وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی نے اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کے حوالے سے مجھے نہیں کہا تاہم صوبائی معاملات پر اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت اور تعلقات کی بہتری کیلئے تیار ہوں، کوئی تقریب یا میٹنگ ہوئی تو فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ضرور ملوں گا ۔
پشاور میں سینئر صحافیوں سے ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کے حوالے سے بانی پاکستان تحریک انصاف نے بات چیت کا ٹاسک محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کے حوالے کیا گیا ہے،تاہم میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ صوبائی معاملات پر بات چیت اور تعلقات بہتر کرنے کے لیے تیار ہوں ۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے میری ملاقات نہیں کرائی جا رہی ہے، ملک میں آئین و قانون کی بالادستی ہونی چاہیے اور ڈرون حملے بند ہونے چاہئیں، حکومت اسٹیبلشمنٹ سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایسی پالیسی بنانی چاہیے جو عوامی مفادات کے مطابق ہو ۔
وزیراعلی نے کہا کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے بات چیت کے حالات اور ماحول سازگار ہونا چاہیے، پی ٹی آئی کی قیادت کو بھی مضبوط سانس کے ساتھ میدان میں اترنا ہوگا ۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ کوئی تقریب یا میٹنگ ہوئی تو فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ضرور ملوں گا، پشاور کو ترقی دیں گے تاہم لاہور جیسی نہیں جہاں جلسہ جلوس کرنے پر پابندی ہے، وفاق نے ضم اضلاع کے لیے اے آئی پی کے تحت 700 ارب روپے بقایاجات ابھی تک ادا نہیں کیے ۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے اے آئی پی کے تحت برسوں میں صرف 168 ارب روپے دیے ہیں، بجلی کے خالص منافع سمیت دیگر بقایاجات کی مد میں وفاقی حکومت نے ہمارے 4 ہزار ارب روپے سے زیادہ دینے ہیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ کرپشن کے حوالے سے میری حکومت کی زیروٹالرنس پالیسی ہے، میری حکومت کے اصول شفافیت، میرٹ، ترقی اور کرپشن کا خاتمہ ہیں، ضم اضلاع کے لیے 1000 ارب میں سے اب بھی 700ارب سے زائد مرکز کے ذمہ بقایا ہیں ۔
انہوں نے بتایا کہ تیراہ سمیت جہاں سے بھی لوگ نقل مکانی کرتے ہیں، معاوضوں کی ادائیگی صوبائی حکومت ہی کرے گی تاہم آج بھی آپریشنز کے مخالف ہیں، ہم نے صوبائی اسمبلی میں گرینڈ جرگہ بھی اسی مقصد کے لیے بلایا جس نے آپریشنز کی مخالفت کی ۔

