دفترِ خارجہ پاکستان کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا ہے کہ شواہد موجود ہیں جن کے مطابق مئی کے حالیہ تنازع کے دوران بھارت نے سیزفائر کے نفاذ کے لیے ایک تیسرے ملک کے ذریعے مداخلت کی درخواست کی۔
انہوں نے پاکستان میں دہشت گردی میں بھارت کے کردار کی نشاندہی کرتے ہوئے کلبھوشن یادیو جیسے نیٹ ورکس کا حوالہ دیا اور کہا کہ بھارت مطلوب مجرموں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتا ہے۔
ایران کے حوالے سے ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان کسی بھی بیرونی جارحیت یا دھمکی کی مخالفت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ماضی میں بھی ایران پر پابندیوں کا مخالف رہا ہے اور آج بھی انہیں غیر مؤثر اور نقصان دہ سمجھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے اندرونی معاملات اس کا اپنا حق ہیں اور پاکستان کسی ہمسایہ ملک کے داخلی امور میں مداخلت نہیں کرتا۔
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مضبوط اور کثیرالجہتی نوعیت کے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کسی مخصوص دفاعی پلیٹ فارم یا قرضے سے متعلق کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی دفاعی معاہدے کا باضابطہ اعلان صرف رسمی تکمیل کے بعد ہی کیا جائے گا۔
اضافی پاکستانی افواج کو سعودی عرب بھیجنے سے متعلق قیاس آرائیوں پر بات کرتے ہوئے طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ اس حوالے سے کوئی سرکاری فیصلہ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ افواج کی تعداد میں اضافے سے متعلق افواہوں کی تصدیق نہیں کی جا سکتی، البتہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ دفاعی فریم ورک کے تحت مختلف منصوبوں پر بات چیت جاری ہے۔

