Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, جولائی 23, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • ایس ایچ او تھانہ رحمان بابا یوسف شاہ کی کاروائی، اسلحہ نمائش کرنے والا گرفتار
    • مستونگ کےعلاقہ کھڈ کوچہ میں بروقت کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک، خواتین خودکش بمبار سمیت متعدد گرفتار
    • پاکستان کا دوٹوک مؤقف: ہر صورت اپنے بحری مفادات کا تحفظ کیا جائے گا
    • دو طرفہ تعاون مزید مضبوط بنانے کا عزم، نائب وزیراعظم اور نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ کی ملاقات
    • وزیر خزانہ کی آئی ایم ایف کی اعلیٰ قیادت سے اہم ملاقاتیں، معاشی اصلاحات پر پیش رفت کا جائزہ
    • مون سون بارشیں: صدر آصف علی زرداری کی تمام اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت
    • حکومت اُردو زبان کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی، وفاقی وزیر اورنگزیب خان کچھی
    • جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کر گئے
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » تعلیم کا زوال اور جامعات میں بڑھتی ہراسانی!
    بلاگ

    تعلیم کا زوال اور جامعات میں بڑھتی ہراسانی!

    فروری 17, 2025Updated:فروری 17, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Declining education and increasing harassment in universities
    اگر اب بھی اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، اور ہماری تعلیمی ترقی مزید پستی کا شکار ہو جائے گی ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد:( افضل شاہ یوسفزئی) پاکستان کا نظامِ تعلیم تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے، جس کا انکشاف پلاننگ کمیشن کی حالیہ رپورٹ میں ہوا ہے۔ یہ صورتحال ہر محبِ وطن پاکستانی کے لیے گہری تشویش اور بے چینی کا باعث بن رہی ہے۔ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں تعلیمی نظام زوال کا شکار ہے۔ اگر خیبرپختونخوا کے 38 اضلاع میں تعلیمی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو صرف ہری پور اور چترال کسی حد تک بہتر نظر آتے ہیں اور اس بہتری کی بنیادی وجہ وہاں کی متحرک کمیونٹی ہے، نہ کہ حکومتی اقدامات۔ حکومتی کارکردگی اس حوالے سے تقریباً صفر دکھائی دیتی ہے۔
    تعلیم کے زوال کیساتھ ساتھ جامعات میں ہراسانی کے واقعات بھی تشویشناک حد تک بڑھ رہے ہیں، جو نہ صرف والدین بلکہ طالبات کے لیے بھی خوف و ہراس کا باعث بن رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے ملاکنڈ یونیورسٹی کی ایک طالبہ نے مبینہ طور پر ایک پروفیسر پر ہراسانی کا الزام عائد کیا، جس کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملزم کے موبائل فون سے ڈیٹا بھی قبضے میں لے لیا ہے، جس میں قابلِ اعتراض مواد موجود ہونے کی اطلاعات ہیں۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، بلکہ اس سے قبل بھی کئی جامعات میں ہراسانی کے کیسز سامنے آ چکے ہیں، مگر ان پر مؤثر کارروائی نہ ہونے کے باعث یہ ناسور مزید پھیلتا جا رہا ہے۔
    یونیورسٹی انتظامیہ نے کارروائی تو کی، مگر سوال یہ ہے کہ حکومتی سطح پر اس سنگین مسئلے کے حل کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟ وزیراعلیٰ صاحب یونیورسٹی کی چانسلرشپ اپنے پاس رکھنے کے لیے تو قانون منظور کر لیتے ہیں، مگر تعلیمی اداروں میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی اور درندہ صفت پروفیسروں کے خلاف کارروائی کا سوچنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ اکثر جامعات میں شکایات درج ہونے کے باوجود مجرمان کے خلاف سخت کارروائی نہیں کی جاتی، جس سے انہیں مزید شہہ ملتی ہے۔
    یہ لمحہ فکریہ ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے، جو علم و آگہی کے مراکز ہونے چاہئیں، وہی طالبات کے لیے غیر محفوظ بنتے جا رہے ہیں۔ ہراسانی کے خلاف قوانین تو موجود ہیں، مگر ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگر یہی حالات رہے تو والدین اپنی بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے بھیجنے سے گریز کریں گے، جو خواتین کی تعلیم اور خودمختاری کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا۔
    ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت نہ صرف تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کرے، بلکہ جامعات میں ہراسانی کے بڑھتے واقعات کے سدباب کے لیے بھی سخت قوانین پر عملدرآمد یقینی بنائے۔ تمام تعلیمی اداروں میں اینٹی ہراسمنٹ کمیٹیاں فعال کی جائیں اور شکایات درج کروانے کے عمل کو سہل اور محفوظ بنایا جائے، تاکہ متاثرہ طالبات بلا خوف و خطر اپنی آواز بلند کر سکیں۔ اگر اب بھی اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، اور ہماری تعلیمی ترقی مزید پستی کا شکار ہو جائے گی۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleہم پٹھان تو منشیات میں ویسے ہی بدنام ہیں، جسٹس مسرت ہلالی
    Next Article مہنگائی آنے والے دنوں میں مزید کم ہوگی، وزیراعظم شہبازشریف نے خوشخبری سنادی
    Afzal Yousafzai
    • Website

    لکھاری صحافی اور مصنف ہیں ان کا ای میل ایڈریس afzalshahmian@gmail.comہے

    Related Posts

    آخر کب تک؟ معصوم بچوں کے خلاف جنسی جرائم، معاشرتی زوال اور ہماری اجتماعی ذمہ داری. تحریر: نازپروین

    جولائی 1, 2026

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر، تحریر: قریش خٹک

    مئی 13, 2026

    ہم نے ایک آفتاب کھو دیا!

    مئی 6, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    ایس ایچ او تھانہ رحمان بابا یوسف شاہ کی کاروائی، اسلحہ نمائش کرنے والا گرفتار

    جولائی 23, 2026

    مستونگ کےعلاقہ کھڈ کوچہ میں بروقت کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک، خواتین خودکش بمبار سمیت متعدد گرفتار

    جولائی 23, 2026

    پاکستان کا دوٹوک مؤقف: ہر صورت اپنے بحری مفادات کا تحفظ کیا جائے گا

    جولائی 23, 2026

    دو طرفہ تعاون مزید مضبوط بنانے کا عزم، نائب وزیراعظم اور نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ کی ملاقات

    جولائی 23, 2026

    وزیر خزانہ کی آئی ایم ایف کی اعلیٰ قیادت سے اہم ملاقاتیں، معاشی اصلاحات پر پیش رفت کا جائزہ

    جولائی 23, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.