Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    ہفتہ, اگست 22, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • ہاکی ورلڈ کپ میں 16 سال بعد پاکستان کی کامیابی، قومی ٹیم نے جاپان کو شکست دیدی
    • عمران خان کی پمز ہسپتال منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی نے توہین عدالت کی درخواست دائر کردی
    • وزیر اعظم شہبازشریف کا حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی مالی معاونت کا حکم
    • وزیر اعظم شہبازشریف نے بلوچستان کے مسائل کے حل کیلئےگرینڈ ڈائیلاگ کی تجویز دیدی
    • ایس سی او سربراہ اجلاس 2027 کی تیاری، پاکستانی کوآرڈینیٹر کی رکن ممالک کے سفیروں سے ملاقات
    • لیڈز ٹیسٹ میں انگلینڈ نے پاکستان کو ایک اننگز اور 103 رنز سے شکست دے دی
    • بانی پی ٹی آئی کے پمز ہسپتال میں معائنے کے بعد واپس اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا، صحت مند قرار
    • خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی مشترکہ کارروائیاں، 49 دہشت گرد ہلاک
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » پاکستان کا ناکام عدالتی نظام،ذمہ دار کون؟
    اہم خبریں جولائی 15, 2024

    پاکستان کا ناکام عدالتی نظام،ذمہ دار کون؟

    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    پاکستان کا عدالتی نظام پچھلے ستر برس سے زیرِبحث رہا ہے اورپاکستان کا عام آدمی ہمیشہ سے اس نظام سے غیر مطمن نظر آتا ہے۔ پارلیمنٹ ہو یا خود اعلیٰ عدلیہ، سب نے نظام کی خرابیوں کی بات تو ہمیشہ کی ہے لیکن اس کو ٹھیک کرنے کی طرف کوئی قدم نہیں اٹھایا۔
    پاکستان کے عوام آج بھی عدالتی نظام سے نالاں اور غیر مطمن ہیں۔ کے ٹو ٹی وی کے پروگرام احوالِ راولپنڈی اسلام آباد کے حالیہ پروگرام کا موضوع بھی یہی تھا۔ اس حوالے سے جب عام لوگوں سے رائے لی گئی تو عوام اس عدالتی نظام کے خلاف پھٹ پڑے۔ عوام کا کیا کہنا تھا آئیے دیکھتے ہیں:۔

    کوئی بھی ریاستی ادارہو وہ عوام کے لیے ہوتا ہے نہ کہ عوام اداروں کے لیے ہوتے ہیں۔ پاکستان کا عدالتی نظام دنیا میں ایک سو تیسویں نمبر پر ہے اس سے ہماری عدلیہ کی کارکردگی عیاں ہے۔ غریب کے لئے سالوں کوٹ کچہریوں کے چکر ہیں اور اشرافیہ کے لئے اس ملک کی جوعدالتیں ہیں وہ رات 12 بجے بھی کھلتی ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے ہمارے ملک کے جوڈیشری سسٹم کے اوپر۔

    ایک صاحب کا کہنا تھا کہ انصاف تو خیر غریب آدمی کے لیے ہے ہی نہیں یہ امیر لوگوں کے لیے ہے اشرافیہ کے لیے ہے یہاں پہ انصاف صرف ان لوگوں کو ملتا ہے مگر غریب آدمی کے حصے میں صرف چکر ہی آتے ہیں سپریم کورٹ ہو یا سیشن ہو یا ہائی کورٹ ہو غریب آدمی کے حصے میں صرف چکر ہی آتے ہیں۔

    ہماری عدالتیں فیصلے کر دیتی ہیں اور پھر اپنے ہی فیصلوں کو غلط بھی مان لیتی ہیں جس طرح ایک بہت بڑی مثال ہے ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل۔ بھٹوکو پھانسی چڑھایا گیا، پھر کہا کہ جی ہم سے بڑا غلط فیصلہ ہو گیا، اب کیا اس سے بھٹو واپس آ جائے گا۔

    عام آدمی تو خیربڑی عدالتوں میں جا ہی نہیں سکتا، وہ توبس سیشن کورٹ سے جو فیصلہ آتا ہے اسی پر صبر کر لیتا ہے غریب آدمی اپنا انصاف اللہ پر چھوڑ کر خاموش ہو جاتا ہے۔ عوام کی رائے کے مطابق پاکستان کے عدالتی نظام کی ناکامی کی وجوہات کثیر جہتی اور اس کی جڑیں بہت گہری ہیں:

    انصاف میں تاخیر: پاکستان میں عدلیہ کو درپیش سب سے اہم مسائل میں سے ایک مقدمات کے نمٹانے میں تاخیر ہے۔ مقدمات برسوں تک عدالتوں میں التوا کا شکار رہتے ہیں، جس سے قانونی چارہ جوئی کرنے والوں کے لیے بے حد مایوسی اور مشکلات پیدا ہوتی ہیں، خاص طور پر غریب جو طویل قانونی لڑائیوں کے متحمل نہیں ہوتے۔

