Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, ستمبر 2, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • ریسرچ سروے: بھارت عالمی سطح پر ناپسندیدہ ممالک میں سر فہرست
    • سی پیک کے دوسرے مرحلے میں صنعتی، زرعی اور ٹیکنالوجی تعاون کو فروغ دیا جائے گا: احسن اقبال
    • پانی کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ناقابل قبول ہے: وزیراعظم
    • خیبرپختونخوا ، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں ممکنہ سیلاب کا الرٹ جاری
    • نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی ایس سی او کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات، شنگھائی تعاون تنظیم کی صدارت سنبھالنے پر پاکستان کو مبارکباد
    • پشاور ہائیکورٹ کا ہلاک ملزم ممتاز کی لاش ورثا کے حوالے کرنے کا حکم
    • بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 21 دہشت گرد ہلاک، فائرنگ کے تبادلے میں 6 اہلکار شہید
    • مصباح الحق قومی ٹیم کی سلیکشن کمیٹی سے مستعفی، انگلینڈ سے کھلاڑیوں کی واپس کے فیصلے پر ناراضی کا ظہار
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » خیبر پختونخوا کے معدنی وسائل پر کس کا کنٹرول؟
    اہم خبریں اپریل 12, 2025

    خیبر پختونخوا کے معدنی وسائل پر کس کا کنٹرول؟

    Facebook Twitter Email
    Who Controls KP’s Minerals? New Bill Sparks Political Firestorm
    Power Grab or Reform? PTI’s New Mining Bill Raises Eyebrows in Khyber Pakhtunkhwa
    Share
    Facebook Twitter Email

    خیبر پختونخوا کی حکومت نے معدنی وسائل کے حوالے سے ایک نیا قانون اسمبلی میں پیش کیا ہے جس نے سیاسی ماحول کو گرم کر دیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ قانون معدنیات کے شعبے میں اصلاحات لائے گا، لیکن حزب اختلاف اس کو ’صوبائی وسائل پر وفاقی قبضے کی سازش‘ قرار دے رہی ہے۔

    4 اپریل کو پیش کیے گئے اس نئے مجوزہ بل میں اگرچہ زیادہ تر شقیں 2017 کے معدنیات ایکٹ سے لی گئی ہیں، لیکن اس بار اسے "ترمیمی” کی بجائے نیا قانون قرار دیا گیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ قانون ضم شدہ اضلاع میں 2030 تک نافذ نہیں ہوگا۔

    پہلے محکمہ معدنیات لائسنس جاری کرتا تھا، لیکن اب "بڑے منصوبے” ایک نئی لائسسنگ اتھارٹی کے سپرد ہوں گے۔ یہ اتھارٹی دو تہائی اکثریت سے فیصلے کرے گی اور وفاقی تجاویز پر عمل درآمد بھی کر سکے گی — جس پر سب سے بڑا اعتراض ہے۔ دوسری جانب، "چھوٹے منصوبے” اب ایک الگ مائنر منرلز لائسسنگ اتھارٹی کو سونپے جائیں گے۔

    ایک ایسا ڈیجیٹل سسٹم لایا جا رہا ہے جس میں تمام لیز، نیلامی اور درخواستوں کی تفصیلات موجود ہوں گی۔ مگر اس میں بھی وفاقی ہدایات پر عمل لازم قرار دیا گیا ہے، جسے حزب اختلاف "مداخلت” تصور کر رہی ہے۔

    نئی اتھارٹیز میں مختلف سرکاری محکموں کے افسران، قانونی، ماحولیاتی اور جنگلات کے نمائندے، اور یہاں تک کہ جی آئی ایس آفیسر بھی شامل ہوں گے۔

    عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے اس بل کو 18ویں ترمیم کے خلاف قرار دے کر مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ اے این پی کے رہنما میاں افتخار حسین کا کہنا ہے کہ "یہ قانون پختونخوا کے وسائل پر قبضے کی سازش ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔”

    یہی نہیں، پی ٹی آئی کے کچھ اپنے اراکین نے بھی اس بل پر حیرانی کا اظہار کیا ہے کہ "کابینہ نے یہ بل کیسے منظور کیا؟”

    وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ "یہ صرف اصلاحات ہیں، اور کوئی بھی صوبائی اختیار وفاق کو نہیں دیا جا رہا۔” ان کے مطابق، "بل میں شفافیت لانے کی کوشش ہو رہی ہے، اور جو مائننگ مافیا ہے وہ اپنی گرفت ڈھیلی ہوتے دیکھ کر واویلا کر رہا ہے۔”

    انہوں نے بتایا کہ صرف پلیسر گولڈ کی نیلامی سے 5 ارب روپے کی آمدن ہوئی، اور مستقبل میں یہی شفافیت ہر سطح پر لائی جائے گی۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپاکستان کے مختلف شہروں میں زلزلہ
    Next Article  محنت ہی کامیابی کی کنجی ہے، نور زمان
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    ریسرچ سروے: بھارت عالمی سطح پر ناپسندیدہ ممالک میں سر فہرست

    ستمبر 1, 2026

    سی پیک کے دوسرے مرحلے میں صنعتی، زرعی اور ٹیکنالوجی تعاون کو فروغ دیا جائے گا: احسن اقبال

    ستمبر 1, 2026

    پانی کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ناقابل قبول ہے: وزیراعظم

    ستمبر 1, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    ریسرچ سروے: بھارت عالمی سطح پر ناپسندیدہ ممالک میں سر فہرست

    ستمبر 1, 2026

    سی پیک کے دوسرے مرحلے میں صنعتی، زرعی اور ٹیکنالوجی تعاون کو فروغ دیا جائے گا: احسن اقبال

    ستمبر 1, 2026

    پانی کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ناقابل قبول ہے: وزیراعظم

    ستمبر 1, 2026

    خیبرپختونخوا ، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں ممکنہ سیلاب کا الرٹ جاری

    ستمبر 1, 2026

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی ایس سی او کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات، شنگھائی تعاون تنظیم کی صدارت سنبھالنے پر پاکستان کو مبارکباد

    ستمبر 1, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.