Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, فروری 5, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • کشمیر ایک دن ضرور آزاد ہوگا، پاکستان کشمیریوں کی حمایت جاری رکھے گا، وزیراعظم
    • کابل میں دوحہ پراسیس کے تحت انسدادِ منشیات ورکنگ گروپ کا چوتھا اجلاس
    • سابق انگلش کپتان ناصر حسین کی پاکستان اور بنگلادیش کی حمایت
    • پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی، سفارتی و سیاسی حمایت جاری رکھے گا، صدر مملکت، وزیراعظم
    • کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی کو خراجِ تحسین، آج ملک بھر میں یوم یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہے
    • سہیل آفریدی سے کہا وفاق آپ کیساتھ پوری طرح تعاون کرے گا چاہے آپ کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو،وزیراعظم شہبازشریف
    • کوئی دہشت گرد اور سہولت کار نہیں بخشا جائے گا، فیلڈ مارشل عاصم منیر
    • وفاقی دارالحکومت کے تھانے، عوام کے تحفظ کی جگہ یا خوف اور بھتے کے مراکز
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخواہ
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » عالمی سطح پر طالبان کی افغان خواتین کے لیے پابندیوں پر تشویش
    افغانستان

    عالمی سطح پر طالبان کی افغان خواتین کے لیے پابندیوں پر تشویش

    جنوری 4, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Taliban Bans Afghan Women from Working in NGOs
    طالبان کا افغان خواتین پر این جی اوز میں کام کرنے پر پابندی
    Share
    Facebook Twitter Email

    افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے بعد خواتین کے حقوق کی پامالی میں تیزی آئی ہے۔ طالبان کی حکومت نے خواتین کو سماجی، سیاسی اور اقتصادی شعبوں میں سرگرمیوں سے محدود کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ حالیہ دنوں میں طالبان نے ایک اور بڑا قدم اٹھاتے ہوئے افغان خواتین کو غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) میں کام کرنے سے مکمل طور پر روک دیا ہے۔ اس اقدام نے عالمی سطح پر تشویش اور مذمت کی لہر پیدا کر دی ہے اور حقوقِ انسانی کے ادارے اس پر شدید ردعمل ظاہر کر رہے ہیں۔

    طالبان کا حکم

    طالبان نے افغان خواتین کے لیے اس پابندی کا اطلاق کرتے ہوئے وزارت اقتصادیات کے ذریعے ایجنسی کوآرڈینیٹنگ باڈی فار افغان ریلیف اینڈ ڈویلپمنٹ (ACBAR) کو ہدایت دی کہ وہ افغان خواتین کی این جی اوز میں کام کرنے پر پابندی کی تعمیل کرائے۔ ACBAR تقریباً 200 غیر سرکاری تنظیموں کی نمائندگی کرتا ہے جو افغانستان میں انسانی امداد اور ترقیاتی کاموں میں مصروف ہیں۔ طالبان کی وزارت اقتصادیات نے اعلان کیا کہ وہ تمام این جی اوز کو خبردار کر رہی ہے کہ اگر وہ خواتین کو ملازمت دیتی رہیں گی تو ان کے آپریٹنگ لائسنس منسوخ کر دیے جائیں گے اور ان کی سرگرمیاں معطل کر دی جائیں گی۔

    پابندی کی وجہ

    طالبان نے افغان خواتین کی این جی اوز میں ملازمت پر پابندی عائد کرنے کی وجہ اسلامی لباس کے کوڈ کی خلاف ورزی کو قرار دیا ہے۔ طالبان کے مطابق، خواتین کا کام کرنا اور غیر مناسب لباس پہننا شریعت کی خلاف ورزی ہے اور ان کی حکومت اس بات کو برداشت نہیں کرے گی۔ طالبان کے مطابق یہ پابندی اسلامی اقدار کی حفاظت کے لیے ضروری ہے، تاہم عالمی انسانی حقوق کے ادارے اس موقف کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔

    عالمی ردعمل

    اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق، وولکر ترک، نے طالبان کے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کی یہ ہدایت افغان عوام کو ضروری انسان دوست امداد تک رسائی سے روک دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان خواتین کو ان کی بنیادی آزادیوں سے محروم کرنا نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے افغانستان کی سماجی اور اقتصادی ترقی بھی متاثر ہو گی۔

