Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, جنوری 29, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • وادی تیراہ میں کوئی فوجی آپریشن نہیں، صرف نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائیاں جاری ہیں: طلال چودھری
    • کوہستان اسکینڈل: نیب کی یکمشت 4 ارب 5 کروڑ روپے کی ریکوری قومی خزانے میں جمع
    • سوات: تعلیمی اداروں کیلئے تھریٹ الرٹ جاری، سکیورٹی انتظامات مزید مؤثر بنانے کیلئے رابطہ تیز
    • ایران کے ساتھ کشیدگی، امریکی بحری بیڑا مشرقِ وسطیٰ پہنچ گیا
    • ملکی بحران اور حکومتی شاہ خرچیاں
    • بنوں میں عسکریت پسندوں کے ٹیکنالوجی سے لیس حملے
    • لکی مروت: پولیس چھاپے کے دوران ایس ایچ او زخمی، عباسہ خٹک میں سولر ٹیوب ویل پر دھماکہ
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخواہ
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی جیسے مسائل کا حل ضروری ہے، جے شکر
    اہم خبریں

    دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی جیسے مسائل کا حل ضروری ہے، جے شکر

    اکتوبر 16, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Addressing issues like terrorism, separatism and extremism is essential, says Jay Shukhar
    دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی جیسے مسائل کا حل ضروری ہے، جے شکر
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد:بھارتی  وزیر  خارجہ جے شنکر نے   ایس سی او کانفرنس سے خطاب کے دوران  عالمی چیلنجوں سے نمٹنے اور  باہمی تعاون کو مضبوط بنانے کا مطالبہ کیا  ہے  ۔

    اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم کانفرنس سے بھارتی  وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے پاکستان کو ایس سی او اجلاس کی میزبانی پر مبارکباد دی۔ جے شنکر نے عالمی چیلنجنگ منظر نامے پر روشنی ڈالی اور تنظیم کے ارکان پر زور دیا کہ وہ ایس سی او کے چارٹر خاص طور پر باہمی اعتماد، علاقائی تعاون اور تنازعات کی روک تھام کے اس کے بنیادی مقاصد پر غور کریں۔

    جے  شنکر  کا  کہنا  تھا  کہ  ہمارا اجلاس ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دنیا مشکل دور سے گزر رہی ہے۔ دو بڑے تنازع جاری ہیں جن کے پوری دنیا پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ کورونا نے وبا نے ترقی پذیرممالک کو بری طرح متاثرکیا۔ ایس سی او کے رکن ممالک کو قرضوں سمیت مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔

    بھارتی خارجہ وزیر نے  خطے میں دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی جیسے مسائل کے حل پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایس سی او کے چارٹر کو موجودہ صورتحال میں دیکھا جائے تو ان تینوں سے نمٹنے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ ان چیلنجز کے خاتمے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ دیانت داری سے بات چیت ضروری ہے۔ باہمی اعتماد کی کمی یا ناکافی تعاون کے باعث اگر ہمسایوں کے تعلقات اور دوستی اچھی نہیں تو اس کی وجوہات کا پتا لگانا اور ان وجوہات کو ختم کرنا بہت ضروری ہے۔

    جے شنکر نے اپنے خطاب کے دوران علاقائی استحکام کو نقصان پہنچانے والے یکطرفہ ایجنڈوں کے خلاف بھی خبردار کیا اور کہا کہ جو ممالک تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع فراہم کرتی ہے، اس سے خطے کو  بہت فائدہ پہنچے گا۔

    جے شنکر کی تقریر نے عالمی نظم و نسق میں زیادہ سے زیادہ کردار کے لیے ہندوستان کی خواہشات کا  ذکر  بھی  کیا، جس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کا مطالبہ بھی شامل ہے، جس کی پاکستان نے مخالفت کی۔ انہوں نے یہ کہتے ہوئے نتیجہ اخذ کیا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اندر حقیقی پیشرفت اس کے بانی اصولوں کے ساتھ پختہ عزم اور دو طرفہ تناؤ کو تعمیری انداز میں حل کرنے پر منحصر ہے۔

