلری کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ
    • افغان طالبان حکومت کے ڈپٹی ترجمان کا بیان اپنی ہولناک کارروائیوں کو چھپانے کی ناکام کوشش ہے: وزارت اطلاعات
    • پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر اور سپلائی کی صورتحال تسلی بخش، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اجلاس
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » موسمیاتی پیشگوئی کا نظام، 188 ملین ڈالر کی عالمی امداد بیوروکریسی کی نذر
    اہم خبریں

    موسمیاتی پیشگوئی کا نظام، 188 ملین ڈالر کی عالمی امداد بیوروکریسی کی نذر

    اگست 17, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Wasted Millions, Missed Warnings
    Forecasting Failure: $188M Lost to Red Tape
    Share
    Facebook Twitter Email

    ہم شاید دنیا کی اُن چند اقوام میں شامل ہیں جو ہر سال ایک ہی آزمائش سے گزرتی ہیں، ایک ہی حادثے کو سہتی ہیں اور پھر بھی سبق نہیں سیکھتیں سیلاب ہمارے لیے بلکل بھی اجنبی نہیں۔ ہر سال بارشیں آتی ہیں، ندیاں اور دریا بےقابو ہوتے ہیں، بستیاں ڈوب جاتی ہیں، لاکھوں افراد بے گھر ہوتے ہیں اور اربوں کھربوں کا نقصان ہوتا ہے۔ چند دن میڈیا کی شہ سرخیوں میں یہ کہانی زندہ رہتی ہے، پھر رفتہ رفتہ غائب ہو جاتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس شور شرابے کے بعد ہم نے کبھی یہ سوچا کہ اگلی بار یہ تباہی کیسے روکی جا سکتی ہے؟
    جون 2020 کی ایک صبح پاکستان اور عالمی بینک کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان کو 188 ملین ڈالر کی گرانٹ دی گئی۔ خواب یہ تھا کہ ایک ایسا جدید نظام بنایا جائے جو نہ صرف موسم کی درست پیشگوئی کرے بلکہ ہمیں آنے والے سیلابوں اور طوفانوں سے پہلے خبردار کر سکے۔ اُس وقت کے وزیراعظم کے مشیر برائے ماحولیاتی تبدیلی، ملک امین اسلم نے اس منصوبے پر دستخط کیے۔ یہ منصوبہ پاکستان ہائیڈرومیٹ اینڈ ایکو سسٹم ریسٹوریشن سروسز پراجیکٹ کہلاتا تھا منصوبے کے دو بڑے حصے تھے
    پہلا حصہ محکمہ موسمیات کو جدید خطوط پر استوار کرنا۔ نئے رڈار نصب کرنا، خودکار موسمی اسٹیشن لگانا، ڈیٹا کے تجزیے کے لیے جدید نظام لانا، اور محکمہ موسمیات کے عملے کو تربیت دینا تاکہ وہ عوام کو بروقت اور درست اطلاعات فراہم کر سکیں
    دوسرا حصہ قدرتی طریقوں پر مبنی اقدامات اس میں جنگلات کی بحالی، نئے درخت لگانے، آبی ذخائر کو محفوظ کرنے اور زمین کو اس طرح بہتر بنانے کے منصوبے شامل تھے کہ وہ بارش اور سیلاب کے اثرات کو اپنے اندر جذب کر سکیں۔
    یہ منصوبہ بظاہر ایک خواب تھا، لیکن خواب کا انجام کچھ اور ہی نکلا
    منصوبے کو بار بار دوبارہ تشکیل دیا گیا ابتدا میں ہی اس کے کئی اہم حصے نکال دیے گئے، جن میں موسم رڈار اور خودکار اسٹیشن شامل تھے یوں جس منصوبے کو ہماری حفاظت کے لیے بنیاد بننا تھا، اس کی بنیاد ہی کمزور کر دی گئی
    جب 2022 میں تباہ کن سیلاب آیا، تو یہ منصوبہ کسی کام نہ آ سکا۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے، ہزاروں زندگیاں ختم ہوئیں، اور معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا۔ اس وقت حکومت نے فوری ریلیف کے لیے اس منصوبے کے 150 ملین ڈالر ہنگامی امداد اور نقد رقوم (بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے) پر خرچ کر دیے۔ بے شک اس وقت یہ قدم ناگزیر تھا، لیکن اس کے نتیجے میں صوبے کا اصل مقصد — یعنی ایک جدید اور دیرپا نظام — مزید پیچھے چلا گیا۔
    پھر فنڈز میں کمی کر دی گئی 188 ملین ڈالر کم ہو کر 168 ملین ڈالر رہ گئے ظاہر ہے جب بجٹ کٹ جائے تو خواب بھی ادھورے رہ جاتے ہیں
    اس پر بیوروکریسی کی روایتی سست روی نے جلتی پر تیل کا کام کیا ایک ادارہ دوسرے ادارے کا انتظار کرتا رہا، فائلیں ایک میز سے دوسری میز تک گردش کرتی رہیں، اور وقت ہاتھ سے نکلتا گیا
    عالمی بینک نے اپنی رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ یہ منصوبہ باضابطہ طور پر دسمبر 2024 میں مکمل ہو چکا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کے کئی اہم اجزاء غائب ہیں۔ سب سے بڑھ کر عالمی بینک نے اس منصوبے کو “غیر تسلی بخش” قرار دیا۔ گویا پانچ سال کی محنت اور اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود ہم وہیں کھڑے ہیں جہاں سے چلے تھے۔
    سوال یہ ہے کہ ہم کب جاگیں گے؟ ہم کب اپنے مستقبل کو بچانے کے لیے پالیسی سطح پر سنجیدہ فیصلے کریں گے؟ اگر ہمارے پاس جدید موسمیاتی نظام موجود ہوتا تو 2022 کا سیلاب اتنی بڑی تباہی نہ لاتا۔ لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ہم حادثوں کو صرف خبروں اور سرخیوں تک محدود رکھتے ہیں، اُن سے سبق نہیں سیکھتے
    قدرت ہمیں بار بار خبردار کر رہی ہے، اور ہم بار بار اس کی آواز ان سنی کر دیتے ہیں
    دنیا آگے بڑھ رہی ہے، جدید نظام اپنا رہی ہے، اور ہم وہ کام بھی نہیں کر سکے جو زمانے نے کب کا کر لیا
    قدرت بار بار ہمیں متنبہ کر رہی ہے۔ سیلاب اور طوفان ہمیں جھنجھوڑ کر کہہ رہے ہیں
    اگر تم نے خود کو نہ بدلا تو میں بار بار آؤں گا
    یوں لگتا ہے جیسے ہماری اجتماعی سوچ پر یہ مصرعہ صادق آتا ہے
    ہم کو خبر نہیں تھی زمانہ کیا کہے گا
    ہم نے وہ کام کر دیا جو زمانہ نہ کر سکا

