Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    پیر, اکتوبر 5, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • کیمٹیک میں اقراء یونیورسٹی اسلام آباد کے فیکلٹی ممبران کے لیے براڈکاسٹ میڈیا ٹریننگ ورکشاپ
    • حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا
    • سری لنکا کیخلاف ٹی 20 سیریز کیلئے صاحبزادہ فرحان قومی ٹیم کے کپتان مقرر، شاہین شاہ آفریدی ون ڈے سیریز کے کپتان ہونگے
    • خیبرپختونخوا میں سیاسی و آئینی کشمکش: گورنر راج اور ایمرجنسی میں فرق اور صدر مملکت کے اختیارات!
    • افغانستان سے متعلق ماسکو فارمیٹ کا اجلاس، پاکستان کے اعلیٰ سطحی وفد کی اجلاس میں شرکت
    • خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی، ڈیرہ اسماعیل خان میں 3 خارجی دہشت گرد جہنم واصل
    • سرکاری حج سکیم: دوسری قسط کی وصولی آج رات سے شروع
    • اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کل پاکستان کا سرکاری دورہ کریں گے
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » تعلیم کا زوال اور جامعات میں بڑھتی ہراسانی!
    بلاگ فروری 17, 2025

    تعلیم کا زوال اور جامعات میں بڑھتی ہراسانی!

    Facebook Twitter Email
    Declining education and increasing harassment in universities
    اگر اب بھی اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، اور ہماری تعلیمی ترقی مزید پستی کا شکار ہو جائے گی ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد:( افضل شاہ یوسفزئی) پاکستان کا نظامِ تعلیم تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے، جس کا انکشاف پلاننگ کمیشن کی حالیہ رپورٹ میں ہوا ہے۔ یہ صورتحال ہر محبِ وطن پاکستانی کے لیے گہری تشویش اور بے چینی کا باعث بن رہی ہے۔ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں تعلیمی نظام زوال کا شکار ہے۔ اگر خیبرپختونخوا کے 38 اضلاع میں تعلیمی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو صرف ہری پور اور چترال کسی حد تک بہتر نظر آتے ہیں اور اس بہتری کی بنیادی وجہ وہاں کی متحرک کمیونٹی ہے، نہ کہ حکومتی اقدامات۔ حکومتی کارکردگی اس حوالے سے تقریباً صفر دکھائی دیتی ہے۔
    تعلیم کے زوال کیساتھ ساتھ جامعات میں ہراسانی کے واقعات بھی تشویشناک حد تک بڑھ رہے ہیں، جو نہ صرف والدین بلکہ طالبات کے لیے بھی خوف و ہراس کا باعث بن رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے ملاکنڈ یونیورسٹی کی ایک طالبہ نے مبینہ طور پر ایک پروفیسر پر ہراسانی کا الزام عائد کیا، جس کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملزم کے موبائل فون سے ڈیٹا بھی قبضے میں لے لیا ہے، جس میں قابلِ اعتراض مواد موجود ہونے کی اطلاعات ہیں۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، بلکہ اس سے قبل بھی کئی جامعات میں ہراسانی کے کیسز سامنے آ چکے ہیں، مگر ان پر مؤثر کارروائی نہ ہونے کے باعث یہ ناسور مزید پھیلتا جا رہا ہے۔
    یونیورسٹی انتظامیہ نے کارروائی تو کی، مگر سوال یہ ہے کہ حکومتی سطح پر اس سنگین مسئلے کے حل کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟ وزیراعلیٰ صاحب یونیورسٹی کی چانسلرشپ اپنے پاس رکھنے کے لیے تو قانون منظور کر لیتے ہیں، مگر تعلیمی اداروں میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی اور درندہ صفت پروفیسروں کے خلاف کارروائی کا سوچنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ اکثر جامعات میں شکایات درج ہونے کے باوجود مجرمان کے خلاف سخت کارروائی نہیں کی جاتی، جس سے انہیں مزید شہہ ملتی ہے۔
    یہ لمحہ فکریہ ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے، جو علم و آگہی کے مراکز ہونے چاہئیں، وہی طالبات کے لیے غیر محفوظ بنتے جا رہے ہیں۔ ہراسانی کے خلاف قوانین تو موجود ہیں، مگر ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگر یہی حالات رہے تو والدین اپنی بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے بھیجنے سے گریز کریں گے، جو خواتین کی تعلیم اور خودمختاری کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا۔
    ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت نہ صرف تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کرے، بلکہ جامعات میں ہراسانی کے بڑھتے واقعات کے سدباب کے لیے بھی سخت قوانین پر عملدرآمد یقینی بنائے۔ تمام تعلیمی اداروں میں اینٹی ہراسمنٹ کمیٹیاں فعال کی جائیں اور شکایات درج کروانے کے عمل کو سہل اور محفوظ بنایا جائے، تاکہ متاثرہ طالبات بلا خوف و خطر اپنی آواز بلند کر سکیں۔ اگر اب بھی اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، اور ہماری تعلیمی ترقی مزید پستی کا شکار ہو جائے گی۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleہم پٹھان تو منشیات میں ویسے ہی بدنام ہیں، جسٹس مسرت ہلالی
    Next Article مہنگائی آنے والے دنوں میں مزید کم ہوگی، وزیراعظم شہبازشریف نے خوشخبری سنادی
    Afzal Yousafzai
    • Website

    لکھاری صحافی اور مصنف ہیں ان کا ای میل ایڈریس afzalshahmian@gmail.comہے

    Related Posts

    خیبرپختونخوا میں سیاسی و آئینی کشمکش: گورنر راج اور ایمرجنسی میں فرق اور صدر مملکت کے اختیارات!

    اکتوبر 5, 2026

    جب عوامی آوازیں دبتی ہیں، تو ریاستیں لرزتی ہیں. تحریر: قریش خٹک

    ستمبر 22, 2026

    پمز سانحے کے اصل حقائق

    اگست 26, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    کیمٹیک میں اقراء یونیورسٹی اسلام آباد کے فیکلٹی ممبران کے لیے براڈکاسٹ میڈیا ٹریننگ ورکشاپ

    اکتوبر 5, 2026

    حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا

    اکتوبر 5, 2026

    سری لنکا کیخلاف ٹی 20 سیریز کیلئے صاحبزادہ فرحان قومی ٹیم کے کپتان مقرر، شاہین شاہ آفریدی ون ڈے سیریز کے کپتان ہونگے

    اکتوبر 5, 2026

    خیبرپختونخوا میں سیاسی و آئینی کشمکش: گورنر راج اور ایمرجنسی میں فرق اور صدر مملکت کے اختیارات!

    اکتوبر 5, 2026

    افغانستان سے متعلق ماسکو فارمیٹ کا اجلاس، پاکستان کے اعلیٰ سطحی وفد کی اجلاس میں شرکت

    اکتوبر 5, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.