Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    اتوار, اپریل 19, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • اسلام آباد اور راولپنڈی میں سیکیورٹی کے پیش نظر ٹرانسپورٹ معطل، ایران اور امریکہ مذاکرات کا امکان
    • پیرس کانفرنس میں عالمی رہنماؤں کا سمندری تجارتی راستوں کے تحفظ پر اتفاق
    • ملک بھر میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا امکان، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری
    • امریکہ سے مذاکرات میں پیشرفت ہوئی ہے لیکن اب بھی بہت فاصلہ ہے، اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ
    • پی ایس ایل 11: راولپنڈیزکو مسلسل ساتویں شکست، لاہور 32 رنز سے کامیاب
    • پاکستانی عازمینِ حج کی پہلی پرواز مدینہ منورہ پہنچ گئی، حج مشن کا شاندار استقبال
    • امریکی تجاویز کا جائزہ جاری: ایرانی سلامتی کونسل کا اہم بیان
    • وزیر اعظم شہباز شریف سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کے کامیاب دورے کے بعد پاکستان پہنچ گئے
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » کسی فیصلے میں نہیں لکھا کہ فوجی عدالتیں عدلیہ کا حصہ ہیں، آئینی بینچ
    قومی خبریں

    کسی فیصلے میں نہیں لکھا کہ فوجی عدالتیں عدلیہ کا حصہ ہیں، آئینی بینچ

    مارچ 5, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    It is not written in any decision that military courts are part of the judiciary, the constitutional bench
    آج تک جتنے فیصلہ ہوئے کسی میں بھی ملٹری کورٹ سے متعلق کلیریٹی نہیں، آئینی بنچ
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد: جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 7 رکنی لارجر بینچ نے فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل کے فیصلے کیخلاف اپیلوں پر سماعت کی

    سماعت کے دوران جسٹس محمد علی مظہر نے  کہا ہے کہ پہلے ملٹری کورٹ کو جوڈیشری تسلیم کریں اور پھر عدلیہ سے الگ کرنے کی بات کریں، آرمڈ فورسز عدلیہ کا حصہ نہیں ہیں،کسی عدالتی فیصلے میں نہیں لکھا کہ ملٹری کورٹ عدلیہ ہے ۔

    بشریٰ قمر کے وکیل عابد زبیری نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل کی تحریری یقین دہانیوں کا ذکر 5 رکنی بینچ کے فیصلے میں موجود ہے، جن کے نمبر بھی فیصلے کا حصہ ہیں، ایف بی علی 1965 کی جنگ کا ہیرو تھا جس پر ریٹائرمنٹ کے بعد اپنےآفس پر اثر رسوخ استعمال کرنے کا الزام لگا،ایک ریٹائرڈ شخص کیسے اپنے آفس کو استعمال کر سکتا ہے؟ جنرل ضیاالحق نے ایف بی علی کا ملٹری ٹرائل کیا، جنرل ضیاالحق نے 1978 میں ایف بی علی کو چھوڑ دیا ۔

    جسٹس جمال مندوخیل نےکہا کہ جو کام ایف بی علی کرنا چاہ رہا تھا، وہ ضیاالحق نے کیا، جسٹس محمد علی نےکہا کہ آرمی ایکٹ میں ملٹری ٹرائل کے لیے مکمل طریقہ کار فراہم کیا گیا ہے، طریقہ کار میں بنیادی حقوق کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے، آرمی ایکٹ میں فراہم طریقہ کار پر عمل نہ کرنا الگ بات ہے،طریقہ کار پر عمل نہ ہو تو اس کی دستیابی کا کوئی فائدہ نہیں، ملٹری کورٹ پر غیر جانبدار نہ ہونے اور قانونی تجربہ نہ ہونے کے الزامات لگائے گئے ہیں ۔

    عابد زبیری نے کہا کہ ملٹری کورٹ ایگزیکٹو کا حصہ ہے ، جسٹس محمد علی نے استفسار کیا کہ آرمی کا کیا کام ہوتا ہے؟ آرمی کے کام میں ایگزیکٹیو کہاں سے آگیا؟ کیا آپ ملٹری کورٹ تسلیم کرتے ہیں؟اگر تسلیم کرتے ہیں تو نتائج کچھ اور ہوں گے، جسٹس منیب اختر نے ملٹری کورٹ کو عدلیہ نہیں لکھا ۔