    وولکر ترک نے کہا: "کسی بھی ملک کی ترقی اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں، بالخصوص خواتین کو معاشرتی، اقتصادی اور سیاسی زندگی میں شریک کرتا ہے۔ افغانستان میں خواتین کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کر کے طالبان اس ملک کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔”

    خواتین کے حقوق کی پامالی

    طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد خواتین کے حقوق کی پامالی میں اضافہ ہوا ہے۔ طالبان نے پہلے ہی مختلف قوانین اور اقدامات کے ذریعے خواتین کی ذاتی آزادیوں پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ "وائس اینڈ ورچیو” قانون کے تحت خواتین پر پردے کے بغیر گھر سے باہر نکلنے، اکیلے سفر کرنے اور عوامی مقامات پر بات کرنے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ، طالبان نے لڑکیوں کی تعلیم کو بھی محدود کر دیا ہے اور انھیں زیادہ تر شعبوں میں کام کرنے سے روکا ہے۔

    عالمی تنظیموں کی مذمت

    طالبان کے اقدامات پر عالمی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ اقوام متحدہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور دیگر عالمی تنظیموں نے طالبان کے اقدامات کی شدید مذمت کی ہے اور افغان خواتین کے حقوق کی بازیابی کے لیے عالمی برادری سے فوری مداخلت کی درخواست کی ہے۔

    ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ طالبان کا یہ اقدام افغان خواتین کے لیے ایک اور سخت دھچکا ہے اور اس سے نہ صرف ان کی ذاتی آزادیوں پر اثر پڑے گا بلکہ اس سے افغانستان کی معیشت اور سماجی ترقی بھی متاثر ہو گی۔

    ہیومن رائٹس واچ نے بھی طالبان کے اس حکم کو ‘شدید امتیازی’ قرار دیا اور کہا کہ طالبان کو فوری طور پر اپنی پالیسیاں واپس لینی چاہئیں جو خواتین کو ان کے حقوق سے محروم کرتی ہیں۔

    طالبان کی پالیسیوں کا معاشرتی اثر

    طالبان کے ان اقدامات سے افغان خواتین کی معاشی، سماجی اور سیاسی زندگی پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ خواتین کے لیے تعلیم اور ملازمت کے مواقع محدود ہو چکے ہیں اور ان کی آزادی میں روز بروز کمی آ رہی ہے۔ ایک طرف تو طالبان خواتین کی عوامی زندگی میں شرکت کو مکمل طور پر ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، دوسری طرف افغانستان میں اقتصادی بحران اور انسانی امداد کی کمی بھی بڑھتی جا رہی ہے۔

    اگرچہ طالبان نے اپنے اس فیصلے کو اسلامی احکام کے تحت درست قرار دیا ہے، لیکن عالمی سطح پر اس کے خلاف آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ عالمی برادری کی جانب سے طالبان پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اپنے امتیازی قوانین اور اقدامات کو ختم کریں اور افغان خواتین کو اپنے حقوق کے لیے آزادی دیں۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleلوئر کرم میں امن کے دشمنوں نے ڈپٹی کمشنر جاوید اللہ محسود پر فائرنگ کر دی
    Next Article تربت: بس کے قریب ریموٹ کنٹرول دھماکے میں 4 افراد جاں بحق 32 زخمی
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    کابل میں دوحہ پراسیس کے تحت انسدادِ منشیات ورکنگ گروپ کا چوتھا اجلاس

    فروری 5, 2026

    کوئی دہشت گرد اور سہولت کار نہیں بخشا جائے گا، فیلڈ مارشل عاصم منیر

    فروری 4, 2026

    وفاقی دارالحکومت کے تھانے، عوام کے تحفظ کی جگہ یا خوف اور بھتے کے مراکز

    فروری 4, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    کشمیر ایک دن ضرور آزاد ہوگا، پاکستان کشمیریوں کی حمایت جاری رکھے گا، وزیراعظم

    فروری 5, 2026

    کابل میں دوحہ پراسیس کے تحت انسدادِ منشیات ورکنگ گروپ کا چوتھا اجلاس

    فروری 5, 2026

    سابق انگلش کپتان ناصر حسین کی پاکستان اور بنگلادیش کی حمایت

    فروری 5, 2026

    پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی، سفارتی و سیاسی حمایت جاری رکھے گا، صدر مملکت، وزیراعظم

    فروری 5, 2026

    کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی کو خراجِ تحسین، آج ملک بھر میں یوم یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہے

    فروری 5, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.