بھارت کی آبی جارحیت اور مسلسل تیز بارشوں کے باعث پنجاب کے تین بڑے دریاؤں راوی، چناب اور ستلج میں سیلاب سے صورتحال سنگین ہوگئی جس کے سبب مختلف حادثات میں جاں بحق افراد کی تعداد 33 ہوگئی، لاکہوں لوگ متاثر ہو گئے اور ہزاروں دیہات زیر آب آنے سے سیکڑوں مویشی ہلاک اور کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں ۔
لاہور: دریائے راوی میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کے بعد لاہور کے علاقے شاہدرہ سے متصل علاقوں اور شہر کے مضافاتی علاقوں میں سیلابی پانی داخل ہوا جس سے کافی مالی نقصان اٹھانا پڑا ،اُدھر چناب اور ستلج دریاوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے جس کے سبب نشیبی علاقے اور دیہات زیر آب آگئے ۔
جھنگ میں تریموں ہیڈ ورکس کے مقام پر پانی کی آمد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، تریموں پر پانی کی آمد تین لاکھ 61 ہزار کیوسک ہوگئی۔ سیلاب سے اب تک ضلع بھر کے 216 دیہات متاثر ہو چکے ہیں ۔
ڈپٹی کمشنر جھنگ کے مطابق نقل مکانی کرنے ولے جانوروں کے لیے ٹوبہ روڑ بائی پاس پر فلڈ ریلیف کیمپ قائم کر دیا گیا ہے،کیمپ میں جانوروں کے لیے چارہ اور سائلیج وافر مقدار میں موجود ہے ۔
دوسری جانب ڈی پی ڈی ای ایم اے پنجاب کا کہنا ہے کہ پنجاب میں اس وقت تاریخی سیلاب گزر رہا ہے اور اب تک صوبے میں 2200 دیہات متاثر ہوئے ہیں جبکہ 33 لوگوں کی سیلاب کی وجہ سے اموات ہوئیں ۔
لاہور میں پریس بریفنگ کے دوران ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ ہماری رپورٹ کے مطابق اب تک 20 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں اور ہم ان تمام افراد کے لیے سہولیات فراہم کر رہے ہیں، ریسکیو کے ساتھ پاک فوج نے بھی سیلابی صورتحال میں ہمارا ساتھ دیا، ہم نے لوگوں کے جانوروں کو بھی محفوظ بنایا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے کہا ہے کہ ہم نے انسانی جانوں کی ہر قیمت پر حفاظت کرنی ہے، اس لیے ضلعی انتظامیہ ہر وقت دریاؤں پر موجود ہے اور صورتحال کا جائزہ لی رہی ہے ۔
ڈی جی پی ڈی ایم نے بتایا کہ ستلج کے مقام پر پانی کا بہاؤ کم ہوگیا ہے اور 1 لاکھ 54 ہزار کیوسک پانی ہیڈ سلیمانی کے مقام پر پانی موجود ہے جبکہ 1 لاکھ کیوسک پانی بہاولپور کے قریب دریاؤں میں موجود ہے ۔
انہوں نے بتایا کہ دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی کے مقام پیک پکڑ رہا ہے اور اگلے 24 گھنٹے میں مزید خطرہ بڑھ سکتا ہے، یکم کو سات لاکھ کیوسک ہیڈ تریموں پر پہنچے گا، راوی اور چناب کا پانی ہیڈ شیر شاہ اور ہیڈ سلیمانی میں داخل ہوگا، 4 ستمبر کو یہ سارا پانی ہیڈ پنجند میں داخل ہوگا ۔
ڈی جی پی ڈی ایم کا کہنا تھا کہ 6 سے 7 دونوں میں اگر پانی کی سطح کم ہوتی ہے تو ہم پھر مزید ان علاقوں پر کام کر سکتے ہیں، ہماری زیادہ توجہ زیر آب علاقوں میں ہیں تاکہ ان کو جلد از جلد کلیئر کیا جائے ۔