Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    منگل, اگست 25, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • بنوں اور لکی مروت پولیس کمیٹیوں کا 7 اہلکاروں کے تبادلوں پر احتجاج
    • صوابی چھوٹا لاہور میں کم عمر گونگی اور بہری لڑکی سے نکاح کی کوشش، 70 سالہ شخص گرفتار
    • خیبر پختونخوا اسمبلی نے بانی پی ٹی آئی کو شفاء ہسپتال منتقل کرکے علاج کی سہولت دینے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی
    • آئندہ 24 گھنٹوں میں گرم اور مرطوب موسم کی پیش گوئی، بالائی علاقوں میں بارش کی پیشگوئی
    • جمرود تخته بیگ چیک پوسٹ پر حملہ ، زخمی پولیس اہلکار شہید ، نمازِ جنازہ سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا
    • عوام نے فیصلہ دے دیا، بانی کو رہا کرکے دکھائیں گے ، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
    • پاکستان نے جاپان جونیئر اوپن سکواش چیمپئن شپ میں 2 گولڈ میڈلز اپنے نام کرلئے
    • اے سی سی انتخابات، پاکستان کے حمایت یافتہ پینل نے بھارتی حمایت یافتہ پینل کو شکست دیدی
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » مہمند میں قیام امن کے لیے قبائلی عمائدین کا عزم
    اہم خبریں جنوری 2, 2025

    مہمند میں قیام امن کے لیے قبائلی عمائدین کا عزم

    Facebook Twitter Email
    Mohmand Elders Pledge Support for Security Forces
    مہمند میں امن کے لیے قبائلی عمائدین کا عزم
    Share
    Facebook Twitter Email

    مہمند ضلع کے قبائلی مشران نے پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ اپنی بھرپور یکجہتی اور عزم کا ایک واضح پیغام دیا ہے کہ وہ اپنے علاقے میں امن کے قیام کے لیے ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ یہ عہد فرنٹیئر کور خیبر پختونخوا نارتھ کی جانب سے قلعہ بالاحصار پشاور میں منعقدہ ایک خصوصی گرینڈ جرگہ میں کیا گیا، جس میں مقامی عمائدین، عسکری حکام اور سول حکام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ یہ جرگہ صرف موجودہ سیکیورٹی صورتحال پر بات چیت کرنے کا ایک پلیٹ فارم نہیں تھا بلکہ ایک عہد تھا کہ مہمند کے عوام اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان اتحاد مضبوط ہوگا۔

    مہمند اور اس جیسے قبائلی علاقوں کے لیے اس اعلان کا کیا مطلب ہے؟ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ اتحاد قبائلی علاقوں کے مستقبل کے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟

    پاکستان کے قبائلی اضلاع سالوں سے تنازعے اور بے چینی کا شکار رہے ہیں۔ ان علاقوں کا خیبر پختونخوا کے ساتھ 2018 میں انضمام ایک تاریخی قدم تھا جس سے ترقی، بہتر حکمرانی اور سیکیورٹی کے دروازے کھلے۔ تاہم، امن ابھی بھی نازک ہے، اور دہشت گردی و انتہاپسندی کے عناصر اب بھی ان علاقوں میں اپنی موجودگی کو قائم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    یہاں پر مقامی قبائلی رہنماؤں کا کردار انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ جرگہ نے مہمند کے مختلف قبائل کے مشران کو اکٹھا کر کے یہ ثابت کر دیا کہ یہ رہنما نہ صرف اپنے علاقے کی روایات اور ثقافت کے محافظ ہیں بلکہ وہ اس کے مستقبل کو بھی شکل دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کی حمایت کا علانیہ اظہار اور امن کو خراب کرنے والوں کی مذمت ان کے عزم کا غماز ہے کہ امن کا پیغام واضح طور پر سنایا جائے گا۔

