Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    پیر, جولائی 20, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • وفاقی حکومت کا کفایت شعاری اقدامات جاری رکھنے کا فیصلہ
    • پاکستان اور کینیڈا کے وزرائے خارجہ کی ملاقات: انسداد دہشت گردی، کشمیر اور سندھ طاس معاہدے سے متعلق گفتگو
    • ایم ایل ون اور تھر کول ریلوے پر پیش رفت کا جائزہ: وزیراعظم کی ریلوے منصوبے تیز کرنے کی ہدایت
    • خیبرپختونخوا، اسلام آباد اور دیگر علاقوں میں بارش سے موسم خوشگوار، 30 جولائی تک سلسلہ جاری رہنے کا امکان
    • سنسنی خیز مقابلے کے بعد انگلینڈ کی بھارت کے خلاف 27 رنز سے فتح، بیتھل پلیئر آف دی میچ
    • اسپین نے ارجنٹینا کو شکست دے کر فیفا ورلڈ کپ 2026 جیت لیا
    • فیفا ورلڈ کپ فائنل آج، اسپین اور ارجنٹینا کے ٹاکرے سے قبل اور ہاف ٹائم میں ستاروں کی کہکشاں سجے گی
    • اقوامِ متحدہ: افغانستان اب بھی ٹی ٹی پی، القاعدہ اور داعش کی سرگرمیوں کا مرکز، طالبان روابط ختم کرنے میں ناکام
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » کسی فیصلے میں نہیں لکھا کہ فوجی عدالتیں عدلیہ کا حصہ ہیں، آئینی بینچ
    قومی خبریں

    کسی فیصلے میں نہیں لکھا کہ فوجی عدالتیں عدلیہ کا حصہ ہیں، آئینی بینچ

    مارچ 5, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    It is not written in any decision that military courts are part of the judiciary, the constitutional bench
    آج تک جتنے فیصلہ ہوئے کسی میں بھی ملٹری کورٹ سے متعلق کلیریٹی نہیں، آئینی بنچ
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد: جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 7 رکنی لارجر بینچ نے فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل کے فیصلے کیخلاف اپیلوں پر سماعت کی

    سماعت کے دوران جسٹس محمد علی مظہر نے  کہا ہے کہ پہلے ملٹری کورٹ کو جوڈیشری تسلیم کریں اور پھر عدلیہ سے الگ کرنے کی بات کریں، آرمڈ فورسز عدلیہ کا حصہ نہیں ہیں،کسی عدالتی فیصلے میں نہیں لکھا کہ ملٹری کورٹ عدلیہ ہے ۔

    بشریٰ قمر کے وکیل عابد زبیری نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل کی تحریری یقین دہانیوں کا ذکر 5 رکنی بینچ کے فیصلے میں موجود ہے، جن کے نمبر بھی فیصلے کا حصہ ہیں، ایف بی علی 1965 کی جنگ کا ہیرو تھا جس پر ریٹائرمنٹ کے بعد اپنےآفس پر اثر رسوخ استعمال کرنے کا الزام لگا،ایک ریٹائرڈ شخص کیسے اپنے آفس کو استعمال کر سکتا ہے؟ جنرل ضیاالحق نے ایف بی علی کا ملٹری ٹرائل کیا، جنرل ضیاالحق نے 1978 میں ایف بی علی کو چھوڑ دیا ۔

    جسٹس جمال مندوخیل نےکہا کہ جو کام ایف بی علی کرنا چاہ رہا تھا، وہ ضیاالحق نے کیا، جسٹس محمد علی نےکہا کہ آرمی ایکٹ میں ملٹری ٹرائل کے لیے مکمل طریقہ کار فراہم کیا گیا ہے، طریقہ کار میں بنیادی حقوق کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے، آرمی ایکٹ میں فراہم طریقہ کار پر عمل نہ کرنا الگ بات ہے،طریقہ کار پر عمل نہ ہو تو اس کی دستیابی کا کوئی فائدہ نہیں، ملٹری کورٹ پر غیر جانبدار نہ ہونے اور قانونی تجربہ نہ ہونے کے الزامات لگائے گئے ہیں ۔

    عابد زبیری نے کہا کہ ملٹری کورٹ ایگزیکٹو کا حصہ ہے ، جسٹس محمد علی نے استفسار کیا کہ آرمی کا کیا کام ہوتا ہے؟ آرمی کے کام میں ایگزیکٹیو کہاں سے آگیا؟ کیا آپ ملٹری کورٹ تسلیم کرتے ہیں؟اگر تسلیم کرتے ہیں تو نتائج کچھ اور ہوں گے، جسٹس منیب اختر نے ملٹری کورٹ کو عدلیہ نہیں لکھا ۔

