Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, جنوری 21, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پاک فوج پر بلا وجہ تنقید کیوں؟
    • افغانستان: زوال کی ایک اور داستان
    • پاکستان کا غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا اعلان، ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت قبول کرلی
    • پاکستان کا آئی سی سی کو خط، بنگلہ دیش کے بھارت نہ جانے کے فیصلے کی حمایت
    • مہمند میں افغان مہاجرین کے خلاف کریک ڈاؤن، درجن بھر دکانیں سیل، متعدد افراد گرفتار
    • ٹرمپ کا افغانستان سے انخلا پر سخت تنقید، بگرام ایئر بیس چھوڑنا بڑی غلطی قرار
    • اسلام آباد میں بلدیاتی الیکشن سے متعلق صدارتی آرڈیننس، التوا کیخلاف درخواست پر حکومت اور الیکشن کمیشن سے جواب طلب
    • پاکستان اور اسلامی ترقیاتی بینک کے درمیان 603 ملین ڈالر کے 3 معاہدوں پر دستخط ہو گئے
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخواہ
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » پشتو فلم انڈسٹری کا زوال: پشاور کا ارشد سنیما بھی مسمار، صرف تین سینما باقی
    اہم خبریں

    پشتو فلم انڈسٹری کا زوال: پشاور کا ارشد سنیما بھی مسمار، صرف تین سینما باقی

    اگست 12, 2025Updated:اگست 12, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    پشاور (نیوز ڈیسک): پشاور کا مشہور ارشد سنیما 40 برس بعد مسمار کر دیا گیا، جس کے ساتھ پشتو فلم انڈسٹری کی آخری امید بھی دم توڑ گئی۔

    پشتو فلم انڈسٹری کے زوال نے صرف اداکاروں، ہدایتکاروں، کہانی نویسوں، گلوکاروں، موسیقاروں، کیمرہ مینوں اور فلم سازوں کو ہی نہیں بلکہ پورے فلمی ڈھانچے کو گمنامی اور بیروزگاری کی دلدل میں دھکیل دیا۔ اس کا ایک بڑا نقصان یہ بھی ہوا کہ پشاور کے سینما گھروں کا وجود تیزی سے ختم ہونے لگا۔

    ایک وقت تھا جب پشاور میں 16 سینما گھر ہوا کرتے تھے۔ ان میں اردو، پنجابی اور بعد میں پشتو زبان کی یادگار اور صاف ستھری، نصیحت آموز فلمیں نمائش کے لیے پیش کی جاتی تھیں۔ فلمی شائقین نے "بل”، "میرنے رور”، "علاقہ غیر”، "درہ خیبر”، "خانہ بدوش”، "دیدن”، "ارمان”، "دھقان”، "جوارگر”، "آدم خان درخانئی”، "د پختون طورہ”، "غازی کاکا” اور "یوسف خان شیر بانو” جیسی کلاسیکل فلموں کا دور بھی دیکھا۔

    بدقسمتی سے جب چند عناصر نے صرف پیسہ کمانے کی خاطر فحش فلمیں بنانا شروع کیں تو فیملیز نے سینما گھروں کا رخ کرنا چھوڑ دیا۔ نوے فیصد سے زائد فلموں میں بیہودہ رقص، قتل و غارت، انتقامی کہانیاں، آتشیں اسلحے کی بھرپور نمائش، نازیبا مکالمے اور گانوں کی بھرمار نے پشتون کلچر کو مسخ کر کے رکھ دیا۔ اس کے باوجود ایسے فلم سازوں اور ڈائریکٹرز نے اپنی فلموں کو اصلاحی قرار دینے پر اصرار جاری رکھا۔

    اب حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ 1980 میں تعمیر کیا گیا ارشد سنیما بھی گرا دیا گیا ہے۔ پشاور میں اب صرف تین سینما گھر باقی رہ گئے ہیں جو بس آخری سانسیں لے رہے ہیں۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleمیں اڈی اڈی جاواں ہوا دے نال ۔۔۔ ہانیہ عامر کا چلتی بائیک پر رقص
    Next Article آزادی کے بعد پاکستان کی ترقی، کامیابیاں اور چیلنجز
    Web Desk

    Related Posts

    پاکستان کا آئی سی سی کو خط، بنگلہ دیش کے بھارت نہ جانے کے فیصلے کی حمایت

    جنوری 21, 2026

    مہمند میں افغان مہاجرین کے خلاف کریک ڈاؤن، درجن بھر دکانیں سیل، متعدد افراد گرفتار

    جنوری 21, 2026

    ٹرمپ کا افغانستان سے انخلا پر سخت تنقید، بگرام ایئر بیس چھوڑنا بڑی غلطی قرار

    جنوری 21, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    Khyber News YouTube Channel
    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پاک فوج پر بلا وجہ تنقید کیوں؟

    جنوری 21, 2026

    افغانستان: زوال کی ایک اور داستان

    جنوری 21, 2026

    پاکستان کا غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا اعلان، ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت قبول کرلی

    جنوری 21, 2026

    پاکستان کا آئی سی سی کو خط، بنگلہ دیش کے بھارت نہ جانے کے فیصلے کی حمایت

    جنوری 21, 2026

    مہمند میں افغان مہاجرین کے خلاف کریک ڈاؤن، درجن بھر دکانیں سیل، متعدد افراد گرفتار

    جنوری 21, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.