کوئٹہ (نمائندہ خصوصی) — بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات اور ڈی آئی جی کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اعتزاز گورایہ نے مشترکہ پریس کانفرنس میں ایک اہم بریک تھرو آپریشن کی تفصیلات بتاتے ہوئے افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے درمیان روابط کے ثبوت پیش کیے۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران کوئٹہ کے قریب علاقے کچلاک سے ایک افغان شہری حبیب اللہ کو گرفتار کیا گیا ہے، جو فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) کے ساتھ ساتھ افغان طالبان کا بھی کارندہ ہے۔ گرفتار دہشت گرد نے تفتیش کے دوران بلوچستان میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز پر ہونے والے دہشت گردانہ حملوں میں اپنے ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ان حملوں میں پاکستانی فوج کے اہلکار شہید ہوئے جبکہ کئی زخمی بھی ہوئے۔ حبیب اللہ نے یہ بھی بتایا کہ اس کا بھائی شیر افغان بھی ٹی ٹی پی کے نیٹ ورک سے وابستہ ہے، اور اس گروہ کی قیادت ایک شخص مسلم کے ہاتھ میں ہے۔
وزیر داخلہ نے مزید بتایا کہ حبیب اللہ کو اس سے قبل ایک ماہ کے لیے مشکوک ہونے پر حراست میں لیا گیا تھا، لیکن خیر سگالی کے تحت عام شہری سمجھ کر رہا کر دیا گیا۔ تاہم، معتبر انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر اسے دوبارہ کچلاک سے گرفتار کیا گیا، جہاں تفتیش کے دوران اس نے سرحد پار سے چلنے والی دہشت گردی کے نیٹ ورک کے بارے میں انکشافات کیے۔میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ پاکستانی حکومت اور اداروں نے بار بار افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے کے ثبوت فراہم کیے ہیں۔ حکومت پاکستان نے افغان حکومت کو متعدد بار قائل کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرنے والے دہشت گردوں کو پناہ دینا اور ان کی حمایت کرنا بند کرے۔
پریس کانفرنس میں وزیر داخلہ کے بیان، گرفتار دہشت گرد کے اعترافی بیان کی ویڈیو اور اہم تفصیلات پر مشتمل سلائیڈز بھی پیش کی گئیں۔حکام نے واضح کیا کہ سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گی اور سرحد پار سے آنے والے کسی بھی خطرے کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔

