Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, اپریل 30, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • وفاقی وزراء کی معرکۂ حق کے کمسن مجاہد ارتضیٰ عباس شہید کے گھر آمد
    • قدرتی وسائل یا معاشرتی وبال؟ خیبر پختونخوا کی تلخ حقیقت، تحریر: قریش خٹک
    • عوام کے لیے خوشخبری، نارمل پاسپورٹ کا اجرا اب صرف 14 دن میں
    • ملک کے بیشتر علاقوں میں گرمی برقرار، بالائی علاقوں میں بارش کی پیشگوئی
    • سرحد پار گولہ باری: انگور اڈہ میں افغان طالبان کا مبینہ حملہ، ایک ہی خاندان کے 5 افراد زخمی
    • اسلام آباد: اپنا گھر اسکیم کا اجراء، وزیرِ اعظم شہباز شریف کی شرکت
    • پاکستان اسٹاک مارکیٹ مندی کا شکار، ہنڈرڈ انڈیکس 3304 پوائنٹس گر گیا
    • کابل میں پاکستانی ناظم الامور کی طلبی، پاکستان نے ڈی مارش کو پراپیگنڈا قرار دے دیا
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر
    بلاگ

    خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر

    جولائی 6, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Terrorism Returns to Khyber Pakhtunkhwa Amid Rising Militant Activity
    Security Challenges Deepen in Khyber Pakhtunkhwa with New Wave of Violence
    Share
    Facebook Twitter Email

    خیبرپختونخوا خصوصاً قبائلی اضلاع، ایک بار پھر دہشت گردی کی لپیٹ میں ہیں۔ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ پرتشدد واقعات روزمرہ کا معمول بن چکے ہیں۔ ان علاقوں میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) دوبارہ سرگرم ہو چکی ہے، جو اپنے خود ساختہ "آپریشن الخندق” کے تحت مختلف دہشت گرد کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کر رہی ہے۔ اس تنظیم نے یہ آپریشن چند ماہ قبل شروع کیا تھا اور اس کے تحت سکیورٹی فورسز پر حملوں سمیت متعدد پرتشدد کارروائیاں انجام دی جا چکی ہیں۔

    ٹی ٹی پی کے ساتھ ساتھ طالبان کا حافظ گل بہادر گروپ بھی میدان میں سرگرم ہے۔ اس گروپ سے وابستہ کئی چھوٹے گروہ، جن میں "اسود الحرب” نامی ذیلی تنظیم بھی شامل ہے، مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے دیکھے جا رہے ہیں۔ ان تنظیموں کی سرگرمیوں میں تیزی سے نہ صرف سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے بلکہ مقامی آبادی کو بھی خوفزدہ کیا جا رہا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق خیبر اور جنوبی اضلاع میں تین شدت پسند گروپوں  لشکر اسلام، تحریک انقلاب اسلامی اور اتحاد المجاہدین پاکستان  نے ایک نیا اتحاد قائم کر لیا ہے۔ یہ اتحاد مشترکہ کارروائیوں میں مصروف ہے اور حالیہ حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کر چکا ہے۔ ان گروہوں کا مقصد مقامی آبادی اور سکیورٹی اداروں کے درمیان اعتماد کو ختم کرنا ہے، اور بظاہر وہ اس میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ ان علاقوں میں حکومت پر اعتماد کی کمی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے، جس کا فائدہ شدت پسند عناصر اٹھا رہے ہیں۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت اور سکیورٹی فورسز کی موجودہ انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی محض ردعمل پر مبنی ہے۔ کسی واقعے کے بعد جوابی کارروائی تو کی جاتی ہے، مگر پیشگی روک تھام پر توجہ نہیں دی جا رہی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک فعال حکمت عملی اختیار کی جائے جس کے تحت ان تنظیموں کو منظم ہونے سے پہلے ہی غیر مؤثر بنایا جا سکے۔

    موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے کچھ حلقے اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ حکومت ایک نئے فوجی آپریشن کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ ماضی میں "آپریشن ضرب عضب” اور "راہ نجات” جیسے اقدامات کے ذریعے دہشت گردوں کا بڑی حد تک صفایا کیا گیا تھا، لیکن اب وہی شدت پسند گروہ دوبارہ منظم ہو کر کارروائیاں کر رہے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلے کا مستقل حل اب تک تلاش نہیں کیا جا سکا۔

    حال ہی میں بعض علاقوں میں ڈرون حملوں کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔ ان حملوں میں استعمال کیے جانے والے ڈرونز جدید فوجی ٹیکنالوجی نہیں بلکہ کیمرے والے کواڈ کاپٹرز ہوتے ہیں جن کے ساتھ دیسی ساختہ بم باندھ دیے جاتے ہیں۔ ان ڈرونز کا نشانہ اکثر درست نہیں ہوتا جس کے باعث جانی نقصان کے ساتھ ساتھ خوف و ہراس بھی بڑھ رہا ہے۔

    اگرچہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پر باڑ لگائی جا چکی ہے، تاہم شدت پسند عناصر کی نقل و حرکت بدستور جاری ہے۔ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ صرف فزیکل سکیورٹی اقدامات کافی نہیں، بلکہ انٹیلیجنس، مقامی شراکت داری اور سیاسی استحکام بھی ناگزیر ہیں۔

    مجموعی طور پر خیبرپختونخوا ایک سنگین سکیورٹی بحران سے دوچار ہے۔ شدت پسند گروہوں کی منظم واپسی، عوام کا حکومتی اداروں سے بڑھتا ہوا عدم اعتماد، اور سکیورٹی پالیسیوں کی خامیاں، سب مل کر صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران پورے ملک کے لیے خطرے کی گھنٹی بن سکتا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleحضرت امام حسین علیہ السلام نے باطل کے خلاف ابدی جدوجہد کی علامت قائم کی،صدر مملکت اور وزیراعظم کا یومِ عاشور پر خصوصی پیغام
    Next Article سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی نے نیا پروسیجر 2025 جاری کردیا
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    چراغِ امن

    اپریل 29, 2026

    خون کا دامن اور زندگی کی امانت

    اپریل 28, 2026

    مہنگائی کا طوفان: عوامی زندگی پر بڑھتا دباؤ اور ممکنہ حل، تحریر: ثمن سرفراز

    اپریل 28, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    وفاقی وزراء کی معرکۂ حق کے کمسن مجاہد ارتضیٰ عباس شہید کے گھر آمد

    اپریل 30, 2026

    قدرتی وسائل یا معاشرتی وبال؟ خیبر پختونخوا کی تلخ حقیقت، تحریر: قریش خٹک

    اپریل 30, 2026

    عوام کے لیے خوشخبری، نارمل پاسپورٹ کا اجرا اب صرف 14 دن میں

    اپریل 30, 2026

    ملک کے بیشتر علاقوں میں گرمی برقرار، بالائی علاقوں میں بارش کی پیشگوئی

    اپریل 30, 2026

    سرحد پار گولہ باری: انگور اڈہ میں افغان طالبان کا مبینہ حملہ، ایک ہی خاندان کے 5 افراد زخمی

    اپریل 30, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.