    عابد زبیری نےکہا کہ فوج کا کام سرحد پر لڑنا ہے، جسٹس جمال مندوخیل نےکہا کہ فوج کا کام ملک کا دفاع کرنا ہے ۔

    عابد زبیری نےکہا کہ عدالت فیصلے میں قرار دے چکی کہ سول نوعیت کے جرائم پر شہریوں کا کورٹ مارشل نہیں ہوسکتا، فوجی عدالتیں آئین کے تحت بنے عدالتی نظام کا حصہ نہیں ہیں، فوجی عدالتوں میں ٹرائل صرف ان شہریوں کا ہوسکتا ہےجو فوج کا حصہ ہوں، آرٹیکل 10 اے اور 4 کی موجودگی میں شہریوں کا کورٹ مارشل ممکن نہیں ۔

    جسٹس محمد علی نےکہاکہ آج تک جتنے فیصلہ ہوئے کسی میں بھی ملٹری کورٹ سے متعلق کلیریٹی نہیں، عابد زبیری نےکہا کہ ملٹری تنصیبات پر حملوں کے معاملے پر ترمیم کرکے ملٹری ٹرائل میں شامل کرلیا گیا ۔

    جسٹس حسن رضوی نےکہا کہ حملےتو اب بھی ہو رہے ہیں، گزشتہ روز بنوں کینٹ میں حملہ کوا، جسٹس مندوخیل نےکہاکہ سیکشن ٹو ڈی میں ملٹری کورٹ نہیں لکھابلکہ لکھا ہے کہ جرم پر ٹرائل ہوگا لیکن ٹرائل کا فورم نہیں لکھا،شواہد ہو تو انسداد دہشت گردی عدالتیں بھی سزائیں دیتی ہے ۔

    جسٹس حسن رضوی نےکہاکہ ایسے کیسز کہاں چل رہے ہیں؟ اگر انسداددہشت گردی عدالت میں چل رہے ہوتے تو رپورٹنگ ہوتی، جسٹس محمد علی نےکہاکہ پہلے ملٹری کورٹ کو جوڈیشری تسلیم کریں اور پھر عدلیہ سے الگ کرنے کی بات کریں، آرمڈ فورسز عدلیہ کا حصہ نہیں ہیں،کسی عدالتی فیصلے میں نہیں لکھا کہ ملٹری کورٹ عدلیہ ہے ۔

    عابدزبیری نے اپنے دلائل مکمل کرلیے، لاہور بار کے وکیل حامد خان آئندہ سماعت پر اپنے دلائل کا آغاز کریں گے، عدالت نے سماعت کل تک ملتوی کردی ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleامریکی صدر کا افغانستان میں دہشتگردی کے خلاف تعاون پر پاکستان کا خصوصی شکریہ
    Next Article امریکی قومی سلامتی کے مشیر مائیکل والٹز کا اسحاق ڈار کو فون، دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر شکریہ
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    اسلام آباد اور راولپنڈی میں سیکیورٹی کے پیش نظر ٹرانسپورٹ معطل، ایران اور امریکہ مذاکرات کا امکان

    اپریل 19, 2026

    ملک بھر میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا امکان، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

    اپریل 19, 2026

    پاکستانی عازمینِ حج کی پہلی پرواز مدینہ منورہ پہنچ گئی، حج مشن کا شاندار استقبال

    اپریل 18, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    اسلام آباد اور راولپنڈی میں سیکیورٹی کے پیش نظر ٹرانسپورٹ معطل، ایران اور امریکہ مذاکرات کا امکان

    اپریل 19, 2026

    پیرس کانفرنس میں عالمی رہنماؤں کا سمندری تجارتی راستوں کے تحفظ پر اتفاق

    اپریل 19, 2026

    ملک بھر میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا امکان، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

    اپریل 19, 2026

    امریکہ سے مذاکرات میں پیشرفت ہوئی ہے لیکن اب بھی بہت فاصلہ ہے، اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ

    اپریل 19, 2026

    پی ایس ایل 11: راولپنڈیزکو مسلسل ساتویں شکست، لاہور 32 رنز سے کامیاب

    اپریل 18, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.