Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, مارچ 5, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • افغان طالبان دور میں خواتین کے حقوق کی بدترین صورتحال، عالمی انڈیکس میں افغانستان آخری نمبر پر
    • وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان سے تاجکستان کے سفیر کی ملاقات، نئے تجارتی راستوں کے حوالے سے گفتگو
    • حکومتِ پاکستان کا 1 ارب ڈالر اے آئی فنڈ، ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت
    • برطانوی ہائی کورٹ کا میجر (ر) عادل راجہ کے خلاف ہتکِ عزت کیس میں تفصیلی فیصلہ، بھاری جرمانہ برقرار
    • ضلع کرم کی سرحدی پٹی بوڑکی اور خرلاچی پر فائرنگ، جوابی کارروائی میں حملہ آوروں کو بھاری نقصان
    • پاک افغان سرحد پر جھڑپیں اور ایران پر امریکی-اسرائیلی حملہ: تازہ ترین مصدقہ صورتحال
    • رمضان شادمان اور احمد شیر کا پکوان عارف قاضی کے بنئیے مہمان
    • امریکا کے ایران میں وسیع حملے، ہزاروں اہداف تباہ، ایران کی جانب سے 500 میزائل داغے گئے
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » مہمند میں قیام امن کے لیے قبائلی عمائدین کا عزم
    اہم خبریں

    مہمند میں قیام امن کے لیے قبائلی عمائدین کا عزم

    جنوری 2, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Mohmand Elders Pledge Support for Security Forces
    مہمند میں امن کے لیے قبائلی عمائدین کا عزم
    Share
    Facebook Twitter Email

    مہمند ضلع کے قبائلی مشران نے پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ اپنی بھرپور یکجہتی اور عزم کا ایک واضح پیغام دیا ہے کہ وہ اپنے علاقے میں امن کے قیام کے لیے ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ یہ عہد فرنٹیئر کور خیبر پختونخوا نارتھ کی جانب سے قلعہ بالاحصار پشاور میں منعقدہ ایک خصوصی گرینڈ جرگہ میں کیا گیا، جس میں مقامی عمائدین، عسکری حکام اور سول حکام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ یہ جرگہ صرف موجودہ سیکیورٹی صورتحال پر بات چیت کرنے کا ایک پلیٹ فارم نہیں تھا بلکہ ایک عہد تھا کہ مہمند کے عوام اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان اتحاد مضبوط ہوگا۔

    مہمند اور اس جیسے قبائلی علاقوں کے لیے اس اعلان کا کیا مطلب ہے؟ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ اتحاد قبائلی علاقوں کے مستقبل کے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟

    پاکستان کے قبائلی اضلاع سالوں سے تنازعے اور بے چینی کا شکار رہے ہیں۔ ان علاقوں کا خیبر پختونخوا کے ساتھ 2018 میں انضمام ایک تاریخی قدم تھا جس سے ترقی، بہتر حکمرانی اور سیکیورٹی کے دروازے کھلے۔ تاہم، امن ابھی بھی نازک ہے، اور دہشت گردی و انتہاپسندی کے عناصر اب بھی ان علاقوں میں اپنی موجودگی کو قائم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    یہاں پر مقامی قبائلی رہنماؤں کا کردار انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ جرگہ نے مہمند کے مختلف قبائل کے مشران کو اکٹھا کر کے یہ ثابت کر دیا کہ یہ رہنما نہ صرف اپنے علاقے کی روایات اور ثقافت کے محافظ ہیں بلکہ وہ اس کے مستقبل کو بھی شکل دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کی حمایت کا علانیہ اظہار اور امن کو خراب کرنے والوں کی مذمت ان کے عزم کا غماز ہے کہ امن کا پیغام واضح طور پر سنایا جائے گا۔

