صدر آصف علی زرداری نے انسدادِ دہشت گردی ترمیمی بل 2025 پر دستخط کرتے ہوئے منظوری دیدی، جس کا مقصد انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کو مؤثر بنانا اور ساتھ ہی قانونی نگرانی اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانا ہے ۔
اسلام آباد: اتوار کے روز ایوانِ صدر کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے انسدادِ دہشت گردی ترمیمی بل 2025 پر دستخط کر دیئے ، جس کے بعد یہ بل قانون بن گیا ۔
اعلامیہ کے مطابق ’یہ قانون سیکیورٹی اداروں کی انسداد دہشت گردی اور قومی سلامتی کے تحفظ کی صلاحیت کو مضبوط بناتا ہے‘ ۔
ایوان صدر کے اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ اس قانون میں عدالتی نگرانی اور حفاظتی اقدامات شامل ہیں تاکہ اختیارات کے غلط استعمال سے بچا جا سکے، جیسا کہ ماضی میں ہوا ۔
بل کی کاپی کے مطابق حکومت یا مسلح افواج اور سول آرمڈ فورسز کو اختیار ہوگا کہ وہ قومی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں یا ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری یا اغوا برائے تاوان جیسے جرائم میں ملوث ہونے کے شبہے پر کسی بھی شخص کو 3 ماہ تک حراست میں رکھ سکیں ۔
یہ ترامیم انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 میں کی گئی ہیں، جنہیں رواں ماہ قومی اسمبلی اور سینیٹ نے منظوری دی، ان میں وہ اختیارات دوبارہ شامل کیے گئے ہیں جو قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مسلح افواج کو کسی بھی شخص کو تین ماہ تک حراست میں رکھنے کی اجازت دیتے ہیں ۔