Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    پیر, مارچ 30, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • پشاور زلمی نے HBL PSL 11 کے لیے آفیشل ترانہ “رائز آف زلمی” جاری کر دیا
    • ملک میں چار ہفتوں کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کا ذخیرہ موجود ہے، مشیر خزانہ خرم شہزاد
    • خاران میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 4 دہشتگرد ہلاک، 2 زخمی حالت میں گرفتار
    • پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس میں 4600 سے زائد پوائنٹس کی کمی
    • باڑہ: فرنٹیئر روڈ پر عزیر مارکیٹ کے قریب فائرنگ، 5 افراد جاں بحق، 2 زخمی
    • ملک بھر میں بارشوں سے موسم خوشگوار، محکمہ موسمیات نے 31 مارچ تک بارشوں کی پیشگوئی کر دی
    • امریکہ اور یورپ میں جنگ کے خلاف بڑے مظاہرے، ٹرمپ کی پالیسیوں پر شدید تنقید
    • آبنائے ہرمز سے پاکستانی پرچم بردار مزید20 جہازوں کوگزرنےکی اجازت مل گئی
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » جہاں پارا چنار حملہ ہوا وہ راستہ دوسرے ملک سے آتا ہے، اپنا دشمن پہچانیں، جسٹس مسرت ہلالی
    اہم خبریں

    جہاں پارا چنار حملہ ہوا وہ راستہ دوسرے ملک سے آتا ہے، اپنا دشمن پہچانیں، جسٹس مسرت ہلالی

    اکتوبر 31, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    The route where the Parachinar attack took place comes from another country, know your enemy, Justice Musarat Hilali
    واقعے میں 37 افراد جاں بحق ، 88 افراد زخمی ہوئے ، وکیل سی ٹی ڈی
    Share
    Facebook Twitter Email

    سپریم کورٹ کی جسٹس مسرت ہلالی نے کیس کی سماعت  کے دوران مکالمہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جہاں پارا چنار حملہ ہوا وہ راستہ دوسرے ملک سے آتا ہے، اپنا دشمن پہچانیں ،صورتحال کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کریں ۔

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس صلاح الدین پنہور پر مشتمل 2 رکنی بئنچ نے پارا چنار قافلے پر حملے کے دوران گرفتار ملزم کی درخواست ضمانت پر سماعت کی ۔

    دورانِ سماعت سی ٹی ڈی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ واقعے میں 37 افراد جاں بحق ، 88 افراد زخمی ہوئے ہیں ۔

    جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ اس واقعے میں ایک ہی بندے کی شناخت ہوئی ہے کیا ؟ جو حملہ کرنے پہاڑوں سے آئے تھے، ان میں سے کوئی گرفتار نہیں ہوا ؟ ۔

    وکیل نے جواب دیا کہ ان میں سے 9 لوگوں کی ضمانت سپریم کورٹ نے خارج کی ہے ۔

    جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ اب کیا صورتحال ہے ، راستے کھل گئے ہیں ؟ ، جس پر وکیل نے بتایا کہ صبح 9 بجے سے دن 2 بجے تک راستے کھلے رہتے ہیں ۔

    جسٹس مسرت ہلالی نے سی ٹی ڈی کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جہاں پارا چنار حملہ ہوا وہ راستہ دوسرے ملک سے آتا ہے، آپ اپنا دشمن پہچانیں، صورتحال کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کریں ۔

    بعد ازاں عدالت نے ملزم کو وکیل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی ۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleگورنر کی منظوری کے بعد خیبر پختونخوا کی نئی کابینہ تشکیل
    Next Article کسی بھی بیرونی جارحیت کا جواب سخت اور شدید ہوگا، ڈی جی آئی ایس پی آر
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    ملک میں چار ہفتوں کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کا ذخیرہ موجود ہے، مشیر خزانہ خرم شہزاد

    مارچ 30, 2026

    خاران میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 4 دہشتگرد ہلاک، 2 زخمی حالت میں گرفتار

    مارچ 30, 2026

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس میں 4600 سے زائد پوائنٹس کی کمی

    مارچ 30, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    پشاور زلمی نے HBL PSL 11 کے لیے آفیشل ترانہ “رائز آف زلمی” جاری کر دیا

    مارچ 30, 2026

    ملک میں چار ہفتوں کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کا ذخیرہ موجود ہے، مشیر خزانہ خرم شہزاد

    مارچ 30, 2026

    خاران میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 4 دہشتگرد ہلاک، 2 زخمی حالت میں گرفتار

    مارچ 30, 2026

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس میں 4600 سے زائد پوائنٹس کی کمی

    مارچ 30, 2026

    باڑہ: فرنٹیئر روڈ پر عزیر مارکیٹ کے قریب فائرنگ، 5 افراد جاں بحق، 2 زخمی

    مارچ 30, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.