فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک، فافن کی تازہ رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے سرکاری ادارے قانونی طور پر لازم معلومات میں سے صرف 48 فیصد معلومات عوام کے سامنے ازخود ظاہر کر رہے ہیں۔ یہ معلومات بلوچستان رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2021 کے تحت فراہم کرنا ضروری ہیں۔
فافن کے مطابق یہ جائزہ کاؤنٹرنگ ڈس انفارمیشن تھرو انفارمیشن مہم کے تحت کیا گیا، جس کا مقصد سرکاری اداروں میں شفافیت کو فروغ دینا اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔
رپورٹ میں بلوچستان کے 66 سرکاری اداروں کا جائزہ لیا گیا، جن میں سیکریٹریٹ، ملحقہ محکمے اور خودمختار ادارے شامل ہیں۔ جائزے میں انکشاف ہوا کہ خودمختار اداروں کی کارکردگی نسبتاً بہتر رہی، جنہوں نے اوسطاً 59 فیصد معلومات فراہم کیں، جبکہ ملحقہ محکموں نے 46 اور سیکریٹریٹ محکموں نے 44 فیصد معلومات ظاہر کیں۔
سیکریٹریٹ محکموں میں زراعت، اطلاعات، منصوبہ بندی و ترقی اور اربن پلاننگ ڈیپارٹمنٹس سب سے زیادہ شفاف قرار پائے۔ ملحقہ محکموں میں گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نمایاں رہیں، جبکہ خودمختار اداروں میں یونیورسٹی آف تربت اور بلوچستان ایجوکیشن اینڈ انڈومنٹ فنڈ سرفہرست رہے۔
تاہم مجموعی طور پر رپورٹ میں شفافیت کے حوالے سے سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ بڑی تعداد میں ادارے صرف 40 سے 50 فیصد معلومات فراہم کر رہے ہیں، جبکہ کئی ادارے 10 سے 30 فیصد تک محدود ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اداروں کے فرائض اور تنظیمی ڈھانچے سے متعلق معلومات تو زیادہ تر دستیاب ہیں، تاہم بجٹ، سبسڈی، مراعات، لائسنس، اور معلومات کے حصول کے طریقہ کار سے متعلق تفصیلات انتہائی کم شائع کی جا رہی ہیں۔