    اس جرگے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ قبائلی مشران نے انتہاپسندوں کے خلاف متحد ہونے کا عہد کیا ہے۔ قبائلی عمائدین ہمیشہ اپنی کمیونٹیز کی رہنمائی کرتے آئے ہیں، اور اب وہ انتہاپسند نظریات کے پھیلاؤ کے خلاف ایک نیا کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ جرگہ انتہاپسندی کے خلاف جنگ میں ایک نیا آغاز ہے، جہاں مقامی رہنما عوام کو اس بات سے آگاہ کر رہے ہیں کہ ان کے علاقے کے امن کو خطرہ کس طرح ہے اور وہ سیکیورٹی فورسز کی مدد کریں۔

    ان کے اس عہد کا مطلب صرف یہ نہیں کہ وہ فوج کے ساتھ کھڑے ہیں، بلکہ وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ امن کی بحالی کا عمل صرف فوجی کارروائیوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ یہ ایک جامع حکمت عملی کا حصہ ہے جس میں معاشی ترقی، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری شامل ہونی چاہیے۔ مہمند کے عوام کو ترقی کے موقعوں کی ضرورت ہے تاکہ وہ انتہاپسندی سے بچ سکیں اور اپنے علاقے کو خوشحال بنا سکیں۔

    مزید برآں، حکومت کو اس پیغام پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا جو مشران نے دیا ہے۔ مقامی کمیونٹی کی شمولیت امن کے قیام کے لیے ضروری ہے، اور آئندہ سیکیورٹی آپریشنز میں ان کے ساتھ مشاورت اور احترام کا سلوک ضروری ہوگا۔ اس سے عوام اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان اعتماد پیدا ہوگا، جو کسی بھی امن کے عمل کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہے۔

    آخرکار، مہمند میں جرگے کا انعقاد ایک اہم قدم تھا جس نے انتہاپسندوں کے خلاف یکجہتی کا پیغام دیا۔ قبائلی رہنماؤں کی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ بے لوث حمایت اور امن کے لیے ان کا عزم اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مہمند اور اس جیسے علاقوں میں امن کا راستہ اتحاد، مکالمہ اور کمیونٹی کی سطح پر تعاون سے گزر کر ہی ممکن ہے۔ مگر اس وژن کو حقیقت میں بدلنے کے لیے کئی محاذوں پر مسلسل کوششیں ضروری ہیں۔ مہمند اور ان جیسے قبائلی علاقوں میں امن تبھی قائم ہو سکتا ہے جب حکومت اور عوام ایک مشترکہ مقصد کے تحت کام کریں: امن اور خوشحالی کا ایک روشن مستقبل۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleایس آئی ایف سی کی معاونت سے پاکستان میں الیکٹرک وہیکل انڈسٹری کو فروغ ملنے لگا
    Next Article تحریک انصاف اور ٹی ٹی پی کا خفیہ اتحاد
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    بنوں اور لکی مروت پولیس کمیٹیوں کا 7 اہلکاروں کے تبادلوں پر احتجاج

    اگست 25, 2026

    صوابی چھوٹا لاہور میں کم عمر گونگی اور بہری لڑکی سے نکاح کی کوشش، 70 سالہ شخص گرفتار

    اگست 25, 2026

    خیبر پختونخوا اسمبلی نے بانی پی ٹی آئی کو شفاء ہسپتال منتقل کرکے علاج کی سہولت دینے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی

    اگست 24, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    بنوں اور لکی مروت پولیس کمیٹیوں کا 7 اہلکاروں کے تبادلوں پر احتجاج

    اگست 25, 2026

    صوابی چھوٹا لاہور میں کم عمر گونگی اور بہری لڑکی سے نکاح کی کوشش، 70 سالہ شخص گرفتار

    اگست 25, 2026

    خیبر پختونخوا اسمبلی نے بانی پی ٹی آئی کو شفاء ہسپتال منتقل کرکے علاج کی سہولت دینے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی

    اگست 24, 2026

    آئندہ 24 گھنٹوں میں گرم اور مرطوب موسم کی پیش گوئی، بالائی علاقوں میں بارش کی پیشگوئی

    اگست 24, 2026

    جمرود تخته بیگ چیک پوسٹ پر حملہ ، زخمی پولیس اہلکار شہید ، نمازِ جنازہ سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا

    اگست 24, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.