Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, ستمبر 1, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • مصباح الحق قومی ٹیم کی سلیکشن کمیٹی سے مستعفی، انگلینڈ سے کھلاڑیوں کی واپس کے فیصلے پر ناراضی کا ظہار
    • پاکستان 27-2026 کیلئے ایس سی او سربراہ اجلاس کی صدارت سنبھالے گا، وزیراعظم شہبازشریف نے اعلامیے پر دستخط کردیئے
    • استنبول اجلاس، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق، معاہدے کو ’’مکہ دفاع اتحاد‘‘ کا نام بھی دے دیا گیا
    • سی ایس ایس 2026 کا تحریری نتیجہ جاری، کامیابی کا تناسب صرف 2.74 فیصد رہا
    • عالمی ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق پاکستان کے موقف کی تائید کردی،بڑا فیصلہ جاری
    • سندھ کے 22 سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کی سنگین صورتحال، رپورٹ میں بڑے انکشافات
    • پشاور: پولیس مقابلے میں بین الصوبائی گینگ کے 4 بدنام زمانہ ڈاکو ہلاک
    • بلوچستان میں جمعہ کو سرکاری دفاتر میں ورکنگ ڈے قرار دینے کا فیصلہ
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » ٹی ٹی پی کی قیادت کا دوغلا پن ان کے اقدامات سے عیاں ہے، تجزیہ نگار
    افغانستان اپریل 25, 2024

    ٹی ٹی پی کی قیادت کا دوغلا پن ان کے اقدامات سے عیاں ہے، تجزیہ نگار

    Facebook Twitter Email
    Duplicity of TTP leadership
    Share
    Facebook Twitter Email

    یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ ٹی ٹی پی کے رہنما دوغلے پن کا شکار ہیں۔ وہ نہ صرف موقع پرست اور بزدل ہیں بلکہ دھوکے باز بھی ہیں۔ وہ اپنی ان خصلتوں کو پاکستان میں اپنے ناپاک عزائم کے لیے گمراہی میں ڈوبے ہوئے اپنے تربیت یافتہ ہرکاروں اور معصوم لوگوں کو پیادوں کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ دعوے تسلیم شدہ حقائق پر مبنی ہیں جن میں شامل ہیں۔

    ٹی ٹی پی کے رہنمائوں کا ایک دوغلہ پن تو یہ ہے  کہ وہ اپنے نام نہاد مقدس مقصد کا پرچار کرتے ہیں لیکن وہ کبھی بھی اپنے جنگجوؤں کی فرنٹ لائن پر آ کر قیادت نہیں کرتے۔ ان کی مکمل قیادت افغانستان میں مقیم ہے جبکہ ان کے جنگجو پاکستان میں ایک لاحاصل جنگ لڑ رہے ہیں۔ واضح رہے کہ مفتی نور ولی محسود، منگل باغ، محمد خراسانی، فقیر محمد وغیرہ سب افغانستان میں مقیم ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ان کے کئی کمانڈر افغانستان کے اندر مارے جا چکے ہیں۔ مثال کے طور پر عمر خالد خراسانی، مفتی حسن سواتی، حافظ دولت خان، ملا فضل اللہ، عتیق الرحمان عرف ٹیپو گل مروت اور عمر منصور افغانستان میں نامعلوم حملہ آوروں کےہاتھوں قتل ہوے۔ وہ اپنے جنگجوؤں کی قیادت کرنےسے گریز کرتےریے اور بالآخر اقتدار اور پیسے کی خاطر اپنے ہی ساتھیوں کے ہاتھوں افغانستان کےاندر محفوظ اور آرام دہ ٹھکانوں میں مارے گئے۔

    ٹی ٹی کے نام نہاد رہنما موقع پرست اور چالاک ہیں کیونکہ خود تو وہ افغانستان میں آرام دہ زندگی گزارتے ہیں لیکن اپنے بہکائے ہوئے ہرکاروں کو پاکستان میں سخت اور خوفناک حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے جہاں بالآخر ان دہشت گردوں کو سیکیورٹی فورسز نے ختم کر دیا ہے۔ پاکستان کی حکومت کے ساتھ حالیہ مفاہمتی عمل بھی اس حقیقت کو ثابت کرتا ہے کونکہ ٹی ٹی پی کے رہنماؤں نے مفاہمتی عمل کی آڑ میں پاکستان میں اپنے قدم بڑھا کر موقع پرستی کا مظاہرہ کیا۔

    ٹی ٹی پی رہنماؤں کی بزدلی اس حقیقت سے عیاں ہے کہ وہ پاکستان آکر نام نہاد جہاد کی قیادت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ ان کے رہنماؤں کے حالیہ قتل اس بات کو ثابت کرتے ہیں۔

