اسلام آباد سے مبارک علی کی خصوصی تحریر:۔
26 اگست 2026 وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے زچہ و بچہ (MCH) وارڈ کی نرسری میں صبح سویرے آگ لگنے کا انتہائی دلخراش سانحہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں 14 سے نومولود بچے جاں بحق ہو گئے ۔
آتشزدگی کا یہ افسوسناک واقعہ صبح تقریباً 6 بج کر 45 منٹ پر پمز ہسپتال کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ (MCH) وارڈ کی تیسری منزل پر واقع بچوں کی نرسری (انٹینسیو کیئر یونٹ/NICU) میں پیش آیا ۔
واقعے کے وقت وارڈ میں 15 نومولود بچے انکیوبیٹرز پر یا آکسیجن کی فراہمی کے آلات سے منسلک تھے، جن میں سے صرف ایک بچے کو بحفاظت بچایا جا سکا ۔
شروع میں ریسکیو ذرائع نے بتایا کہ آگ ایئر کنڈیشنر (AC) کے کمپریسر میں دھماکے یا شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی،پمز ہسپتال کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، یہ حادثہ شارٹ سرکٹ کا نہیں بلکہ نرسری میں انکیوبیٹر کے ساتھ منسلک آکسیجن کی مقدار جانچنے والے نیبولائزر کے پھٹنے کے باعث پیش آیا، آکسیجن سپلائی کی موجودگی نے آگ کو تیزی سے پھیلایا ۔
رپورٹ کے مطابق نرسری میں دھواں بھر جانے کی وجہ سے وہ پائپ کے ذریعے معصوم بچوں کے سانس کے نظام میں داخل ہو گیا، بچوں کی اموات دم گھٹنے، آکسیجن بند ہونے اور شدید جھلسنے کے باعث ہوئیں ۔
کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی CDA فائر بریگیڈ اور ایمرجنسی سروسز کی 6 گاڑیوں اور 4 ایمبولینسوں نے آپریشن میں حصہ لیا،ریسکیو اہلکاروں نے کھڑکیوں کی گرل توڑ کر نرسری میں پھنسے دیگر 19 افراد (جن میں 10 خواتین اور 2 مرد شامل تھے) کو بحفاظت باہر نکالا ۔
سی ڈی اے کی فائر رپورٹ میں ہسپتال کے فائر سیفٹی انتظامات کو ناکافی اور غیر معیاری قرار دیا گیا ہے،وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے پر شدید برہمی اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی سیکریٹری صحت کو فوری طور پر عہدے سے ہٹا دیا ہے ۔
واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے ۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور کہا کہ 6 بج کر 38 منٹ پر ہونے والے اسپاٹ کی ویڈیو موجود ہے، انہوں نے خود کو احتساب کے لیے پیش کرتے ہوئے غفلت کے ذمہ داران کو سخت سزا دینے کا عزم ظاہر کیا ۔
وزیر صحت کے مطابق، جاں بحق ہونے والے بچوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے (DNA) ٹیسٹ کے نمونے حاصل کیے جا رہے ہیں تاکہ لاشیں درست طور پر سوگوار والدین کے حوالے کی جا سکیں ۔

