9 مئی واقعات میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، رہنما پی ٹی آئی کامران بنگش، تیمورجھگڑا اور عرفان سلیم کی موجودگی کی تصدیق ہوگئی ، پنجاب فارنزک لیبارٹری کی رپورٹ کے مطابق یو ایس بی میں موجود 16 ویڈیوز کا فریم بہ فریم تجزیہ کیا گیا اور متعدد ویڈیوز میں کسی قسم کی ایڈیٹنگ کے شواہد نہیں ملے، صرف چند ویڈیوزمیں لوگوں اور ٹیکسٹ کے اضافے کی نشاندہی کی گئی ۔
پنجاب فارنزک لیبارٹری نے پشاورپولیس کی درخواست پر9 مئی واقعات کی ویڈیوزاور آڈیو ویژول کا تجزیہ کیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یو ایس بی میں موجود 16 ویڈیوز کا فریم بہ فریم تجزیہ کیا گیا اور متعدد ویڈیوز میں کسی قسم کی ایڈیٹنگ کے شواہد نہیں ملے، صرف چند ویڈیوزمیں لوگوں اور ٹیکسٹ کے اضافے کی نشاندہی کی گئی ۔
سہیل آفریدی اورعرفان سلیم کی دو ویڈیوز میں کلپس جوڑنے کے شواہد بھی سامنے آئے، سہیل آفریدی کی پروفائل تصویر کو 9 مئی کی ویڈیو سے ملا کر دیکھا گیا تو سہیل آفریدی کی پروفائل تصویر اور ویڈیو میں موجود شخص ایک ہی ہے ۔
عرفان سلیم کی پروفائل تصویر کی بھی ویڈیوز میں موجود ہونے کی تصدیق ہوگئی، کامران بنگش کی پروفائل تصویر اور ویڈیو میں موجود شخص ایک ہی قرار دیے گئے جبکہ تیمور جھگڑا کی پروفائل تصویر اور ویڈیوز میں موجود شخص میں مطابقت پائی گئی ۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تمام تجزیہ صرف ویژول مواد تک محدود رکھا گیا اور رپورٹ کی تیاری 19 دسمبر سے 23 دسمبر 2025 کے دوران مکمل کی گئی ۔
انسداد دہشت گردی عدالت نے ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں پولیس سے رپورٹ طلب کی تھی اور پولیس نے ویڈیوز تجزیے کیلئے پنجاب فارنزک لیبارٹری بھیجی تھی ۔

