Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, اگست 12, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • یاسر عرفات شہید: موٹر وے پر فرض کی ادائیگی میں جامِ شہادت نوش کرنے والے افسر کو قائد اعظم پولیس میڈل
    • شمالی وزیرستان میں خفیہ اطلاع پر متعدد آپریشنز کے دوران 4 اہم کمانڈرز سمیت 62 دہشتگرد ہلاک، کئی ٹھکانے تباہ
    • بلوچستان:ضلع سوراب میں بارودی گاڑی کی تیاری کے دوران دھماکہ اور کارروائی، 18 دہشتگرد ہلاک، 3 شہری بھی جاں بحق
    • کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ جنرل سید عامر رضا کو نشان امتیاز (ملٹری) سے نواز دیا گیا
    • پنجگور میں خفیہ اطلاع پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 5 دہشت گرد ہلاک
    • بلوچستان کے مسائل کا حل علیحدگی پسندی یا تشدد نہیں، سینیٹر انوارالحق کاکڑ
    • پشاور ہائیکورٹ کا افغان صحافیوں کو ملک بدر نہ کرنے کا حکم، وفاقی حکومت کو 60 دن میں فیصلہ کرنے کی ہدایت
    • راولپنڈی: مال روڈ پر فائرنگ کرنے والا ملزم سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں ہلاک
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر
    بلاگ جولائی 6, 2025

    خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر

    Facebook Twitter Email
    Terrorism Returns to Khyber Pakhtunkhwa Amid Rising Militant Activity
    Security Challenges Deepen in Khyber Pakhtunkhwa with New Wave of Violence
    Share
    Facebook Twitter Email

    خیبرپختونخوا خصوصاً قبائلی اضلاع، ایک بار پھر دہشت گردی کی لپیٹ میں ہیں۔ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ پرتشدد واقعات روزمرہ کا معمول بن چکے ہیں۔ ان علاقوں میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) دوبارہ سرگرم ہو چکی ہے، جو اپنے خود ساختہ "آپریشن الخندق” کے تحت مختلف دہشت گرد کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کر رہی ہے۔ اس تنظیم نے یہ آپریشن چند ماہ قبل شروع کیا تھا اور اس کے تحت سکیورٹی فورسز پر حملوں سمیت متعدد پرتشدد کارروائیاں انجام دی جا چکی ہیں۔

    ٹی ٹی پی کے ساتھ ساتھ طالبان کا حافظ گل بہادر گروپ بھی میدان میں سرگرم ہے۔ اس گروپ سے وابستہ کئی چھوٹے گروہ، جن میں "اسود الحرب” نامی ذیلی تنظیم بھی شامل ہے، مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے دیکھے جا رہے ہیں۔ ان تنظیموں کی سرگرمیوں میں تیزی سے نہ صرف سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے بلکہ مقامی آبادی کو بھی خوفزدہ کیا جا رہا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق خیبر اور جنوبی اضلاع میں تین شدت پسند گروپوں  لشکر اسلام، تحریک انقلاب اسلامی اور اتحاد المجاہدین پاکستان  نے ایک نیا اتحاد قائم کر لیا ہے۔ یہ اتحاد مشترکہ کارروائیوں میں مصروف ہے اور حالیہ حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کر چکا ہے۔ ان گروہوں کا مقصد مقامی آبادی اور سکیورٹی اداروں کے درمیان اعتماد کو ختم کرنا ہے، اور بظاہر وہ اس میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ ان علاقوں میں حکومت پر اعتماد کی کمی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے، جس کا فائدہ شدت پسند عناصر اٹھا رہے ہیں۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت اور سکیورٹی فورسز کی موجودہ انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی محض ردعمل پر مبنی ہے۔ کسی واقعے کے بعد جوابی کارروائی تو کی جاتی ہے، مگر پیشگی روک تھام پر توجہ نہیں دی جا رہی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک فعال حکمت عملی اختیار کی جائے جس کے تحت ان تنظیموں کو منظم ہونے سے پہلے ہی غیر مؤثر بنایا جا سکے۔

    موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے کچھ حلقے اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ حکومت ایک نئے فوجی آپریشن کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ ماضی میں "آپریشن ضرب عضب” اور "راہ نجات” جیسے اقدامات کے ذریعے دہشت گردوں کا بڑی حد تک صفایا کیا گیا تھا، لیکن اب وہی شدت پسند گروہ دوبارہ منظم ہو کر کارروائیاں کر رہے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلے کا مستقل حل اب تک تلاش نہیں کیا جا سکا۔

    حال ہی میں بعض علاقوں میں ڈرون حملوں کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔ ان حملوں میں استعمال کیے جانے والے ڈرونز جدید فوجی ٹیکنالوجی نہیں بلکہ کیمرے والے کواڈ کاپٹرز ہوتے ہیں جن کے ساتھ دیسی ساختہ بم باندھ دیے جاتے ہیں۔ ان ڈرونز کا نشانہ اکثر درست نہیں ہوتا جس کے باعث جانی نقصان کے ساتھ ساتھ خوف و ہراس بھی بڑھ رہا ہے۔

    اگرچہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پر باڑ لگائی جا چکی ہے، تاہم شدت پسند عناصر کی نقل و حرکت بدستور جاری ہے۔ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ صرف فزیکل سکیورٹی اقدامات کافی نہیں، بلکہ انٹیلیجنس، مقامی شراکت داری اور سیاسی استحکام بھی ناگزیر ہیں۔

    مجموعی طور پر خیبرپختونخوا ایک سنگین سکیورٹی بحران سے دوچار ہے۔ شدت پسند گروہوں کی منظم واپسی، عوام کا حکومتی اداروں سے بڑھتا ہوا عدم اعتماد، اور سکیورٹی پالیسیوں کی خامیاں، سب مل کر صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران پورے ملک کے لیے خطرے کی گھنٹی بن سکتا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleحضرت امام حسین علیہ السلام نے باطل کے خلاف ابدی جدوجہد کی علامت قائم کی،صدر مملکت اور وزیراعظم کا یومِ عاشور پر خصوصی پیغام
    Next Article سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی نے نیا پروسیجر 2025 جاری کردیا
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    شاہینوں کا وہ سپہ سالار جس نے فضاؤں کا نصاب بدل دیا

    اگست 7, 2026

    آخر کب تک؟ معصوم بچوں کے خلاف جنسی جرائم، معاشرتی زوال اور ہماری اجتماعی ذمہ داری. تحریر: نازپروین

    جولائی 1, 2026

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر، تحریر: قریش خٹک

    مئی 13, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    یاسر عرفات شہید: موٹر وے پر فرض کی ادائیگی میں جامِ شہادت نوش کرنے والے افسر کو قائد اعظم پولیس میڈل

    اگست 12, 2026

    شمالی وزیرستان میں خفیہ اطلاع پر متعدد آپریشنز کے دوران 4 اہم کمانڈرز سمیت 62 دہشتگرد ہلاک، کئی ٹھکانے تباہ

    اگست 12, 2026

    بلوچستان:ضلع سوراب میں بارودی گاڑی کی تیاری کے دوران دھماکہ اور کارروائی، 18 دہشتگرد ہلاک، 3 شہری بھی جاں بحق

    اگست 12, 2026

    کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ جنرل سید عامر رضا کو نشان امتیاز (ملٹری) سے نواز دیا گیا

    اگست 11, 2026

    پنجگور میں خفیہ اطلاع پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 5 دہشت گرد ہلاک

    اگست 11, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.