    اس جرگے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ قبائلی مشران نے انتہاپسندوں کے خلاف متحد ہونے کا عہد کیا ہے۔ قبائلی عمائدین ہمیشہ اپنی کمیونٹیز کی رہنمائی کرتے آئے ہیں، اور اب وہ انتہاپسند نظریات کے پھیلاؤ کے خلاف ایک نیا کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ جرگہ انتہاپسندی کے خلاف جنگ میں ایک نیا آغاز ہے، جہاں مقامی رہنما عوام کو اس بات سے آگاہ کر رہے ہیں کہ ان کے علاقے کے امن کو خطرہ کس طرح ہے اور وہ سیکیورٹی فورسز کی مدد کریں۔

    ان کے اس عہد کا مطلب صرف یہ نہیں کہ وہ فوج کے ساتھ کھڑے ہیں، بلکہ وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ امن کی بحالی کا عمل صرف فوجی کارروائیوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ یہ ایک جامع حکمت عملی کا حصہ ہے جس میں معاشی ترقی، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری شامل ہونی چاہیے۔ مہمند کے عوام کو ترقی کے موقعوں کی ضرورت ہے تاکہ وہ انتہاپسندی سے بچ سکیں اور اپنے علاقے کو خوشحال بنا سکیں۔

    مزید برآں، حکومت کو اس پیغام پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا جو مشران نے دیا ہے۔ مقامی کمیونٹی کی شمولیت امن کے قیام کے لیے ضروری ہے، اور آئندہ سیکیورٹی آپریشنز میں ان کے ساتھ مشاورت اور احترام کا سلوک ضروری ہوگا۔ اس سے عوام اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان اعتماد پیدا ہوگا، جو کسی بھی امن کے عمل کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہے۔

    آخرکار، مہمند میں جرگے کا انعقاد ایک اہم قدم تھا جس نے انتہاپسندوں کے خلاف یکجہتی کا پیغام دیا۔ قبائلی رہنماؤں کی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ بے لوث حمایت اور امن کے لیے ان کا عزم اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مہمند اور اس جیسے علاقوں میں امن کا راستہ اتحاد، مکالمہ اور کمیونٹی کی سطح پر تعاون سے گزر کر ہی ممکن ہے۔ مگر اس وژن کو حقیقت میں بدلنے کے لیے کئی محاذوں پر مسلسل کوششیں ضروری ہیں۔ مہمند اور ان جیسے قبائلی علاقوں میں امن تبھی قائم ہو سکتا ہے جب حکومت اور عوام ایک مشترکہ مقصد کے تحت کام کریں: امن اور خوشحالی کا ایک روشن مستقبل۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleایس آئی ایف سی کی معاونت سے پاکستان میں الیکٹرک وہیکل انڈسٹری کو فروغ ملنے لگا
    Next Article تحریک انصاف اور ٹی ٹی پی کا خفیہ اتحاد
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    افغان طالبان دور میں خواتین کے حقوق کی بدترین صورتحال، عالمی انڈیکس میں افغانستان آخری نمبر پر

    مارچ 5, 2026

    وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان سے تاجکستان کے سفیر کی ملاقات، نئے تجارتی راستوں کے حوالے سے گفتگو

    مارچ 4, 2026

    حکومتِ پاکستان کا 1 ارب ڈالر اے آئی فنڈ، ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت

    مارچ 4, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    افغان طالبان دور میں خواتین کے حقوق کی بدترین صورتحال، عالمی انڈیکس میں افغانستان آخری نمبر پر

    مارچ 5, 2026

    وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان سے تاجکستان کے سفیر کی ملاقات، نئے تجارتی راستوں کے حوالے سے گفتگو

    مارچ 4, 2026

    حکومتِ پاکستان کا 1 ارب ڈالر اے آئی فنڈ، ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت

    مارچ 4, 2026

    برطانوی ہائی کورٹ کا میجر (ر) عادل راجہ کے خلاف ہتکِ عزت کیس میں تفصیلی فیصلہ، بھاری جرمانہ برقرار

    مارچ 4, 2026

    ضلع کرم کی سرحدی پٹی بوڑکی اور خرلاچی پر فائرنگ، جوابی کارروائی میں حملہ آوروں کو بھاری نقصان

    مارچ 4, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.