Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, جنوری 21, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • قانون و امن کا نفاذ پولیس کی مقدس امانت ہے، چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر
    • پی ٹی آئی کی ’’ منظم کارروائیاں ‘‘
    • پاکستان کے خلاف غیر ملکی پروپیگنڈے کا مہرہ، میر یار بلوچ
    • صنفِ نازک سے صنفِ آہن تک کا سفر
    • تحریک انصاف سے مذاکرات میں سنجیدہ ہیں مگر یہ کئی زبانیں بولتے ہیں ہم کس پر اعتبار کریں: خواجہ آصف
    • پارلیمنٹ کو سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے، علامہ راجہ ناصر عباس
    • پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ علامہ راجہ ناصر عباس سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف مقرر
    • چمن سرحد پر پاکستان اور افغان سیکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ، جانی نقصان نہیں ہوا
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخواہ
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » آئینی مسوده مکمل اتفاق رائے کے بعد قومی اسمبلی میں پیش کریں گے، خواجہ آصف
    اہم خبریں

    آئینی مسوده مکمل اتفاق رائے کے بعد قومی اسمبلی میں پیش کریں گے، خواجہ آصف

    ستمبر 16, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Constitutional draft will tabled in Na after complete condenses, Khwaja Asif
    یہ ڈرافٹ حکومتی اتحادکی دانست میں آئین کو بہتر کرنےکی کوشش تھی،وزیر دفاع
    Share
    Facebook Twitter Email

    سپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت  قومی اسمبلی کے اجلاس میں عدلیہ سے متعلق آئینی ترامیم پر حکومتی اور اپوزیشن اراکین  پھٹ پڑے۔

    ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ آئینی ترامیم کے معاملے میں کوئی سیاست شامل نہیں لیکن پھر بھی اس کو سیاسی رنگ دیا گیا تاہم آئینی مسودے پر مکمل اتفاق رائے ہوجائے گا تو ایوان میں پیش کیا جائے گا۔

    وزیر دفاع کہا کہ پچھلے چند دنوں سے آئینی ترامیم سے متعلق ایک ڈرافٹ گردش کرتا رہا میڈیا میں بھی آیا اور مختلف سیاسی رہنماؤں کے ملاقاتوں میں بھی زیر بحث آیا۔

    انہوں نے کہا کہ آئینی ترامیم کے معاملے میں کوئی سیاست نہیں، ترامیم آئین میں عدم توازن دور کرنے کے لیے ہے، رکن پارلیمنٹ کے حیثیت سے آئین ہمیں اختیار دیتا ہے کہ ہم پارلیمنٹ کی سربلندی کے لیے کام کریں جب کہ قانون سازی اور آئین کی حفاظت کرنا ہمارا حق ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ ڈرافٹ حکومتی اتحادکی دانست میں آئین کو بہتر کرنےکی کوشش تھی، اس دستاویز میں آئینی عدالت سے متعلق تجویز ہے، یہ صرف پاکستان میں نہیں ہوگا بلکہ بہت سے جمہوری ممالک میں آئینی عدالتیں موجود ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ پارلیمنٹ اس پر تجاوز کرلے گی۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ اتفاق رائے سے یہ منظور ہو، کابینہ سے منظوری تک آئینی ترمیم کی کوئی حتمی شکل سامنے نہیں آنی تھی اور جب اس پر اتفاق ہو جائے گا تو اس ایوان میں بھی ضرور آئے گا۔

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے کہا کہ مجھے انتہائی افسوس ہے جس طرح آج اس پارلیمان کی بے توقیری کی گئی اور اس پارلیمنٹ کو ربڑ سٹمپ کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی گئی، جس طرح پارلیمنٹ کو مذاق بنایا گیا میں اس کی مذمت کرتا ہوں۔

    انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے تمام ایم این ایز کی بہادری کو سلام پیش کرتا ہوں، خاص طور پر مولانا فضل الرحمٰن کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے ہمت سے ان حالات کا مظاہرہ کرتا ہوں اور محمود اچکزئی کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔

    ان کا کہنا تھا کہ میں پوچھنا چاہتا ہوں وزیر قانون کہہ رہے تھے کہ میرے پاس کوئی مسودہ نہیں ہے، اگر وزیر قانون کو پتہ نہیں، حکومت کے نمائندوں کو پتہ نہیں تو یہ ڈرافٹ کہاں سے آیا؟

    اسد قیصر نے کہا کہ مجھے سب سے زیادہ افسوس پیپلزپارٹی اور بلاول بھٹو زرداری پر ہے، جن کو سارا علم تھا، اس میں 56 ترامیم پیش کی گئی تھیں، یہ بتائیں کہ آرٹیکل 8 اور 99 اس میں ترامیم کا کہا گیا تھا، یہ تو بنیادی شہری حقوق کو بھی سلب کرنا چاہتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ہم کوئی اس ملک کے دشمن ہیں، ہم چاہتے ہیں جو جوڈیشل ریفامرز آئیں اور لوگوں کو سہولت ملے، ہم نے پہلے بھی اس پر بات کی ہے، اگر ترامیم لانی ہے تو بالکل لائیں مگر اس پر بحث کریں۔

    ان کا کہنا تھا کہ رات کی تاریکی میں چھٹی والے دن چوری کی طرح یہ ترامیم پاس کرنی ہوتی ہے، کیا اس اسمبلی کے کوئی رولز ہیں یا نہیں، آپ نے اگر اس قسم کی قانون سازی کرنی ہے تو سب سے پہلے اس کو پبلک کریں، اس پر تمام بار ایسوی ایشن کو اعتماد میں لیں، اسمبلی میں بحث کرائیں، اگر اس طرح کی جانے والی قانون سازی کو چوری کہا جاتا ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں جتنا جھوٹ بولا گیا وہ تاریخ کا بدترین جھوٹ بولا تھا، اس پارلیمنٹ کے پاس اخلاقی جواز نہیں کیوں کہ یہ فارم 47 کی پیداوار ہے لیکن پھر بھی کرنا ہے تو ہمارے 6 سے 7 لوگوں کو اغوا کیا گیا اور انہیں پنجاب ہاؤس میں رکھا گیا ہے، کیا قانون سازی اس طرح ہوتی ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleحکومتی بیل منڈھے نہ چڑھ سکی، آئینی ترامیم غیر معینہ مدت تک مؤخر
    Next Article عید میلاد النبیﷺ کے موقع پر قیدیوں کی سزاؤں میں 90 روز کی کمی
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    قانون و امن کا نفاذ پولیس کی مقدس امانت ہے، چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر

    جنوری 20, 2026

    تحریک انصاف سے مذاکرات میں سنجیدہ ہیں مگر یہ کئی زبانیں بولتے ہیں ہم کس پر اعتبار کریں: خواجہ آصف

    جنوری 20, 2026

    پارلیمنٹ کو سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے، علامہ راجہ ناصر عباس

    جنوری 20, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    Khyber News YouTube Channel
    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    قانون و امن کا نفاذ پولیس کی مقدس امانت ہے، چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر

    جنوری 20, 2026

    پی ٹی آئی کی ’’ منظم کارروائیاں ‘‘

    جنوری 20, 2026

    پاکستان کے خلاف غیر ملکی پروپیگنڈے کا مہرہ، میر یار بلوچ

    جنوری 20, 2026

    صنفِ نازک سے صنفِ آہن تک کا سفر

    جنوری 20, 2026

    تحریک انصاف سے مذاکرات میں سنجیدہ ہیں مگر یہ کئی زبانیں بولتے ہیں ہم کس پر اعتبار کریں: خواجہ آصف

    جنوری 20, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.