Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    پیر, جون 22, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • قطر کے ایل این جی کمپلیکس میں دھماکہ، پاکستانیوں سمیت 13 افراد جاں بحق،66 زخمی
    • سمندر میں ریسکیو کیے جانے والے آٹھ ایرانی ماہی گیروں کو بحفاظت وطن واپس بھجوا دیا گیا، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار
    • وزیراعظم شہباز شریف سوئٹزرلینڈ کا دورہ مکمل کرنے کے بعد پاکستان کے لیے روانہ
    • برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر اپنے عہدے سے مستعفی
    • سوئٹزرلینڈ میں پہلا مذاکراتی دور کامیابی سے مکمل، امن کیلئے کردار ادا کرتے رہیں گے، وزیراعظم شہبازشریف
    • چین نے بھی پاکستان اور قطر کی ثالثی کوششوں کی حمایت کردی
    • خیبر:گھریلو تشدد کا شکار غیر ملکی خاتون کی بازیابی، ملزمان کے خلاف کارروائی شروع
    • ایران کبھی بھی جوہری بم بنانے کی کوشش نہیں کرے گا، مفاہمتی یادداشت کی تمام شقیں ایرانی عوام کے مفاد میں ہیں، ایرانی صدر
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » عالمی سطح پر طالبان کی افغان خواتین کے لیے پابندیوں پر تشویش
    افغانستان

    عالمی سطح پر طالبان کی افغان خواتین کے لیے پابندیوں پر تشویش

    جنوری 4, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Taliban Bans Afghan Women from Working in NGOs
    طالبان کا افغان خواتین پر این جی اوز میں کام کرنے پر پابندی
    Share
    Facebook Twitter Email

    افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے بعد خواتین کے حقوق کی پامالی میں تیزی آئی ہے۔ طالبان کی حکومت نے خواتین کو سماجی، سیاسی اور اقتصادی شعبوں میں سرگرمیوں سے محدود کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ حالیہ دنوں میں طالبان نے ایک اور بڑا قدم اٹھاتے ہوئے افغان خواتین کو غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) میں کام کرنے سے مکمل طور پر روک دیا ہے۔ اس اقدام نے عالمی سطح پر تشویش اور مذمت کی لہر پیدا کر دی ہے اور حقوقِ انسانی کے ادارے اس پر شدید ردعمل ظاہر کر رہے ہیں۔

    طالبان کا حکم

    طالبان نے افغان خواتین کے لیے اس پابندی کا اطلاق کرتے ہوئے وزارت اقتصادیات کے ذریعے ایجنسی کوآرڈینیٹنگ باڈی فار افغان ریلیف اینڈ ڈویلپمنٹ (ACBAR) کو ہدایت دی کہ وہ افغان خواتین کی این جی اوز میں کام کرنے پر پابندی کی تعمیل کرائے۔ ACBAR تقریباً 200 غیر سرکاری تنظیموں کی نمائندگی کرتا ہے جو افغانستان میں انسانی امداد اور ترقیاتی کاموں میں مصروف ہیں۔ طالبان کی وزارت اقتصادیات نے اعلان کیا کہ وہ تمام این جی اوز کو خبردار کر رہی ہے کہ اگر وہ خواتین کو ملازمت دیتی رہیں گی تو ان کے آپریٹنگ لائسنس منسوخ کر دیے جائیں گے اور ان کی سرگرمیاں معطل کر دی جائیں گی۔

    پابندی کی وجہ

    طالبان نے افغان خواتین کی این جی اوز میں ملازمت پر پابندی عائد کرنے کی وجہ اسلامی لباس کے کوڈ کی خلاف ورزی کو قرار دیا ہے۔ طالبان کے مطابق، خواتین کا کام کرنا اور غیر مناسب لباس پہننا شریعت کی خلاف ورزی ہے اور ان کی حکومت اس بات کو برداشت نہیں کرے گی۔ طالبان کے مطابق یہ پابندی اسلامی اقدار کی حفاظت کے لیے ضروری ہے، تاہم عالمی انسانی حقوق کے ادارے اس موقف کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔

    عالمی ردعمل

    اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق، وولکر ترک، نے طالبان کے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کی یہ ہدایت افغان عوام کو ضروری انسان دوست امداد تک رسائی سے روک دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان خواتین کو ان کی بنیادی آزادیوں سے محروم کرنا نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے افغانستان کی سماجی اور اقتصادی ترقی بھی متاثر ہو گی۔

