اسلام آباد سے لیاقت علی خٹک کی خصوصی تحریر: ۔
14اگست صرف کیلنڈر پر درج ایک تاریخ نہیں بلکہ یہ اس جدوجہد، قربانی اور عزم کی یاد ہے جس کے نتیجے میں برصغیر کے مسلمانوں کو ایک آزاد وطن نصیب ہوا۔ یہ وہ دن ہے جب پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک آزاد ریاست کی حیثیت سے ابھرا۔ اس آزادی کے پیچھے لاکھوں لوگوں کی دعائیں، جدوجہد، ہجرتیں اور بے شمار قربانیاں شامل ہیں ۔
پاکستان کا قیام محض زمین کے ایک ٹکڑے کا حصول نہیں تھا بلکہ ایک ایسے وطن کا خواب تھا جہاں مسلمان اپنی تہذیب، شناخت اور اقدار کے مطابق آزادانہ زندگی گزار سکیں۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے اپنی سیاسی بصیرت، اصول پسندی اور انتھک جدوجہد سے اس خواب کو حقیقت کا روپ دیا۔ علامہ محمد اقبالؒ نے مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کا تصور پیش کیا، جبکہ برصغیر کے مسلمانوں نے اس مقصد کے لیے بے مثال قربانیاں دیں ۔
آزادی کی اصل قدر وہی قوم جان سکتی ہے جس نے غلامی دیکھی ہو۔ ہمارے بزرگوں نے اپنے گھر بار چھوڑے، جان و مال کی قربانیاں دیں اور ایک نئے مستقبل کی امید لے کر پاکستان کا رخ کیا۔ آج ہمارا فرض ہے کہ ہم ان قربانیوں کو صرف تقریروں اور نعروں تک محدود نہ رکھیں بلکہ اپنے کردار سے ثابت کریں کہ ہم اس وطن کی قدر کرتے ہیں ۔
افسوس کہ ہم نے آزادی کو اکثر صرف جشن، جھنڈوں، ملی نغموں اور آتش بازی تک محدود کر دیا ہے۔ حقیقی آزادی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم قانون کا احترام کریں، اپنے فرائض ایمانداری سے ادا کریں، دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں، کرپشن اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائیں اور اپنے ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں ۔
پاکستان کو آج بھی بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ معیشت کی مضبوطی، تعلیم کا فروغ، روزگار کے مواقع، امن و امان، سیاسی استحکام اور اداروں پر عوام کے اعتماد کی بحالی ایسے مسائل ہیں جن پر سنجیدگی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن مسائل کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں، ایک قوم کا عزم ان سے بڑا ہوتا ہے ۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان صرف حکمرانوں، سیاست دانوں یا اداروں کا ملک نہیں؛ یہ ہم سب کا وطن ہے۔ ایک طالب علم کا ایمانداری سے تعلیم حاصل کرنا، ایک استاد کا فرض شناسی سے پڑھانا، ایک مزدور کا محنت کرنا، ایک صحافی کا ذمہ داری سے سچ بیان کرنا اور ایک شہری کا قانون کی پاسداری کرنا—یہ سب پاکستان کی تعمیر میں حصہ ہیں ۔
14 اگست ہمیں ماضی کی قربانیوں کو یاد کرنے کے ساتھ مستقبل کی ذمہ داریوں کا احساس بھی دلاتا ہے۔ ہمیں خود سے سوال کرنا ہوگا کہ جس پاکستان کا خواب ہمارے بزرگوں نے دیکھا تھا، کیا ہم اسے اسی سمت لے جا رہے ہیں؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر تبدیلی کا آغاز دوسروں سے نہیں، خود ہم سے ہونا چاہیے ۔
آزادی ایک عظیم نعمت ہے، مگر اس نعمت کی حفاظت صرف سرحدوں پر نہیں ہوتی؛ اس کی حفاظت کردار، اتحاد، محنت، دیانت اور ذمہ داری سے بھی ہوتی ہے۔ اگر ہم اپنے اختلافات کو قومی مفاد کے تابع کر دیں اور پاکستان کو اپنی ذات، جماعت اور مفاد پر مقدم رکھیں تو کوئی وجہ نہیں کہ یہ ملک ترقی کی نئی منزلیں طے نہ کرے ۔
آئیے اس چودہ اگست پر صرف جشن منانے کے بجائے ایک عہد بھی کریں کہ ہم پاکستان کو مضبوط، پرامن، خوشحال اور باوقار بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔ یہی ان لوگوں کو حقیقی خراجِ عقیدت ہوگا جنہوں نے پاکستان کے حصول کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔
پاکستان ہماری پہچان ہے، ہماری ذمہ داری ہے اور ہمارا مستقبل بھی۔ آزادی کا جشن تب ہی مکمل ہوگا جب ہم آزادی کی قدر بھی کریں گے اور اس کی ذمہ داریاں بھی نبھائیں گے۔ پاکستان زندہ باد!

