صوابی: سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ ملک میں اس وقت ڈنڈے کی حکومت قائم ہے اور ہم ظلم، جبر اور طاقت کے اس نظام کو کسی صورت تسلیم نہیں کرتے۔
صوابی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسد قیصر نے کہا کہ پی ٹی آئی کو صوبے میں حکومت کرنے نہیں دی جا رہی اور حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ ایک صوبے کا چیف ایگزیکٹو بھی اپنے سیاسی لیڈر سے ملاقات نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اس ملک کے سابق وزیراعظم ہیں اور جیل مینوئل اور آئین کے مطابق انہیں ملاقات کا حق ملنا چاہیے۔
اسد قیصر کا کہنا تھا کہ عمران خان کے ساتھ ہونے والا ظلم صرف ایک فرد کے ساتھ نہیں بلکہ پوری قوم کے ساتھ ہو رہا ہے۔ اگر اس ملک میں رہنا ہے تو آئین اور قانون کے مطابق چلنا ہوگا۔
اسد قیصر نے دعویٰ کیا کہ کراچی میں ایم کیو ایم کو نشستیں دلوائی گئیں جبکہ ہری پور میں پی ٹی آئی کے جیتے ہوئے امیدوار کو ہرا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگاتے تھے، انہی لوگوں نے ووٹ کے حق کو پامال کیا۔
تقریب سے خطاب میں اسد قیصر نے کہا کہ الیکشن کمیشن اور عدالتوں کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا گیا ہے اور ایسے حالات میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم جائیں تو کہاں جائیں۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ کیا علامہ اقبال نے ایسے پاکستان کا خواب دیکھا تھا؟ جہاں آئین، قانون اور عوامی رائے کی کوئی حیثیت نہ ہو۔

