Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, مئی 14, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • دفتر خارجہ کا امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کے پاکستان مخالف بیان پر ردعمل
    • ورلڈ کپ سے قبل ایرانی فٹبال ٹیم کے اعزاز میں تہران میں شاندار الوداعی تقریب
    • ہمیں ایک دوسرے کا حریف نہیں بلکہ شراکت دار بننا چاہیے، چینی صدر کی ٹرمپ سے ملاقات میں گفتگو
    • دو سال میں ریلوے منافع بخش ادارہ بن گیا، 8 ارب روپے سے زائد خسارہ ختم
    • پاکستان ڈیجیٹل سرمایہ کاری کے لیے پرکشش مقام بنتا جا رہا ہے: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار
    • خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر، تحریر: قریش خٹک
    • بلوچستان کی بہادر بیٹیاں پاک فوج میں شمولیت اور قومی خدمت کے لیے پُرعزم
    • معرکۂ حق میں پاکستان کو ہر محاذ پر کامیابی حاصل ہوئی، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » خیبر پختونخوا کے معدنی وسائل پر کس کا کنٹرول؟
    اہم خبریں

    خیبر پختونخوا کے معدنی وسائل پر کس کا کنٹرول؟

    اپریل 12, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Who Controls KP’s Minerals? New Bill Sparks Political Firestorm
    Power Grab or Reform? PTI’s New Mining Bill Raises Eyebrows in Khyber Pakhtunkhwa
    Share
    Facebook Twitter Email

    خیبر پختونخوا کی حکومت نے معدنی وسائل کے حوالے سے ایک نیا قانون اسمبلی میں پیش کیا ہے جس نے سیاسی ماحول کو گرم کر دیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ قانون معدنیات کے شعبے میں اصلاحات لائے گا، لیکن حزب اختلاف اس کو ’صوبائی وسائل پر وفاقی قبضے کی سازش‘ قرار دے رہی ہے۔

    4 اپریل کو پیش کیے گئے اس نئے مجوزہ بل میں اگرچہ زیادہ تر شقیں 2017 کے معدنیات ایکٹ سے لی گئی ہیں، لیکن اس بار اسے "ترمیمی” کی بجائے نیا قانون قرار دیا گیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ قانون ضم شدہ اضلاع میں 2030 تک نافذ نہیں ہوگا۔

    پہلے محکمہ معدنیات لائسنس جاری کرتا تھا، لیکن اب "بڑے منصوبے” ایک نئی لائسسنگ اتھارٹی کے سپرد ہوں گے۔ یہ اتھارٹی دو تہائی اکثریت سے فیصلے کرے گی اور وفاقی تجاویز پر عمل درآمد بھی کر سکے گی — جس پر سب سے بڑا اعتراض ہے۔ دوسری جانب، "چھوٹے منصوبے” اب ایک الگ مائنر منرلز لائسسنگ اتھارٹی کو سونپے جائیں گے۔

    ایک ایسا ڈیجیٹل سسٹم لایا جا رہا ہے جس میں تمام لیز، نیلامی اور درخواستوں کی تفصیلات موجود ہوں گی۔ مگر اس میں بھی وفاقی ہدایات پر عمل لازم قرار دیا گیا ہے، جسے حزب اختلاف "مداخلت” تصور کر رہی ہے۔

    نئی اتھارٹیز میں مختلف سرکاری محکموں کے افسران، قانونی، ماحولیاتی اور جنگلات کے نمائندے، اور یہاں تک کہ جی آئی ایس آفیسر بھی شامل ہوں گے۔

    عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے اس بل کو 18ویں ترمیم کے خلاف قرار دے کر مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ اے این پی کے رہنما میاں افتخار حسین کا کہنا ہے کہ "یہ قانون پختونخوا کے وسائل پر قبضے کی سازش ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔”

    یہی نہیں، پی ٹی آئی کے کچھ اپنے اراکین نے بھی اس بل پر حیرانی کا اظہار کیا ہے کہ "کابینہ نے یہ بل کیسے منظور کیا؟”

    وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ "یہ صرف اصلاحات ہیں، اور کوئی بھی صوبائی اختیار وفاق کو نہیں دیا جا رہا۔” ان کے مطابق، "بل میں شفافیت لانے کی کوشش ہو رہی ہے، اور جو مائننگ مافیا ہے وہ اپنی گرفت ڈھیلی ہوتے دیکھ کر واویلا کر رہا ہے۔”

    انہوں نے بتایا کہ صرف پلیسر گولڈ کی نیلامی سے 5 ارب روپے کی آمدن ہوئی، اور مستقبل میں یہی شفافیت ہر سطح پر لائی جائے گی۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپاکستان کے مختلف شہروں میں زلزلہ
    Next Article  محنت ہی کامیابی کی کنجی ہے، نور زمان
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    دفتر خارجہ کا امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کے پاکستان مخالف بیان پر ردعمل

    مئی 14, 2026

    ورلڈ کپ سے قبل ایرانی فٹبال ٹیم کے اعزاز میں تہران میں شاندار الوداعی تقریب

    مئی 14, 2026

    ہمیں ایک دوسرے کا حریف نہیں بلکہ شراکت دار بننا چاہیے، چینی صدر کی ٹرمپ سے ملاقات میں گفتگو

    مئی 14, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    دفتر خارجہ کا امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کے پاکستان مخالف بیان پر ردعمل

    مئی 14, 2026

    ورلڈ کپ سے قبل ایرانی فٹبال ٹیم کے اعزاز میں تہران میں شاندار الوداعی تقریب

    مئی 14, 2026

    ہمیں ایک دوسرے کا حریف نہیں بلکہ شراکت دار بننا چاہیے، چینی صدر کی ٹرمپ سے ملاقات میں گفتگو

    مئی 14, 2026

    دو سال میں ریلوے منافع بخش ادارہ بن گیا، 8 ارب روپے سے زائد خسارہ ختم

    مئی 13, 2026

    پاکستان ڈیجیٹل سرمایہ کاری کے لیے پرکشش مقام بنتا جا رہا ہے: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار

    مئی 13, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.