وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ملاقات کی، جس میں صوبے میں امن و امان، دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور خیبر پختونخوا کے مالی مسائل پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
ملاقات میں وزیرِ اعظم نے خیبر پختونخوا کے عوام کی ترقی و خوشحالی کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان تعاون پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امن و امان کے قیام کے لیے صوبائی حکومت کو اپنی کوششیں مزید تیز کرنا ہوں گی اور انسدادِ دہشت گردی کے لیے صوبائی اداروں کو مضبوط بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے مشترکہ کاوشیں جاری رکھیں گی۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے بتایا کہ وزیرِ اعظم نے انہیں ملاقات کی دعوت دی تھی، جس میں بلوچستان کے افسوسناک واقعے پر اظہارِ تعزیت بھی کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی جہاں بھی ہو، اس کی ہمیشہ مذمت کی ہے کیونکہ دہشت گردی کا نہ کوئی صوبہ ہوتا ہے، نہ ملک اور نہ ہی کوئی مذہب۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے مالی مسائل وزیرِ اعظم کے سامنے رکھے گئے اور این ایف سی، آئی پی پیز، این ایچ پی اور دیگر بقایاجات پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ قبائلی اضلاع میں صوبائی حکومت اب تک 26 ارب روپے خرچ کر چکی ہے۔ انہوں نے سیاسی بیان بازی کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ تیراہ، کرم اور باجوڑ کے عوام سمیت فوج، پولیس، سی ٹی ڈی اور عوام فرنٹ لائن پر قربانیاں دے رہے ہیں، جن کا احساس کرنا ہم سب پر لازم ہے۔

