Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, ستمبر 23, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود مکہ دفاعی معاہدے کے پہلے سیکرٹری جنرل مقرر
    • پاکستانی حدود میں داخلے کی کوشش کرنے والے افغان طالبان کے 8 ڈرونز تباہ
    • پنجاب یونیورسٹی میں چار روزہ جینوم ایڈیٹنگ کروپ بائیوٹیکنالوجی تربیتی پروگرام کا افتتاح
    • بلوچستان کے علاقے ساران تنگی میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 6 دہشتگرد ہلاک
    • کراچی پورٹ کی عالمی شپنگ رابطہ انڈیکس میں تاریخی کامیابی
    • پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ
    • آسان ٹیکس سکیم: ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور دکانداروں کو ٹیکس ادائیگی میں سہولت فراہم کرنا بنیادی مقصد ہے، بلال اظہر کیانی
    • وزیراعظم کے کفایت شعاری اقدامات: وزارتِ ریلوے میں اہم فیصلے
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » پاراچنار ٹل شاہراہ گزشتہ کئی دن سے بند، اشیاء ضروریہ کی قلت کا خدشہ
    اہم خبریں دسمبر 6, 2024

    پاراچنار ٹل شاہراہ گزشتہ کئی دن سے بند، اشیاء ضروریہ کی قلت کا خدشہ

    Facebook Twitter Email
    Parachinar-Tal Road Remains Blocked for 8 Weeks, Essential Goods Shortage Looms
    ٹل شاہراہ کی بندش سے پاراچنار میں اشیاء ضروریہ کی کمی
    Share
    Facebook Twitter Email

    پاراچنار :ضلع کرم کے مرکزی شہر پاراچنار اور ٹل کے درمیان اہم شاہراہ گزشتہ کئی دن سے بند ہونے کے باعث اشیاء ضروریہ کی قلت پیدا ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ اس شاہراہ کے بند ہونے سے نہ صرف مقامی آبادی کی روزمرہ زندگی متاثر ہوئی ہے بلکہ کاروبار اور تجارت بھی ٹھپ ہو کر رہ گئی ہے۔

    سڑک کی بندش سے مسائل میں اضافہ

    پاراچنار ٹل شاہراہ کی بندش کی وجہ سے آمدورفت معطل ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں مقامی مارکیٹوں میں اشیاء خورد و نوش، ایندھن، دوائیں اور دیگر ضروری سامان کی شدید کمی ہوگئی ہے۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر سڑک کی بندش جلد حل نہ ہوئی تو علاقے میں حالات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔

    علاقے کے عمائدین نے اس بات کی تصدیق کی کہ سڑک کی بندش کے سبب نہ صرف پاراچنار بلکہ ملحقہ علاقوں میں بھی اشیاء کی کمی پیدا ہو رہی ہے۔ "یہ صورتحال علاقے کے لوگوں کے لیے سنگین بحران بن سکتی ہے اگر فوری طور پر اس کا حل نہ نکالا گیا۔” ایک مقامی بزرگ نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا۔

    پاک افغان بارڈر پر بھی اثرات

    پاراچنار ٹل شاہراہ کی بندش کے ساتھ ساتھ، پاکستان اور افغانستان کے درمیان خرلاچی بارڈر پر بھی تجارت اور آمدورفت متاثر ہو رہی ہے۔ بارڈر حکام نے تصدیق کی ہے کہ سڑک کی بندش کی وجہ سے سامان کی ترسیل میں رکاوٹیں آ رہی ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔

    پشتون قومی جرگہ کی مداخلت

    اس بحران کے حل کے لیے پشتون قومی جرگہ کا 125 رکنی وفد پاراچنار پہنچ چکا ہے۔ جرگہ نے علاقے میں موجود مختلف قبائل کے ساتھ ملاقاتیں شروع کر دی ہیں تاکہ کسی ممکنہ حل تک پہنچا جا سکے۔ جرگہ ممبران کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں فیصلہ کن اقدامات اٹھائیں گے تاکہ اس بحران کو جلد حل کیا جا سکے۔

