نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں کل 19 سے 22 اگست کے دوران لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے کے پیش نظر الرٹ جاری کردیا، این ڈی ایم اے کے مطابق پہاڑی علاقوں میں سفر کے دوران لینڈ سلائیڈنگ، پتھر گرنے یا ملبے کے بہاؤ کی صورت میں متاثرہ مقام سے محفوظ فاصلہ اختیار کریں اور انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کی ہدایات پر عمل کریں ۔
این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق کل سے 22 اگست تک ملاکنڈ، لوئر دیر، اپر دیر، شانگلہ، سوات، بٹگرام، آلائی، اپر و لوئر چترال، اپر و لوئر کوہستان، کولائی پالس، مانسہرہ اور گلیات کے پہاڑی علاقے لینڈ سلائیڈنگ کے حوالے سے حساس قرار دیے گئے ہیں ۔
این ڈی ایم اے الرٹ میں کہا گیا ہے کہ لینڈ سلائیڈنگ، پتھر گرنے اور ملبے کے بہاؤ کے باعث حساس پہاڑی سڑکوں پر ٹریفک کی روانی عارضی یا طویل دورانیے کے لیے متاثر ہونے جبکہ بعض مقامات پر سڑکیں بند ہونے کا خدشہ ہے ۔
این ڈی ایم اے نے این-45 بٹ خیلہ، چکدرہ، دیر، متکنی روڈ، این-45، ایس-4 اے اور ایس-16 دیر ویلیز، این-90، این-95 چکدرہ، مینگورہ، مدین، بحرین اور کالام سمیت آلائی، پوکل اور گنگوال روڈز کو خصوصی طور پر حساس قرار دیا ہے۔
الرٹ کے مطابق این-140 اور چترال، بونی، مستوج کوریڈور، این-45 دروش، لواری، چترال اور چترال، گرم چشمہ روڈ پر بھی لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے ۔
قراقرم ہائی وے پر داسو، کومیلہ اور سیو، پٹن، دوبیر اور جیجل جبکہ پالس اور کولائی تک رسائی کی سڑکوں کو بھی حساس قرار دیا گیا ہے، این-15 بالاکوٹ، کاغان اور ناران جبکہ ایبٹ آباد، گلیات اور تھنڈیانی روڈز پر بھی لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے کی نشاندہی کی گئی ہے۔
این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ لینڈ سلائیڈنگ اور پتھر گرنے کے واقعات سے سڑکوں، پلوں، حفاظتی دیواروں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے، ٹریفک میں خلل پڑنے اور دور دراز علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہونے کا خدشہ ہے، اچانک پہاڑی تودے گرنے اور ملبے کے بہاؤ سے مسافروں، ڈرائیوروں اور مقامی آبادی، خصوصاً پہاڑی ڈھلوانوں کے قریب آباد افراد کو براہ راست خطرہ لاحق ہوسکتا ہے ۔
این ای او سی نے متعلقہ ضلعی انتظامیہ اور اداروں کو حساس پہاڑی ڈھلوانوں کی مسلسل نگرانی، ہنگامی ٹیموں کی تیاری اور کسی بھی ممکنہ لینڈ سلائیڈنگ کی صورت میں فوری کارروائی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے، حساس سڑکوں پر رکاوٹوں سے نمٹنے کے لیے ضروری مشینری، ریسکیو وسائل اور متبادل انتظامات بھی پیشگی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے ۔
این ڈی ایم اے نے عوام اور مسافروں کو لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے سے دوچار پہاڑی علاقوں اور سڑکوں پر غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے، شہری سفر سے قبل موسم اور سڑکوں کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہی حاصل کریں اور متعلقہ اداروں کی جانب سے بند کی گئی سڑکوں پر سفر سے مکمل گریز کریں ۔
این ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ پہاڑی علاقوں میں سفر کے دوران لینڈ سلائیڈنگ، پتھر گرنے یا ملبے کے بہاؤ کی صورت میں متاثرہ مقام سے محفوظ فاصلہ اختیار کریں اور انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کی ہدایات پر عمل کریں ۔

