وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ بلوچستان میں بڑے پیمانے پر پاک فوج کی تعیناتی کی ضرورت ہے، بلوچستان میں گزشتہ دور روز کے دوران 177دہشتگرد مارے گئے، 16سیکورٹی فورسز اور 33عام شہری شہید ہوئے ۔
اسلام آباد: قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اظہارخیال کرتے ہوئے خواجہ محمد آصف نے کہا کہ ہماری حکومت نے سمگلنگ کی روک تھام کیلئے سختی کی، چمن بارڈر پر ایک بہت بڑا احتجاج بھی ہوا، لوگ کہتے ہیں نیشنلسٹ تحریکوں کے ساتھ مذاکرات ہونے چاہئیں ۔
وزیر دفاع نے کہا کہ ان لوگوں کی سیاسی نہ قوم پرست شناخت ہے، بنیادی طور پر کاروباری نقصانات کے ازالے کیلئے تحریک چلائی جا رہی ہے، یہ لوگ یومیہ تیل کی سمگلنگ سے چار ارب روپے کما رہے تھے ۔
انہوں نے کہا کہ ’بی ایل اے کے نام پر جرائم پیشہ لوگ ان سمگلرز کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں، بلوچستان میں قبائلی عمائدین، بیوروکریسی اور علیحدگی پسند تحریک چلانے والوں کا گٹھ جوڑ بن چکا ہے ۔
خواجہ آصف نے کہا کہ بلوچستان میں گزشتہ دور روز کے دوران 177دہشتگرد مارے گئے، 16سیکورٹی فورسز اور 33عام شہری شہید ہوئے ۔
خواجہ آصف نے کہا کہ بلوچستان میں آج 15ہزار 96 سکولز ہیں، بلوچستان میں 13کیڈٹ کالجز ہیں، آج بلوچستان میں 13بڑے ہسپتال ہیں، بلوچستان میں احساس محرومی کا بیانیہ بنایا جاتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا این ایف سی شیئر 933 ارب ہے، ایرانی تیل کے پمپ کوئٹہ کے وسط میں پایا جاتا ہے، سرداری نظام نے بلوچستان کے تمام وسائل کو لوٹا ۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان جتنے ایئرپورٹ کسی صوبے میں نہیں ہیں، جو ایئرپورٹس آپریشنل نہیں ان کو آپریشنل کر رہے ہیں، جو دہشت گرد مارے جا رہے ہیں ان کا نام مسنگ پرسنز لسٹ میں ہے، مسنگ پرسنز باہر بیٹھے ہیں اور ان کے خاندان پیسے لے رہے ہیں، اتنے بڑے صوبے کو مینیج کرنا بہت بڑا ٹاسک ہے ۔
وزیر دفاع نے کہا کہ بلوچستان میں متعدد آپریشنز ہوئے، بلوچستان میں آج بھارتی پراکسیزکام کررہی ہیں، بلوچستان سمیت جب بھی بلدیاتی نظام آیا ہے اس نے ترقی دی ہے، تقسیم پاکستان کے وقت جتنی بلوچستان میں ترقی تھی، آج تعلیمی اداروں ہسپتالوں سمیت سب کچھ کئی گنا بڑھ چکی ہے ۔