    مفتی کفایت اللہ کی قیادت میں جرگہ کے ارکان نے سدہ اور پاراچنار میں قبائلی عمائدین سے ملاقات کی، جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ طوری وبنگش اقوام نے جرگہ کو خوش آمدید کہا اور اس بات کا عزم ظاہر کیا کہ امن کے قیام کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔

    جرگہ کی جانب سے امن کی کوششیں

    مرکزی امام بارگاہ پاراچنار میں ایک بڑے اجتماع کا انعقاد کیا گیا، جس میں جرگہ ممبران اور مقامی عمائدین نے خطاب کیا۔ جرگہ کے ارکان نے اس موقع پر کہا کہ وہ پاراچنار اور اس کے گرد و نواح کے مسائل حل کرنے کے لیے مشترکہ طور پر کام کریں گے اور جلد ہی اس معاملے کا کوئی پائیدار حل تلاش کریں گے۔

    "ہم سب مل کر اس سڑک کی بندش اور اس سے متعلق مسائل کے حل کے لیے کام کریں گے۔ ہم امن کے قیام کے لیے کسی بھی قسم کے قدم اٹھانے کو تیار ہیں،” جرگہ کے ایک رکن نے کہا۔

    طوری وبنگش عمائدین کا تعاون

    طوری وبنگش قبائل کے عمائدین نے اس موقع پر کہا کہ وہ پشتون قومی جرگہ کے ساتھ بھرپور تعاون کریں گے اور اس بات کا وعدہ کیا کہ وہ امن کے قیام کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ "ہم ہر قدم پر جرگہ کے ساتھ ہیں اور ہم علاقے کے لوگوں کے بہتر مستقبل کے لیے ان کی رہنمائی اور فیصلوں کا ساتھ دیں گے،” ایک مقامی سردار نے کہا۔

    پاراچنار ٹل شاہراہ کی بندش کے معاملے پر پشتون قومی جرگہ کی مداخلت اور قبائل کی جانب سے تعاون کی امیدیں پیدا ہو چکی ہیں۔ تاہم، اس مسئلے کا حل فوری طور پر ضروری ہے تاکہ مقامی آبادی کو درپیش مسائل کا خاتمہ کیا جا سکے اور علاقے میں امن و سکون کا قیام ممکن ہو سکے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleگورنر خیبر پختونخوا سے یونیورسٹی چانسلرز کی تعیناتی کے اختیارات وزیراعلیٰ کے سپرد
    Next Article مہنگائی، عوام کی مشکلات اور حکومتی دعوے!
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود مکہ دفاعی معاہدے کے پہلے سیکرٹری جنرل مقرر

    ستمبر 23, 2026

    پاکستانی حدود میں داخلے کی کوشش کرنے والے افغان طالبان کے 8 ڈرونز تباہ

    ستمبر 23, 2026

    پنجاب یونیورسٹی میں چار روزہ جینوم ایڈیٹنگ کروپ بائیوٹیکنالوجی تربیتی پروگرام کا افتتاح

    ستمبر 23, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود مکہ دفاعی معاہدے کے پہلے سیکرٹری جنرل مقرر

    ستمبر 23, 2026

    پاکستانی حدود میں داخلے کی کوشش کرنے والے افغان طالبان کے 8 ڈرونز تباہ

    ستمبر 23, 2026

    پنجاب یونیورسٹی میں چار روزہ جینوم ایڈیٹنگ کروپ بائیوٹیکنالوجی تربیتی پروگرام کا افتتاح

    ستمبر 23, 2026

    بلوچستان کے علاقے ساران تنگی میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 6 دہشتگرد ہلاک

    ستمبر 22, 2026

    کراچی پورٹ کی عالمی شپنگ رابطہ انڈیکس میں تاریخی کامیابی

    ستمبر 22, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.