وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے خیبر پختونخوا حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہے کہ شناخت مسخ کی جا رہی ہے اور دہشت گردی کو فروغ دیا جا رہا ہے، پی ٹی آئی دور میں پختونخوا کو تباہ کیا گیا، اب بھی طالبان کو بھتہ دینے والے لوگ حکومت میں ہیں ۔
اسلام آباد: ایک انٹرویو میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ افغان طالبان پر بھی تنقید کی اور کہا کہ طالبان قابل اعتبار نہیں چاہے ان کی کوئی بھی فرنچائز ہو، طالبان بھارت سے ملے ہوئے ہیں ان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا ۔
ان کا کہنا تھا کہ سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ اور جنرل (ر) فیض حمید نے طالبان کی واپسی کی پیش گوئیاں کی تھیں اور پی ٹی آئی قیادت بھی اس سوچ کی حامی تھی ۔
انہوں نے خیبر پختونخوا کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہے کہ شناخت مسخ کی جا رہی ہے اور دہشت گردی کو فروغ دیا جا رہا ہے ۔
وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے دور میں خیبر پختونخوا کو تباہ کیا گیا، اب بھی طالبان کو بھتہ دینے والے لوگ حکومت میں ہیں ۔
وزیر دفاع نے واضح کیا کہ پاکستان کی افواج دنیا کی مضبوط ترین افواج میں سے ہیں اور کوئی وینزویلا جیسا آپریشن یہاں ممکن نہیں ۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی طیاروں نے مئی 2025 کے تنازع میں ثابت کر دیا کہ وہ جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے طیارے ٹیسٹ ہو چکے ہیں، اب اتنے آرڈرز مل رہے ہیں کہ اگر یہ سب آرڈر مکمل ہو گئے تو چھ ماہ بعد آئی ایم ایف کی ضرورت ہی نہ رہے گی ۔

