Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, جون 4, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پی ٹی آئی دور میں مالی بے ضابطگی کی تحقیقات کیلیے نیب سے مدد طلب
    • گرین پاکستان انیشی ایٹو کے تحت قدرتی حسن کو معاشی ترقی کا مؤثر ذریعہ بنانے کیلیے اہم اقدامات
    • آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیے جانے کا امکان
    • بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدہ، برطانوی پارلیمان میں بحث، انسانی حقوق سے متعلق تشویش کا اظہار
    • فوزیہ کوفی نے افغان طالبان رجیم کا بھیانک چہرہ بے نقاب کردیا
    • برآمدات پر مبنی ترقیاتی اہداف کا حصول ہماری اولین ترجیح ہے ، وزیراعظم شہباز شریف
    • سولر صارفین پر اضافی بوجھ ڈالنے کا کوئی منصوبہ نہیں، پاور ڈویژن
    • نائب وزیراعظم کی سلامتی کونسل کے نئے غیر مستقل اراکین کو منتخب ہونے پر مبارکباد
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » خیبر پختونخوا کے معدنی وسائل پر کس کا کنٹرول؟
    اہم خبریں

    خیبر پختونخوا کے معدنی وسائل پر کس کا کنٹرول؟

    اپریل 12, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Who Controls KP’s Minerals? New Bill Sparks Political Firestorm
    Power Grab or Reform? PTI’s New Mining Bill Raises Eyebrows in Khyber Pakhtunkhwa
    Share
    Facebook Twitter Email

    خیبر پختونخوا کی حکومت نے معدنی وسائل کے حوالے سے ایک نیا قانون اسمبلی میں پیش کیا ہے جس نے سیاسی ماحول کو گرم کر دیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ قانون معدنیات کے شعبے میں اصلاحات لائے گا، لیکن حزب اختلاف اس کو ’صوبائی وسائل پر وفاقی قبضے کی سازش‘ قرار دے رہی ہے۔

    4 اپریل کو پیش کیے گئے اس نئے مجوزہ بل میں اگرچہ زیادہ تر شقیں 2017 کے معدنیات ایکٹ سے لی گئی ہیں، لیکن اس بار اسے "ترمیمی” کی بجائے نیا قانون قرار دیا گیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ قانون ضم شدہ اضلاع میں 2030 تک نافذ نہیں ہوگا۔

    پہلے محکمہ معدنیات لائسنس جاری کرتا تھا، لیکن اب "بڑے منصوبے” ایک نئی لائسسنگ اتھارٹی کے سپرد ہوں گے۔ یہ اتھارٹی دو تہائی اکثریت سے فیصلے کرے گی اور وفاقی تجاویز پر عمل درآمد بھی کر سکے گی — جس پر سب سے بڑا اعتراض ہے۔ دوسری جانب، "چھوٹے منصوبے” اب ایک الگ مائنر منرلز لائسسنگ اتھارٹی کو سونپے جائیں گے۔

    ایک ایسا ڈیجیٹل سسٹم لایا جا رہا ہے جس میں تمام لیز، نیلامی اور درخواستوں کی تفصیلات موجود ہوں گی۔ مگر اس میں بھی وفاقی ہدایات پر عمل لازم قرار دیا گیا ہے، جسے حزب اختلاف "مداخلت” تصور کر رہی ہے۔

    نئی اتھارٹیز میں مختلف سرکاری محکموں کے افسران، قانونی، ماحولیاتی اور جنگلات کے نمائندے، اور یہاں تک کہ جی آئی ایس آفیسر بھی شامل ہوں گے۔

    عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے اس بل کو 18ویں ترمیم کے خلاف قرار دے کر مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ اے این پی کے رہنما میاں افتخار حسین کا کہنا ہے کہ "یہ قانون پختونخوا کے وسائل پر قبضے کی سازش ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔”

    یہی نہیں، پی ٹی آئی کے کچھ اپنے اراکین نے بھی اس بل پر حیرانی کا اظہار کیا ہے کہ "کابینہ نے یہ بل کیسے منظور کیا؟”

    وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ "یہ صرف اصلاحات ہیں، اور کوئی بھی صوبائی اختیار وفاق کو نہیں دیا جا رہا۔” ان کے مطابق، "بل میں شفافیت لانے کی کوشش ہو رہی ہے، اور جو مائننگ مافیا ہے وہ اپنی گرفت ڈھیلی ہوتے دیکھ کر واویلا کر رہا ہے۔”

    انہوں نے بتایا کہ صرف پلیسر گولڈ کی نیلامی سے 5 ارب روپے کی آمدن ہوئی، اور مستقبل میں یہی شفافیت ہر سطح پر لائی جائے گی۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپاکستان کے مختلف شہروں میں زلزلہ
    Next Article  محنت ہی کامیابی کی کنجی ہے، نور زمان
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    پی ٹی آئی دور میں مالی بے ضابطگی کی تحقیقات کیلیے نیب سے مدد طلب

    جون 4, 2026

    آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیے جانے کا امکان

    جون 4, 2026

    فوزیہ کوفی نے افغان طالبان رجیم کا بھیانک چہرہ بے نقاب کردیا

    جون 4, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پی ٹی آئی دور میں مالی بے ضابطگی کی تحقیقات کیلیے نیب سے مدد طلب

    جون 4, 2026

    گرین پاکستان انیشی ایٹو کے تحت قدرتی حسن کو معاشی ترقی کا مؤثر ذریعہ بنانے کیلیے اہم اقدامات

    جون 4, 2026

    آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیے جانے کا امکان

    جون 4, 2026

    بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدہ، برطانوی پارلیمان میں بحث، انسانی حقوق سے متعلق تشویش کا اظہار

    جون 4, 2026

    فوزیہ کوفی نے افغان طالبان رجیم کا بھیانک چہرہ بے نقاب کردیا

    جون 4, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.