Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    پیر, جولائی 27, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • جنرل سید عامر رضا کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اہم ملاقات
    • چینی انجینئرز کی گاڑی بم پروف نہیں تھی ، بشام خودکش حملے کی رپورٹ میں انکشافات
    • سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اگلے دو ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا
    • بی ایل اے کی اغوا برائے تاوان اور مجرمانہ سرگرمیاں بے نقاب، دو شہری اغوا
    • پاکستان کی بھارتی وزیر دفاع کے بیان کی شدید مذمت، کشمیر پر مؤقف ایک بار پھر واضح
    • پشاور: پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان مبینہ مقابلہ، ایک دہشت گرد ہلاک
    • آزاد کشمیر انتخابات کا پہلا مرحلہ پُرامن ماحول میں جاری، عوام کا جمہوری عمل پر بھرپور اعتماد
    • تروبا ٹیسٹ کے دوسرے روز ویسٹ انڈیز کی ٹیم پہلی اننگز میں 311 رنز پر آؤٹ
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » تعلیم کا زوال اور جامعات میں بڑھتی ہراسانی!
    بلاگ

    تعلیم کا زوال اور جامعات میں بڑھتی ہراسانی!

    فروری 17, 2025Updated:فروری 17, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Declining education and increasing harassment in universities
    اگر اب بھی اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، اور ہماری تعلیمی ترقی مزید پستی کا شکار ہو جائے گی ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد:( افضل شاہ یوسفزئی) پاکستان کا نظامِ تعلیم تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے، جس کا انکشاف پلاننگ کمیشن کی حالیہ رپورٹ میں ہوا ہے۔ یہ صورتحال ہر محبِ وطن پاکستانی کے لیے گہری تشویش اور بے چینی کا باعث بن رہی ہے۔ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں تعلیمی نظام زوال کا شکار ہے۔ اگر خیبرپختونخوا کے 38 اضلاع میں تعلیمی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو صرف ہری پور اور چترال کسی حد تک بہتر نظر آتے ہیں اور اس بہتری کی بنیادی وجہ وہاں کی متحرک کمیونٹی ہے، نہ کہ حکومتی اقدامات۔ حکومتی کارکردگی اس حوالے سے تقریباً صفر دکھائی دیتی ہے۔
    تعلیم کے زوال کیساتھ ساتھ جامعات میں ہراسانی کے واقعات بھی تشویشناک حد تک بڑھ رہے ہیں، جو نہ صرف والدین بلکہ طالبات کے لیے بھی خوف و ہراس کا باعث بن رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے ملاکنڈ یونیورسٹی کی ایک طالبہ نے مبینہ طور پر ایک پروفیسر پر ہراسانی کا الزام عائد کیا، جس کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملزم کے موبائل فون سے ڈیٹا بھی قبضے میں لے لیا ہے، جس میں قابلِ اعتراض مواد موجود ہونے کی اطلاعات ہیں۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، بلکہ اس سے قبل بھی کئی جامعات میں ہراسانی کے کیسز سامنے آ چکے ہیں، مگر ان پر مؤثر کارروائی نہ ہونے کے باعث یہ ناسور مزید پھیلتا جا رہا ہے۔
    یونیورسٹی انتظامیہ نے کارروائی تو کی، مگر سوال یہ ہے کہ حکومتی سطح پر اس سنگین مسئلے کے حل کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟ وزیراعلیٰ صاحب یونیورسٹی کی چانسلرشپ اپنے پاس رکھنے کے لیے تو قانون منظور کر لیتے ہیں، مگر تعلیمی اداروں میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی اور درندہ صفت پروفیسروں کے خلاف کارروائی کا سوچنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ اکثر جامعات میں شکایات درج ہونے کے باوجود مجرمان کے خلاف سخت کارروائی نہیں کی جاتی، جس سے انہیں مزید شہہ ملتی ہے۔
    یہ لمحہ فکریہ ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے، جو علم و آگہی کے مراکز ہونے چاہئیں، وہی طالبات کے لیے غیر محفوظ بنتے جا رہے ہیں۔ ہراسانی کے خلاف قوانین تو موجود ہیں، مگر ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگر یہی حالات رہے تو والدین اپنی بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے بھیجنے سے گریز کریں گے، جو خواتین کی تعلیم اور خودمختاری کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا۔
    ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت نہ صرف تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کرے، بلکہ جامعات میں ہراسانی کے بڑھتے واقعات کے سدباب کے لیے بھی سخت قوانین پر عملدرآمد یقینی بنائے۔ تمام تعلیمی اداروں میں اینٹی ہراسمنٹ کمیٹیاں فعال کی جائیں اور شکایات درج کروانے کے عمل کو سہل اور محفوظ بنایا جائے، تاکہ متاثرہ طالبات بلا خوف و خطر اپنی آواز بلند کر سکیں۔ اگر اب بھی اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، اور ہماری تعلیمی ترقی مزید پستی کا شکار ہو جائے گی۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleہم پٹھان تو منشیات میں ویسے ہی بدنام ہیں، جسٹس مسرت ہلالی
    Next Article مہنگائی آنے والے دنوں میں مزید کم ہوگی، وزیراعظم شہبازشریف نے خوشخبری سنادی
    Afzal Yousafzai
    • Website

    لکھاری صحافی اور مصنف ہیں ان کا ای میل ایڈریس afzalshahmian@gmail.comہے

    Related Posts

    آخر کب تک؟ معصوم بچوں کے خلاف جنسی جرائم، معاشرتی زوال اور ہماری اجتماعی ذمہ داری. تحریر: نازپروین

    جولائی 1, 2026

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر، تحریر: قریش خٹک

    مئی 13, 2026

    ہم نے ایک آفتاب کھو دیا!

    مئی 6, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    جنرل سید عامر رضا کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اہم ملاقات

    جولائی 27, 2026

    چینی انجینئرز کی گاڑی بم پروف نہیں تھی ، بشام خودکش حملے کی رپورٹ میں انکشافات

    جولائی 27, 2026

    سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اگلے دو ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا

    جولائی 27, 2026

    بی ایل اے کی اغوا برائے تاوان اور مجرمانہ سرگرمیاں بے نقاب، دو شہری اغوا

    جولائی 27, 2026

    پاکستان کی بھارتی وزیر دفاع کے بیان کی شدید مذمت، کشمیر پر مؤقف ایک بار پھر واضح

    جولائی 27, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.