    انصاف تک رسائی کا فقدان: معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان انصاف تک رسائی میں تضاد ہے۔ امیر اور طاقتور کو اکثر قانونی نمائندگی تک بہتر رسائی حاصل ہوتی ہے اور وہ اپنے رابطوں کے ذریعے نتائج کو متاثر کر سکتے ہیں، جب کہ غریب ایک پیچیدہ اور بعض اوقات کرپٹ نظام میں جدوجہد کرتے ہیں۔

    بدعنوانی اور رشوت: بدعنوانی عدلیہ کے اندر ایک وسیع مسئلہ بنی ہوئی ہے، جو فیصلوں کی غیر جانبداری اور دیانت کو متاثر کرتی ہے۔ رشوت ستانی اور بے جا اثر و رسوخ ٹرائلز اور فیصلوں کے انصاف پر سمجھوتہ کر سکتے ہیں، عدلیہ پر عوام کے اعتماد کو ختم کر سکتے ہیں۔

    سیاسی مداخلت: پاکستان میں عدلیہ کو تاریخی طور پر سیاسی دباؤ اور مداخلت کا سامنا رہا ہے۔ یہ ججوں کی تقرریوں، عدلیہ کے اندر انتظامی فیصلوں، اور یہاں تک کہ ہائی پروفائل کیسز کے نتائج کو بھی متاثر کر سکتا ہے، جس سے عدلیہ کی آزادی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    فرسودہ قوانین اور طریقہ کار: پاکستان میں قانونی فریم ورک کو اکثر فرسودہ ہونے اور عصری معاشرتی ضروریات سے ہم آہنگ نہ ہونے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ پیچیدہ اور قدیم قوانین، طریقہ کار کی نااہلیوں کے ساتھ، عدالتی عمل کی سستی میں معاون ہیں۔

    ناکافی انفراسٹرکچر اور وسائل: پاکستان میں بہت سی عدالتوں میں موثر کام کرنے کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچے اور وسائل کی کمی ہے۔ زیادہ بوجھ والی عدالتیں، ناکافی سہولیات اور ناکافی عملہ تاخیر کو بڑھاتا ہے اور بروقت انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ ہے۔

    جوڈیشل ایکٹوازم بمقابلہ قانون سازی کا عمل: پاکستان میں عدالتی فعالیت کی حد پر بحث جاری ہے، جہاں عدلیہ بعض اوقات ایسے مسائل کو حل کرنے کے لیے قدم اٹھاتی ہے جن کا مثالی طور پر مقننہ کو نمٹنا چاہیے۔ اگرچہ یہ کچھ معاملات میں مثبت نتائج کا باعث بن سکتا ہے، لیکن یہ ایک وسیع تر گورننس کے مسئلے کی بھی عکاسی کرتا ہے جہاں قانون ساز اداروں کو غیر موثر یا سست عمل کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔
    ان نظامی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی عدلیہ کے اندر شفافیت، احتساب اور کارکردگی کو بڑھانے کے لیے جامع اصلاحات کی ضرورت ہے۔ قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانے اور اس بات کو یقینی بنانے کی بھی ضرورت ہے کہ انصاف تمام شہریوں کے لیے قابل رسائی ہو، چاہے ان کی سماجی یا معاشی حیثیت کچھ بھی ہو۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleقومی کرکٹ ٹیم میں گروپنگ کرنیوالے کھلاڑیوں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ
    Next Article پشاور میں محرم کے حوالے سے سکیورٹی کی صورتحال کیسی ہے؟
    Web Desk

    Related Posts

    ہاکی ورلڈ کپ میں 16 سال بعد پاکستان کی کامیابی، قومی ٹیم نے جاپان کو شکست دیدی

    اگست 22, 2026

    عمران خان کی پمز ہسپتال منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی نے توہین عدالت کی درخواست دائر کردی

    اگست 22, 2026

    وزیر اعظم شہبازشریف کا حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی مالی معاونت کا حکم

    اگست 22, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    ہاکی ورلڈ کپ میں 16 سال بعد پاکستان کی کامیابی، قومی ٹیم نے جاپان کو شکست دیدی

    اگست 22, 2026

    عمران خان کی پمز ہسپتال منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی نے توہین عدالت کی درخواست دائر کردی

    اگست 22, 2026

    وزیر اعظم شہبازشریف کا حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی مالی معاونت کا حکم

    اگست 22, 2026

    وزیر اعظم شہبازشریف نے بلوچستان کے مسائل کے حل کیلئےگرینڈ ڈائیلاگ کی تجویز دیدی

    اگست 21, 2026

    ایس سی او سربراہ اجلاس 2027 کی تیاری، پاکستانی کوآرڈینیٹر کی رکن ممالک کے سفیروں سے ملاقات

    اگست 21, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.