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleسیلاب متاثرین کے لیے پاک فوج کا امدادی مشن جاری
    Next Article بلوچستان میں یوم آزادی پر دہشت گردی کا منصوبہ ناکام، یونیورسٹی پروفیسر گرفتار
    Afzal Yousafzai
    • Website

    لکھاری صحافی اور مصنف ہیں ان کا ای میل ایڈریس afzalshahmian@gmail.comہے

    Related Posts

    کراچی میں سی ٹی ڈی کی بڑی کامیابی: بی ایل اے کے اہم کمانڈر سمیت چار دہشتگرد ہلاک

    مارچ 17, 2026

    ایران کا آپریشن وعدہ صادق 4، اسرائیل اور امریکی اہداف پر حملوں کی نئی لہر

    مارچ 17, 2026

    آپریشن غضب للحق، پاک افواج کے افغانستان میں کامیاب فضائی حملے جاری ، کابل میں ایمونیشن اور ٹیکنیکل انفراسٹرکچر تباہ

    مارچ 16, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    افغانستان میں دہلی کی مداخلت اور پاکستان.. تحریر: ڈاکٹر حمیرا عنبرین

    مارچ 17, 2026

    کراچی میں سی ٹی ڈی کی بڑی کامیابی: بی ایل اے کے اہم کمانڈر سمیت چار دہشتگرد ہلاک

    مارچ 17, 2026

    ایران کا آپریشن وعدہ صادق 4، اسرائیل اور امریکی اہداف پر حملوں کی نئی لہر

    مارچ 17, 2026

    آپریشن غضب للحق، پاک افواج کے افغانستان میں کامیاب فضائی حملے جاری ، کابل میں ایمونیشن اور ٹیکنیکل انفراسٹرکچر تباہ

    مارچ 16, 2026

    تیمرگرہ کے صحافیوں کا احتجاجی مظاہرہ، محمد اسرار پر حملے اور صحافیوں کو دھمکیوں کی شدید مذمت

    مارچ 16, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.