Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    پیر, اگست 17, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • خیبرپختونخوا میں 17 سے 21 اگست تک بارشوں کی پیشگوئی، اربن فلڈنگ اور لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ
    • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا سابق فوجیوں کے اعزاز میں استقبالیہ، خدمات کو خراجِ تحسین
    • وزیراعظم کی صدر مملکت سے اہم ملاقات، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ، ملک کی معاشی ،سیکیورٹی اور سیاسی صورتحال پر گفتگو
    • نئی دہلی میں بھی پاکستان کا یوم آزادی روایتی جوش و جذبے کیساتھ منایا گیا، صدر مملکت اور وزیراعظم کے پیغامات پڑھ کر سنائے گئے
    • ملک بھر میں 79واں یومِ آزادی ملی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے
    • یوم آزادی کی قدر
    • سوات قومی جرگے نے حکومت کو امن کے قیام کیلئے ایک ماہ کی مہلت دیدی
    • پاکستانی کوچز ایرانی کرکٹرز کی تربیت کریں گے، دونوں ممالک نے اتفاق کرلیا
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » استاد جو زندگی بناتا ہے
    بلاگ اگست 15, 2025

    استاد جو زندگی بناتا ہے

    Facebook Twitter Email
    The teacher who makes life
    یہ کہانی ہے ماسٹر حبیب اللہ کی، جو خیبرپختونخوا کے ایک سکول میں گزشتہ کئی سالوں سے تدریس کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں ۔
    Share
    Facebook Twitter Email

    دنیا میں استاد کا مرتبہ بہت بلند ہے، وہ بچوں کی تربیت کا مشکل ترین کام بخوابی سرانجام دیتا ہے ۔ کیونکہ وہ انسان کو نادانی سے آگاہی، اندھیرے سے روشنی، اور کمزوری سے طاقت کی طرف لے جاتا ہے۔ ایک ایسا کردار جو اپنی ذات کی نفی کرکے دوسروں کو سنوارتا ہے، جو ہر دن اپنے طلباء کے لیے جیتا ہے، ان کے خوابوں کو حقیقت میں ڈھالتا ہے، اور پھر خاموشی سے ایک کونے میں بیٹھ کر ان کی کامیابیوں پر مسکراتا ہے ۔

    خواب: .

    یہ کہانی ہے ماسٹر حبیب اللہ کی، جو خیبرپختونخوا کے ایک سکول میں گزشتہ کئی سالوں سے تدریس کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں، ایک چھوٹے سے کمرے میں، جس کی چھت ٹپکتی ہے، جس کی دیواروں پر پینٹ اکھڑا ہوا ہے، وہ ہر صبح سب سے پہلے پہنچتے ہیں، جھاڑو دیتے ہیں، بورڈ صاف کرتے ہیں، اور تختی پر
    بسم اللہ ۔۔ لکھ کر دن کی شروعات کرتے ہیں ۔

    ماسٹر صاحب کے پاس نہ لیپ ٹاپ ہے، نہ پروجیکٹر، نہ ہی کوئی سمارٹ ٹیچنگ ٹول، لیکن ان کا انداز تدریس ایسا ہے کہ بچے ان کے ایک ایک لفظ پر دھیان دیتے ہیں، گویا علم نہیں، زندگی سیکھ رہے ہوں ۔

    ایک جذبہ: ۔

    ماسٹر صاحب کو ہمیشہ یاد رہتا ہے وہ دن جب انھوں نے پہلی بار ساجد کو سکول میں داخل کیا ۔ ساجد ایک خاموش، الجھا ہوا سا بچہ تھا۔ وہ اکثر دیر سے آتا، کبھی ہوم ورک مکمل نہ ہوتا، اور کبھی بغیر کاپی کتابوں کے سکول آ جاتا ۔ کئی اساتذہ نے اسے نالائق قرار دے کر ہاتھ کھینچ لیا، لیکن ماسٹر صاحب نے کچھ اور دیکھا ،،،،، ایک چمک، ایک چپ چھپی تڑپ،،،

    ایک دن ماسٹر صاحب نے ساجد کو روک لیا، اور نرمی سے پوچھا،
    بیٹا۔۔۔ کیا بات ہے؟
    ساجد کی آنکھیں نم ہو گئیں ۔۔۔۔سر، ابا بیمار ہیں، میں صبح سبزی بیچتا ہوں ۔۔۔سکول دیر سے آتا ہوں ۔

    یہ وہ لمحہ تھا جب استاد نے صرف کتابوں کا نہیں، ایک بچے کا ہاتھ تھاما ۔ ماسٹر صاحب نے ساجد کو بعد از سکول پارٹ ٹائم پڑھانا شروع کیا ۔ وہ اسے کھانے کو کچھ دیتے اور ہمت دیتے ۔ وقت گزرتا گیا، ساجد بہتر ہوتا گیا، اور ایک دن وہ ضلع بھر کے امتحانات میں اول آیا ۔

    کامیابی، محنت: ۔

    ساجد کی کامیابی ماسٹر صاحب کی محنت کا پہلا بڑا صلہ تھی، لیکن وہ رکنے والے نہ تھے ۔ ان کے شاگردوں میں سے کئی اب ڈاکٹر، انجینئر، ٹیچر اور سرکاری افسر بن چکے ہیں ۔ وہ اکثر سکول آ کر ماسٹر صاحب سے ملاقات کرتے، ان کے ہاتھ چومتے اور بچوں کو بتاتے، جو کچھ بھی ہوں، ان کی بدولت ہوں ۔

