Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    اتوار, مئی 3, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی زیر صدارت لویہ جرگہ،امن کی بحالی کیلئے وفاق سے مذاکرات کا فیصلہ
    • آن لائن جوئے کی وبا اور ہماری نئی نسل کی بقا کی جنگ
    • پاکستان میں ٹیلنٹ کی درست شناخت اور بہتر رہنمائی نہایت ضروری ہے، کپتان پشاور زلمی بابراعظم
    • پاکستان خطے میں اہم سفارتی کردار ادا کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، سابق امریکی جنرل مارک کمٹ
    • قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس نوشہرہ میں جعلی اسناد پر مبینہ بھرتیوں کا انکشاف
    • خیبر ٹیلی ویژن نیٹ ورک دینی و ثقافتی پروگراموں کے ذریعے آگاہی پھیلانے میں پیش پیش
    • فحش مواد نے پشتون ثقافت کی اصل پہچان کو نقصان پہنچایا: نجیب اللہ انجم
    • خیبر ٹیلی ویژن کا مقبول شو “پخیر راغلے” ناظرین کی توجہ کا مرکز
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » پاکستان کے تین اضلاع کے سیوریج کے نمونوں میں پولیو وائرس کا پتہ چلا
    اہم خبریں

    پاکستان کے تین اضلاع کے سیوریج کے نمونوں میں پولیو وائرس کا پتہ چلا

    جولائی 9, 2024Updated:جولائی 9, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Polio virus was detected in sewage samples from three districts of Pakistan
    Share
    Facebook Twitter Email

    ذرائع کے مطابق پاکستان بھر کے تین اضلاع کے سیوریج کے نمونوں میں پولیو وائرس کا پتہ چلا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق سیوریج لائنوں میں ٹائپ ون وائلڈ پولیو وائرس پایا گیا۔ ذرائع کے مطابق متاثرہ اضلاع میں کراچی جنوبی، کورنگی اور ڈیرہ بگٹی، بلوچستان شامل ہیں۔یہ نمونے 11 سے 13 جون کے درمیان پولیو وائرس کی جانچ کے لیے جمع کیے گئے تھے۔تین نئے نمونوں کا پتہ لگانے کے بعد 2024 میں سیوریج کے مثبت نمونوں کی تعداد بڑھ کر 214 ہو گئی ہے۔

    6 سے 11 جون تک متاثرہ اضلاع میں پولیو ٹیسٹنگ کے لیے نمونے لیے گئے۔ پاکستان میں 2024 میں اب تک پولیو وائرس کے آٹھ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔جون میں پاکستان میں سندھ اور بلوچستان سے پولیو کے دو مزید کیسز رپورٹ ہوئے۔قومی ادارہ صحت نے پولیو کے دو کیسز کی تصدیق کی تھی، بلوچستان کے قلعہ عبداللہ سے ایک دو سالہ بچہ اور کراچی کیماڑی سے تعلق رکھنے والی 3 سالہ بچی پولیو کا شکار ہوئی تھی۔

    پاکستان میں گزشتہ سال پولیو کے چھ کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے چار خیبرپختونخوا اور دو کراچی سے تھے۔پولیو ایک ایسا مرض ہے جو فالج، معذوری اور موت کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ پولیو سے بچاؤ کا سب سے مؤثر طریقہ ویکسینیشن ہے، اور پاکستان اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پانچ سال سے کم عمر کے لاکھوں بچوں کو قطرے پلانے کے لیے کام کر رہا ہے۔تاہم اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ متاثرہ بچے کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے تھے یا نہیں۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleوزیراعظم نےناراض بلوچوں کو کیا کہا؟
    Next Article نامعلوم مسلح افراد نے3 ایف سی کے اہلکاروں کو اغوا کرلیا
    Mahnoor

    Related Posts

    پاکستان میں ٹیلنٹ کی درست شناخت اور بہتر رہنمائی نہایت ضروری ہے، کپتان پشاور زلمی بابراعظم

    مئی 2, 2026

    وزیراعظم محمد شہبازشریف کی علی الزیدی کو عراق کے وزیراعظم کی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد

    مئی 2, 2026

    معرکۂ حق میں کامیابی، پاکستان امن کا علمبردار بن گیا: وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ

    مئی 2, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی زیر صدارت لویہ جرگہ،امن کی بحالی کیلئے وفاق سے مذاکرات کا فیصلہ

    مئی 2, 2026

    آن لائن جوئے کی وبا اور ہماری نئی نسل کی بقا کی جنگ

    مئی 2, 2026

    پاکستان میں ٹیلنٹ کی درست شناخت اور بہتر رہنمائی نہایت ضروری ہے، کپتان پشاور زلمی بابراعظم

    مئی 2, 2026

    پاکستان خطے میں اہم سفارتی کردار ادا کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، سابق امریکی جنرل مارک کمٹ

    مئی 2, 2026

    قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس نوشہرہ میں جعلی اسناد پر مبینہ بھرتیوں کا انکشاف

    مئی 2, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.