    افغانستان سے تعلق رکھنے والے دفاعی تجزیہ نگار طارق غلزئی کے مطابق ٹی ٹی پی کے رہنما  شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کے فتویٰ کی صریح خلاف ورزی کرتے ہیں۔ افغانستان میں نام نہاد جہاد کے لیے غریب افغان شہریوں کو نشانہ بنانے اور ان کو دہشت گردی پر آمادہ کرتے ہیں اور یوں ان کے اس عمل سے ان کی ہیرا پھیری اور فریب کا اظہار ہوتا ہے۔ اس کی تازہ مثال افغانستان کے صوبہ پکتیکا کا رہنے والا دہشت گرد ملک الدین مصباح ہے جو حال ہی میں شمالی وزیرستان کے غلام خان بارڈر سے پاکستان میں دراندازی کے دوران مارے گئے 7 حملہ آوروں میں شامل تھا۔

    ٹی ٹی پی کے رہنما اپنے غیر ملکی آقاؤں سے مدد حاصل کرتے ہیں اور پاکستان میں اپنے مسلمان بھائیوں کا خون بہانے کے لیے ان کی کٹھ پتلیوں کے طور پر کام کرتے ہیں۔ پیسے کی خاطر وہ مسلمان ہونے کی مذہبی، اخلاقی اور اخلاقی اقدار کو بھول چکے ہیں اور وحشیوں کا روپ دھار رہے ہیں جو اپنے غیر ملکی آقاؤں کے کہنے پر مسلمانوں کے خلاف وحشیانہ طاقت کا استعمال کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، ٹی ٹی پی کے ارکان اور ان کے خاندانوں کو طالبان سے باقاعدہ امداد ملتی ہے اور یہ کہ افغان حکام مبینہ طور پر ٹی ٹی پی رہنما نور ولی محسود کو ماہانہ $50,500 ڈالر فراہم کرتے تھے۔

    ٹی ٹی پی کے رہنما اپنے ان بہکائے ہوئے دہشتگرد ہرکاروں کااستحصال کرتے ہیں جنہیں ٹشو پیپرز کے طور پر استعمال کرنے کے بعد ضائع یا پھینک دیا جاتا ہے۔ غریب اور معصوم لوگوں کو خودکش حملوں کے لیے برین واش کیا جاتا ہے لیکن خود لیڈران اور ان کے رشتہ دار کبھی بھی لڑائی اور خودکش حملوں میں ملوث نہیں ہوتے۔

    ٹی ٹی پی کے رہنما پاکستان کے مذہبی، اخلاقی، اخلاقی اور ثقافتی اقدار سے پوری طرح غافل ہیں اور مذہبی جوڑ توڑ، جبر، دھمکی اور خوف کے ہتھکنڈوں کے ذریعے معصوم لوگوں کا استحصال کر رہے ہیں۔ پاکستانی عوام ٹی ٹی پی کے خود غرضانہ مقاصد اور ان کے "فسادی ایجنڈے” سے بخوبی واقف ہیں۔

    پاکستانی عوام کی حمایت سے سیکیورٹی فورسز اپنی لگن اور عزم کے ذریعے پاکستان سے دہشت گردی کی لعنت کو ختم کر دیں گی۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleدنیا بھر کے مختلف ممالک میں آج پنک مون دیکھا جا رہا ہے
    Next Article لوئردیر:گھر کی چھت گرنے سے گائے اور بکریاں ہلاک
    Saqib Butt

    Related Posts

    مصباح الحق قومی ٹیم کی سلیکشن کمیٹی سے مستعفی، انگلینڈ سے کھلاڑیوں کی واپس کے فیصلے پر ناراضی کا ظہار

    ستمبر 1, 2026

    پاکستان 27-2026 کیلئے ایس سی او سربراہ اجلاس کی صدارت سنبھالے گا، وزیراعظم شہبازشریف نے اعلامیے پر دستخط کردیئے

    ستمبر 1, 2026

    استنبول اجلاس، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق، معاہدے کو ’’مکہ دفاع اتحاد‘‘ کا نام بھی دے دیا گیا

    اگست 31, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    مصباح الحق قومی ٹیم کی سلیکشن کمیٹی سے مستعفی، انگلینڈ سے کھلاڑیوں کی واپس کے فیصلے پر ناراضی کا ظہار

    ستمبر 1, 2026

    پاکستان 27-2026 کیلئے ایس سی او سربراہ اجلاس کی صدارت سنبھالے گا، وزیراعظم شہبازشریف نے اعلامیے پر دستخط کردیئے

    ستمبر 1, 2026

    استنبول اجلاس، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق، معاہدے کو ’’مکہ دفاع اتحاد‘‘ کا نام بھی دے دیا گیا

    اگست 31, 2026

    سی ایس ایس 2026 کا تحریری نتیجہ جاری، کامیابی کا تناسب صرف 2.74 فیصد رہا

    اگست 31, 2026

    عالمی ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق پاکستان کے موقف کی تائید کردی،بڑا فیصلہ جاری

    اگست 31, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.