    وولکر ترک نے کہا: "کسی بھی ملک کی ترقی اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں، بالخصوص خواتین کو معاشرتی، اقتصادی اور سیاسی زندگی میں شریک کرتا ہے۔ افغانستان میں خواتین کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کر کے طالبان اس ملک کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔”

    خواتین کے حقوق کی پامالی

    طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد خواتین کے حقوق کی پامالی میں اضافہ ہوا ہے۔ طالبان نے پہلے ہی مختلف قوانین اور اقدامات کے ذریعے خواتین کی ذاتی آزادیوں پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ "وائس اینڈ ورچیو” قانون کے تحت خواتین پر پردے کے بغیر گھر سے باہر نکلنے، اکیلے سفر کرنے اور عوامی مقامات پر بات کرنے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ، طالبان نے لڑکیوں کی تعلیم کو بھی محدود کر دیا ہے اور انھیں زیادہ تر شعبوں میں کام کرنے سے روکا ہے۔

    عالمی تنظیموں کی مذمت

    طالبان کے اقدامات پر عالمی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ اقوام متحدہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور دیگر عالمی تنظیموں نے طالبان کے اقدامات کی شدید مذمت کی ہے اور افغان خواتین کے حقوق کی بازیابی کے لیے عالمی برادری سے فوری مداخلت کی درخواست کی ہے۔

    ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ طالبان کا یہ اقدام افغان خواتین کے لیے ایک اور سخت دھچکا ہے اور اس سے نہ صرف ان کی ذاتی آزادیوں پر اثر پڑے گا بلکہ اس سے افغانستان کی معیشت اور سماجی ترقی بھی متاثر ہو گی۔

    ہیومن رائٹس واچ نے بھی طالبان کے اس حکم کو ‘شدید امتیازی’ قرار دیا اور کہا کہ طالبان کو فوری طور پر اپنی پالیسیاں واپس لینی چاہئیں جو خواتین کو ان کے حقوق سے محروم کرتی ہیں۔

    طالبان کی پالیسیوں کا معاشرتی اثر

    طالبان کے ان اقدامات سے افغان خواتین کی معاشی، سماجی اور سیاسی زندگی پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ خواتین کے لیے تعلیم اور ملازمت کے مواقع محدود ہو چکے ہیں اور ان کی آزادی میں روز بروز کمی آ رہی ہے۔ ایک طرف تو طالبان خواتین کی عوامی زندگی میں شرکت کو مکمل طور پر ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، دوسری طرف افغانستان میں اقتصادی بحران اور انسانی امداد کی کمی بھی بڑھتی جا رہی ہے۔

    اگرچہ طالبان نے اپنے اس فیصلے کو اسلامی احکام کے تحت درست قرار دیا ہے، لیکن عالمی سطح پر اس کے خلاف آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ عالمی برادری کی جانب سے طالبان پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اپنے امتیازی قوانین اور اقدامات کو ختم کریں اور افغان خواتین کو اپنے حقوق کے لیے آزادی دیں۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleلوئر کرم میں امن کے دشمنوں نے ڈپٹی کمشنر جاوید اللہ محسود پر فائرنگ کر دی
    Next Article تربت: بس کے قریب ریموٹ کنٹرول دھماکے میں 4 افراد جاں بحق 32 زخمی
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    سویڈن: طالبان رجیم کیخلاف افغان مہاجرین کا شدید احتجاج، عالمی بائیکاٹ کا مطالبہ

    جون 22, 2026

    پاکستانی وزارتِ اطلاعات کے فیکٹ چیکر نے طالبان رجیم کے بے بنیاد دعویٰ کی قلعی کھول دی

    جون 19, 2026

    2023 سے 60 لاکھ افغان مہاجرین پاکستان اور ایران سے واپس لوٹے، یو این ایچ سی آر

    جون 19, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    قطر کے ایل این جی کمپلیکس میں دھماکہ، پاکستانیوں سمیت 13 افراد جاں بحق،66 زخمی

    جون 22, 2026

    سمندر میں ریسکیو کیے جانے والے آٹھ ایرانی ماہی گیروں کو بحفاظت وطن واپس بھجوا دیا گیا، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

    جون 22, 2026

    وزیراعظم شہباز شریف سوئٹزرلینڈ کا دورہ مکمل کرنے کے بعد پاکستان کے لیے روانہ

    جون 22, 2026

    برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر اپنے عہدے سے مستعفی

    جون 22, 2026

    سوئٹزرلینڈ میں پہلا مذاکراتی دور کامیابی سے مکمل، امن کیلئے کردار ادا کرتے رہیں گے، وزیراعظم شہبازشریف

    جون 22, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.