    استاد کی اہمیت: ۔

    استاد صرف ایک پیشہ نہیں، یہ ایک مقدس فریضہ ہے ۔ استاد ہی ہے جو بچے کے اندر چھپے ہوئے ہیرو کو پہچانتا ہے، جو اس کی خاموشی میں چھپے درد کو سمجھتا ہے، اور جو اس کی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہوتا ہے ۔

    ہمارے معاشرے میں بدقسمتی سے استاد کو وہ مقام نہیں دیا جاتا جس کا وہ حقدار ہے ۔ کم تنخواہ، ناقص سہولیات، اور معاشرتی بے اعتنائی کے باوجود وہ روزانہ اپنی ڈیوٹی پر حاضر ہوتا ہے، صرف اس امید پر کہ شاید آج کسی بچے کی آنکھ میں چمک آ جائے، شاید آج کسی ذہن کو نئی سوچ ملے ۔

    احساسِ قربانی: ۔

    ماسٹر حبیب آج بھی موٹر سائیکل پر سکول آتے ہیں، سردی ہو یا بارش، کبھی غیر حاضر نہیں ہوتے ۔ ان کا اپنا بیٹا آج کسی پرائیویٹ ادارے میں پڑھتا ہے، لیکن ماسٹر صاحب کا کہنا ہے
    کہ میرا فرض ہے کہ جن بچوں کے والدین فیس نہیں دے سکتے، ان کو وہی تعلیم دوں جو اپنے بیٹے کو دلاتا ہوں ۔ علم امیر و غریب میں فرق نہیں کرتا ۔

    خواب کی تعبیر: ۔

    کئی سال بعد، ساجد ڈاکٹری کی تعلیم مکمل کر کے واپس اپنے گاؤں آیا ۔ اس نے سب سے پہلے ماسٹر صاحب کا دروازہ کھٹکھٹایا ۔ ہاتھ میں گلدستہ، چہرے پر عاجزی ۔
    سر۔۔۔ میں آج ڈاکٹر ساجد ہوں،،، اور یہ سب آپ کی وجہ سے ہے ۔
    ماسٹر صاحب کی آنکھیں بھر آئیں ۔ انھوں نے کہا، یہ تو میرا فرض تھا، تم نے خواب پورا کیا، مجھے تم پر فخر ہے ۔یہ لمحہ ایک استاد کی پوری زندگی کا صلہ ہوتا ہے، جب اس کا شاگرد کامیابی کی بلندیوں پر پہنچ کر اس کا شکریہ ادا کرتا ہے ۔ یہی وہ لمحہ ہے جب ایک استاد کو لگتا ہے، میری زندگی بیکار نہیں گئی ۔

    معمارِ قوم: ۔

    آج جب دنیا جدیدیت کی طرف دوڑ رہی ہے، جب آرٹیفیشل انٹیلیجنس، ٹیکنالوجی، اور ڈیجیٹل لرننگ کا دور ہے، تب بھی ایک سادہ سا استاد، ایک چاک اور ایک بورڈ کے ساتھ، انسانوں کو باشعور انسان بنا رہا ہے ۔

    ہمیں استاد کو صرف ٹیچر نہیں، ایک رہنما، ایک معمار، ایک محسن کے طور پر دیکھنا چاہیے ۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہ سکھانا ہو گا کہ جس طرح ماں باپ کے قدموں تلے جنت ہے، ویسے ہی استاد کے قدموں تلے روشنی ہے ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleموڈیز کی ریٹنگ اپ گریڈ ایک مثبت پیش رفت
    Next Article وزیراعظم شهبازشريف کی خیبرپختونخوا میں ریسکیو ریلیف آپریشن کیلئے تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت
    عروج خان
    • Website

    Related Posts

    یوم آزادی کی قدر

    اگست 13, 2026

    شاہینوں کا وہ سپہ سالار جس نے فضاؤں کا نصاب بدل دیا

    اگست 7, 2026

    آخر کب تک؟ معصوم بچوں کے خلاف جنسی جرائم، معاشرتی زوال اور ہماری اجتماعی ذمہ داری. تحریر: نازپروین

    جولائی 1, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    خیبرپختونخوا میں 17 سے 21 اگست تک بارشوں کی پیشگوئی، اربن فلڈنگ اور لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ

    اگست 17, 2026

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کا سابق فوجیوں کے اعزاز میں استقبالیہ، خدمات کو خراجِ تحسین

    اگست 15, 2026

    وزیراعظم کی صدر مملکت سے اہم ملاقات، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ، ملک کی معاشی ،سیکیورٹی اور سیاسی صورتحال پر گفتگو

    اگست 14, 2026

    نئی دہلی میں بھی پاکستان کا یوم آزادی روایتی جوش و جذبے کیساتھ منایا گیا، صدر مملکت اور وزیراعظم کے پیغامات پڑھ کر سنائے گئے

    اگست 14, 2026

    ملک بھر میں 79واں یومِ آزادی ملی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے

    اگست 14, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.