    عابد زبیری نےکہا کہ فوج کا کام سرحد پر لڑنا ہے، جسٹس جمال مندوخیل نےکہا کہ فوج کا کام ملک کا دفاع کرنا ہے ۔

    عابد زبیری نےکہا کہ عدالت فیصلے میں قرار دے چکی کہ سول نوعیت کے جرائم پر شہریوں کا کورٹ مارشل نہیں ہوسکتا، فوجی عدالتیں آئین کے تحت بنے عدالتی نظام کا حصہ نہیں ہیں، فوجی عدالتوں میں ٹرائل صرف ان شہریوں کا ہوسکتا ہےجو فوج کا حصہ ہوں، آرٹیکل 10 اے اور 4 کی موجودگی میں شہریوں کا کورٹ مارشل ممکن نہیں ۔

    جسٹس محمد علی نےکہاکہ آج تک جتنے فیصلہ ہوئے کسی میں بھی ملٹری کورٹ سے متعلق کلیریٹی نہیں، عابد زبیری نےکہا کہ ملٹری تنصیبات پر حملوں کے معاملے پر ترمیم کرکے ملٹری ٹرائل میں شامل کرلیا گیا ۔

    جسٹس حسن رضوی نےکہا کہ حملےتو اب بھی ہو رہے ہیں، گزشتہ روز بنوں کینٹ میں حملہ کوا، جسٹس مندوخیل نےکہاکہ سیکشن ٹو ڈی میں ملٹری کورٹ نہیں لکھابلکہ لکھا ہے کہ جرم پر ٹرائل ہوگا لیکن ٹرائل کا فورم نہیں لکھا،شواہد ہو تو انسداد دہشت گردی عدالتیں بھی سزائیں دیتی ہے ۔

    جسٹس حسن رضوی نےکہاکہ ایسے کیسز کہاں چل رہے ہیں؟ اگر انسداددہشت گردی عدالت میں چل رہے ہوتے تو رپورٹنگ ہوتی، جسٹس محمد علی نےکہاکہ پہلے ملٹری کورٹ کو جوڈیشری تسلیم کریں اور پھر عدلیہ سے الگ کرنے کی بات کریں، آرمڈ فورسز عدلیہ کا حصہ نہیں ہیں،کسی عدالتی فیصلے میں نہیں لکھا کہ ملٹری کورٹ عدلیہ ہے ۔

    عابدزبیری نے اپنے دلائل مکمل کرلیے، لاہور بار کے وکیل حامد خان آئندہ سماعت پر اپنے دلائل کا آغاز کریں گے، عدالت نے سماعت کل تک ملتوی کردی ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleامریکی صدر کا افغانستان میں دہشتگردی کے خلاف تعاون پر پاکستان کا خصوصی شکریہ
    Next Article امریکی قومی سلامتی کے مشیر مائیکل والٹز کا اسحاق ڈار کو فون، دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر شکریہ
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    خیبرپختونخوا، اسلام آباد اور دیگر علاقوں میں بارش سے موسم خوشگوار، 30 جولائی تک سلسلہ جاری رہنے کا امکان

    جولائی 20, 2026

    حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کر دیا

    جولائی 18, 2026

    بنوں کے بکاخیل میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن دوسرے روز بھی جاری، کرفیو نافذ

    جولائی 18, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    وفاقی حکومت کا کفایت شعاری اقدامات جاری رکھنے کا فیصلہ

    جولائی 20, 2026

    پاکستان اور کینیڈا کے وزرائے خارجہ کی ملاقات: انسداد دہشت گردی، کشمیر اور سندھ طاس معاہدے سے متعلق گفتگو

    جولائی 20, 2026

    ایم ایل ون اور تھر کول ریلوے پر پیش رفت کا جائزہ: وزیراعظم کی ریلوے منصوبے تیز کرنے کی ہدایت

    جولائی 20, 2026

    خیبرپختونخوا، اسلام آباد اور دیگر علاقوں میں بارش سے موسم خوشگوار، 30 جولائی تک سلسلہ جاری رہنے کا امکان

    جولائی 20, 2026

    سنسنی خیز مقابلے کے بعد انگلینڈ کی بھارت کے خلاف 27 رنز سے فتح، بیتھل پلیئر آف دی میچ

    جولائی 20, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.