خصوصي تحریر: رحیم شامزئی
تاریخ گواہ ہے کہ قومیں عموماً دہائیوں میں کروٹ بدلتی ہیں، مگر کبھی کبھار قدرت کسی ایک فرد کو اس لیے چُنتی ہے کہ وہ قوم کی تقدیر راتوں رات بدل دے، پاک فضائیہ کے سپہ سالار، ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، بلاشبہ ایسے ہی نادر افراد کی فہرست میں شمار ہوتے ہیں، جب سے انھوں نے کمان سنبھالی ہے، یہ ادارہ محض ترقی کی منازل طے نہیں کر رہا بلکہ اپنی نئی تاریخ خود لکھ رہا ہے ۔
سب سے پہلے بات کریں اس ذہنی انقلاب کی جو ان کی قیادت کا اصل جوہر ہے، ہم نے ہمیشہ سنا تھا کہ جنگیں طیاروں اور میزائلوں سے لڑی جاتی ہیں، مگر ائیر چیف مارشل سدھو نے یہ ثابت کیا کہ جنگیں دراصل "سسٹمز” اور "نظریات” سے جیتی جاتی ہیں، ان کا سب سے بڑا کارنامہ ایک مکمل ملٹی ڈومین "کِل چین” کا قیام ہے، جہاں فضا، خلا، سائبر اسپیس اور الیکٹرونک وارفیئر ایک ایسے مربوط جنگی جال میں ڈھل گئے ہیں کہ دشمن کا سر اٹھانا ہی دشوار ہو گیا ہے، یہ کوئی درآمد شدہ حل نہیں، پاکستانی ذہنوں کی اپنی تخلیق ہے، اور یہی اس کی سب سے بڑی خوبی ہے ۔
مئی 2025ء کا "معرکہِ حق” اس حکمت عملی کا زندہ ثبوت ہے، جب عددی اور تکنیکی برتری کا زعم رکھنے والی بھارتی فضائیہ اپنے رافیل، سخوئی اور میرج جیسے طیاروں کے ساتھ آئی تو اسے جس تاریخی عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا، وہ پاکستانی شاہینوں کی پیشہ ورانہ مہارت اور ان کے سپہ سالار کی جنگی بصیرت کا براہ راست نتیجہ تھی۔ دشمن اپنے گرائے گئے طیاروں کی گنتی تو چھپا سکتا ہے، مگر اپنی بے بسی نہیں چھپا سکا ۔
اور پھر وہ منظر آیا جس نے پوری دنیا کے دفاعی ماہرین کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا، روسی S-400 نظام جسے "ناقابلِ تسخیر” سمجھا جاتا تھا، ائیر چیف مارشل کی حکمت عملی کے سامنے ایسا بے بس ہوا جیسے کوئی طفلِ مکتب ہو، یہ صرف ایک ہتھیار کو ناکارہ بنانا نہیں تھا، یہ دشمن کے پورے دفاعی فلسفے کو بے معنی کر دینا تھا۔ یہ ثابت ہو گیا کہ لاکھوں ڈالر کے سسٹم اس وقت تک بیکار ہیں جب تک ان کا سامنا ظہیر احمدبابرسدھو جیسی حکمت عملی سے نہ ہو ۔
خود انحصاری کا جو بیج ائیر چیف مارشل نے "نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک” کی صورت میں بویا، وہ اب ایک تناور درخت بن چکا ہے، آج پاکستان اپنے ڈرون، اپنے الیکٹرونک وارفیئر سسٹمز، اور اپنی مرضی کی ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے۔ جے ایف-17 بلاک 3 اور جے-10 سی طیاروں کی شمولیت نے فضائی بیڑے کو اس صدی کی جنگوں کے لیے تیار کر دیا ہے ۔
یہ سب پڑھتے اور دیکھتے ہوئے ایک بات دل میں اترتی ہے کہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو محض ایک افسر نہیں، ایک ادارے کی روح ہیں، انھوں نے وہ کر دکھایا جو عام طور پر نسلوں میں ممکن ہوتا ہے، پاک فضائیہ کو "سیکنڈ ٹو نان” کے نعرے سے ہم آہنگ ایک ناقابلِ تسخیر حقیقت بنا دیا ۔
قوم کو ایسے سپوتوں پر جتنا ناز ہو کم ہے، سلام ہے اس بلند ہمت، دور اندیش اور قوم کے نگہبان سپہ سالار کو ۔

