پاکستان ادارہ برائے تعلیم نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ملک بھر میں کروڑوں بچے اور بچیاں تاحال اسکولوں سے باہر ہیں۔
پاکستان ادارہ برائے تعلیم نے تعلیمی سال 2023-24 کی تازہ رپورٹ جاری کر دی ہے، رپورٹ کے مطابق ملک میں 13 اعشاریہ 41 ملین بچیاں اور 11 اعشاریہ 96 ملین لڑکے اسکولوں سے باہر ہیں، یوں مجموعی طور پر 25 اعشاریہ 37 ملین بچے اور بچیاں تعلیم سے محروم ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں 2 کروڑ 53 لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، پنجاب میں 5 سے 16 سال کی عمر کے36 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ تعداد کے لحاظ سے 9 اعشاریہ 60 ملین بچے تعلیم سے محروم ہیں۔
سندھ میں 5 سے 16 سال تک کے 42 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ صوبے میں 7 اعشاریہ 82 ملین بچیاں تعلیم سے محروم ہیں، خیبرپختونخوا میں 29 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ 4 اعشاریہ 92 ملین بچیاں تعلیم حاصل نہیں کر رہیں۔
بلوچستان میں صورتحال سب سے زیادہ تشویشناک ہے جہاں 58 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی 15 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
رپورٹ میں ملک میں تعلیمی بحران کو سنگین قرار دیتے ہوئے فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے تاکہ لاکھوں بچوں کو تعلیم کے بنیادی حق سے محروم ہونے سے بچایا جا سکے۔

