Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, ستمبر 8, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پاسکو اور یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش کے عمل میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرصدارت اجلاس
    • شزہ فاطمہ خواجہ کی LEAP 2026 میں شرکت، ٹیک ڈیسٹنیشن پاکستان پویلین کا افتتاح
    • پاک چین میڈیا تعاون ایشیا بحرالکاہل میں مشترکہ خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے،ڈاکٹر شذرہ منصب علی
    • سٹاک ایکسچینج: عام شہریوں کی شرکت سے معاشی ترقی تیز ہو سکتی ہے، یوسف رضا گیلانی
    • ویمنز ایشیا کپ: آئی سی سی نے قومی ٹیم کی کپتان فاطمہ ثناء پرجرمانہ عائد کردیا
    • خیبر پختونخوا میں عدالتوں کے ایک دن کے بائیکاٹ سےعوام کے 12 کروڑ روپے ضائع ہوتے ہیں، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ
    • بھارت کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے حصول کیلئے اپنے وعدے پورے کرے، پاکستان
    • مادرِ وطن کا دفاع مقدس امانت ہے، ثابت قدمی سے نبھاتے رہیں گے: ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر
    بلاگ جولائی 6, 2025

    خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر

    Facebook Twitter Email
    Terrorism Returns to Khyber Pakhtunkhwa Amid Rising Militant Activity
    Security Challenges Deepen in Khyber Pakhtunkhwa with New Wave of Violence
    Share
    Facebook Twitter Email

    خیبرپختونخوا خصوصاً قبائلی اضلاع، ایک بار پھر دہشت گردی کی لپیٹ میں ہیں۔ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ پرتشدد واقعات روزمرہ کا معمول بن چکے ہیں۔ ان علاقوں میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) دوبارہ سرگرم ہو چکی ہے، جو اپنے خود ساختہ "آپریشن الخندق” کے تحت مختلف دہشت گرد کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کر رہی ہے۔ اس تنظیم نے یہ آپریشن چند ماہ قبل شروع کیا تھا اور اس کے تحت سکیورٹی فورسز پر حملوں سمیت متعدد پرتشدد کارروائیاں انجام دی جا چکی ہیں۔

    ٹی ٹی پی کے ساتھ ساتھ طالبان کا حافظ گل بہادر گروپ بھی میدان میں سرگرم ہے۔ اس گروپ سے وابستہ کئی چھوٹے گروہ، جن میں "اسود الحرب” نامی ذیلی تنظیم بھی شامل ہے، مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے دیکھے جا رہے ہیں۔ ان تنظیموں کی سرگرمیوں میں تیزی سے نہ صرف سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے بلکہ مقامی آبادی کو بھی خوفزدہ کیا جا رہا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق خیبر اور جنوبی اضلاع میں تین شدت پسند گروپوں  لشکر اسلام، تحریک انقلاب اسلامی اور اتحاد المجاہدین پاکستان  نے ایک نیا اتحاد قائم کر لیا ہے۔ یہ اتحاد مشترکہ کارروائیوں میں مصروف ہے اور حالیہ حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کر چکا ہے۔ ان گروہوں کا مقصد مقامی آبادی اور سکیورٹی اداروں کے درمیان اعتماد کو ختم کرنا ہے، اور بظاہر وہ اس میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ ان علاقوں میں حکومت پر اعتماد کی کمی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے، جس کا فائدہ شدت پسند عناصر اٹھا رہے ہیں۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت اور سکیورٹی فورسز کی موجودہ انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی محض ردعمل پر مبنی ہے۔ کسی واقعے کے بعد جوابی کارروائی تو کی جاتی ہے، مگر پیشگی روک تھام پر توجہ نہیں دی جا رہی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک فعال حکمت عملی اختیار کی جائے جس کے تحت ان تنظیموں کو منظم ہونے سے پہلے ہی غیر مؤثر بنایا جا سکے۔

    موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے کچھ حلقے اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ حکومت ایک نئے فوجی آپریشن کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ ماضی میں "آپریشن ضرب عضب” اور "راہ نجات” جیسے اقدامات کے ذریعے دہشت گردوں کا بڑی حد تک صفایا کیا گیا تھا، لیکن اب وہی شدت پسند گروہ دوبارہ منظم ہو کر کارروائیاں کر رہے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلے کا مستقل حل اب تک تلاش نہیں کیا جا سکا۔

    حال ہی میں بعض علاقوں میں ڈرون حملوں کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔ ان حملوں میں استعمال کیے جانے والے ڈرونز جدید فوجی ٹیکنالوجی نہیں بلکہ کیمرے والے کواڈ کاپٹرز ہوتے ہیں جن کے ساتھ دیسی ساختہ بم باندھ دیے جاتے ہیں۔ ان ڈرونز کا نشانہ اکثر درست نہیں ہوتا جس کے باعث جانی نقصان کے ساتھ ساتھ خوف و ہراس بھی بڑھ رہا ہے۔

    اگرچہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پر باڑ لگائی جا چکی ہے، تاہم شدت پسند عناصر کی نقل و حرکت بدستور جاری ہے۔ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ صرف فزیکل سکیورٹی اقدامات کافی نہیں، بلکہ انٹیلیجنس، مقامی شراکت داری اور سیاسی استحکام بھی ناگزیر ہیں۔

    مجموعی طور پر خیبرپختونخوا ایک سنگین سکیورٹی بحران سے دوچار ہے۔ شدت پسند گروہوں کی منظم واپسی، عوام کا حکومتی اداروں سے بڑھتا ہوا عدم اعتماد، اور سکیورٹی پالیسیوں کی خامیاں، سب مل کر صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران پورے ملک کے لیے خطرے کی گھنٹی بن سکتا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleحضرت امام حسین علیہ السلام نے باطل کے خلاف ابدی جدوجہد کی علامت قائم کی،صدر مملکت اور وزیراعظم کا یومِ عاشور پر خصوصی پیغام
    Next Article سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی نے نیا پروسیجر 2025 جاری کردیا
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    پمز سانحے کے اصل حقائق

    اگست 26, 2026

    یوم آزادی کی قدر

    اگست 13, 2026

    شاہینوں کا وہ سپہ سالار جس نے فضاؤں کا نصاب بدل دیا

    اگست 7, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پاسکو اور یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش کے عمل میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرصدارت اجلاس

    ستمبر 7, 2026

    شزہ فاطمہ خواجہ کی LEAP 2026 میں شرکت، ٹیک ڈیسٹنیشن پاکستان پویلین کا افتتاح

    ستمبر 7, 2026

    پاک چین میڈیا تعاون ایشیا بحرالکاہل میں مشترکہ خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے،ڈاکٹر شذرہ منصب علی

    ستمبر 7, 2026

    سٹاک ایکسچینج: عام شہریوں کی شرکت سے معاشی ترقی تیز ہو سکتی ہے، یوسف رضا گیلانی

    ستمبر 7, 2026

    ویمنز ایشیا کپ: آئی سی سی نے قومی ٹیم کی کپتان فاطمہ ثناء پرجرمانہ عائد کردیا

    ستمبر 7, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.