    دوسری جانب پاکستانی تجزیہ کاروں نے شنگھائی تعاون تنظیم  کانفرنس میں بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی حالیہ تقریر کو سفارتی انداز اور انتخابی بیانیے کا مرکب قرار دیا ۔ جبکہ جے شنکر نے ایس سی او کی پاکستان کی صدارت کو تسلیم کیا، ان کے ریمارکس میں دہشت گردی کے بارے میں جانی پہچانی تنقیدیں ضرور شامل تھیں۔

    تجزیہ کار کہتے ہیں کہ "تین برائیوں” کے بار بار حوالہ جات یعنی دہشت گردی، علیحدگی پسندی، اور انتہا پسندی کو بھارت کے اپنے اندرونی چیلنجز جیسے کشمیر اور منی پور جیسے مسائل کو حل کیے بغیر سرحد پار کے مسائل کو اجاگر کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

    مزید برآں، خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر جے شنکر کے زور کو چین پاکستان اقتصادی راہداری یعنی سی پیک کی درپردہ مخالفت کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو پاکستان میں شامل علاقائی منصوبوں کے خلاف ہندوستان کی دیرینہ مزاحمت کی نشاندہی کرتا ہے۔ ناقدین نوٹ کرتے ہیں کہ علاقائی تعاون کے لیے ہندوستان کی وکالت جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون کی تنظیم (سارک) کی مخالفت اور پاکستان کے ساتھ تجارت پر اس کی پابندیوں سے سخت تضاد رکھتی ہے، جس سے منتخب علاقائیت کا نمونہ ظاہر ہوتا ہے۔

    تجزیہ کار وں کے مطابق جے شنکر کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کا مطالبہ عالمی سطح پر ہندوستان کے وسیع تر عزائم کے مطابق ہے، لیکن پاکستان اسے بین الاقوامی گورننس ڈھانچے میں غیر متناسب اثر و رسوخ کو مستحکم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھتا ہے۔

    تجزیہ کار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اندر حقیقی تعاون کے لیے ہندوستان کو صرف کثیرالجہتی فورمز پر انحصار کرنے کے بجائے دیرینہ دوطرفہ تناؤ کو حل کرنے کے لیے پاکستان کے ساتھ مخلصانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleشنگھائی تعاون تنظیم اجلاس،رکن ممالک کا تنازعات حل کرنے کا عزم ،نئے اقتصادی ڈا ئیلاگ پر اتفاق ،مشترکہ اعلامیہ جاری
    Next Article دوسرے ٹیسٹ کے دوسرے دن کا کھیل ختم، انگلینڈ نے 6 وکٹ پر239 رنز بنالیے
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    وادی تیراہ میں کوئی فوجی آپریشن نہیں، صرف نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائیاں جاری ہیں: طلال چودھری

    جنوری 28, 2026

    کوہستان اسکینڈل: نیب کی یکمشت 4 ارب 5 کروڑ روپے کی ریکوری قومی خزانے میں جمع

    جنوری 28, 2026

    سوات: تعلیمی اداروں کیلئے تھریٹ الرٹ جاری، سکیورٹی انتظامات مزید مؤثر بنانے کیلئے رابطہ تیز

    جنوری 28, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    وادی تیراہ میں کوئی فوجی آپریشن نہیں، صرف نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائیاں جاری ہیں: طلال چودھری

    جنوری 28, 2026

    کوہستان اسکینڈل: نیب کی یکمشت 4 ارب 5 کروڑ روپے کی ریکوری قومی خزانے میں جمع

    جنوری 28, 2026

    سوات: تعلیمی اداروں کیلئے تھریٹ الرٹ جاری، سکیورٹی انتظامات مزید مؤثر بنانے کیلئے رابطہ تیز

    جنوری 28, 2026

    ایران کے ساتھ کشیدگی، امریکی بحری بیڑا مشرقِ وسطیٰ پہنچ گیا

    جنوری 27, 2026

    ملکی بحران اور حکومتی شاہ خرچیاں

    جنوری 27, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.