Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعہ, فروری 6, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • اسلام آباد: امام بارگاہ میں خودکش دھماکہ، 31افراد شہید، 150 سے زائد زخمی
    • 8 فروری پی ٹی آئی احتجاج اور ممکنہ نتائج ۔۔۔۔۔۔
    • خیبر پختونخوا میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں جاری، مزید 24 دہشت گرد ہلاک
    • پاکستان اور ازبکستان کے درمیان مختلف شعبوں میں 28 معاہدوں اور ایم او یوز پر دستخط ہوگئے
    • کشمیر ایک دن ضرور آزاد ہوگا، پاکستان کشمیریوں کی حمایت جاری رکھے گا، وزیراعظم
    • کابل میں دوحہ پراسیس کے تحت انسدادِ منشیات ورکنگ گروپ کا چوتھا اجلاس
    • سابق انگلش کپتان ناصر حسین کی پاکستان اور بنگلادیش کی حمایت
    • پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی، سفارتی و سیاسی حمایت جاری رکھے گا، صدر مملکت، وزیراعظم
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخواہ
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » مہمند میں قیام امن کے لیے قبائلی عمائدین کا عزم
    اہم خبریں

    مہمند میں قیام امن کے لیے قبائلی عمائدین کا عزم

    جنوری 2, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Mohmand Elders Pledge Support for Security Forces
    مہمند میں امن کے لیے قبائلی عمائدین کا عزم
    Share
    Facebook Twitter Email

    مہمند ضلع کے قبائلی مشران نے پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ اپنی بھرپور یکجہتی اور عزم کا ایک واضح پیغام دیا ہے کہ وہ اپنے علاقے میں امن کے قیام کے لیے ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ یہ عہد فرنٹیئر کور خیبر پختونخوا نارتھ کی جانب سے قلعہ بالاحصار پشاور میں منعقدہ ایک خصوصی گرینڈ جرگہ میں کیا گیا، جس میں مقامی عمائدین، عسکری حکام اور سول حکام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ یہ جرگہ صرف موجودہ سیکیورٹی صورتحال پر بات چیت کرنے کا ایک پلیٹ فارم نہیں تھا بلکہ ایک عہد تھا کہ مہمند کے عوام اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان اتحاد مضبوط ہوگا۔

    مہمند اور اس جیسے قبائلی علاقوں کے لیے اس اعلان کا کیا مطلب ہے؟ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ اتحاد قبائلی علاقوں کے مستقبل کے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟

    پاکستان کے قبائلی اضلاع سالوں سے تنازعے اور بے چینی کا شکار رہے ہیں۔ ان علاقوں کا خیبر پختونخوا کے ساتھ 2018 میں انضمام ایک تاریخی قدم تھا جس سے ترقی، بہتر حکمرانی اور سیکیورٹی کے دروازے کھلے۔ تاہم، امن ابھی بھی نازک ہے، اور دہشت گردی و انتہاپسندی کے عناصر اب بھی ان علاقوں میں اپنی موجودگی کو قائم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    یہاں پر مقامی قبائلی رہنماؤں کا کردار انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ جرگہ نے مہمند کے مختلف قبائل کے مشران کو اکٹھا کر کے یہ ثابت کر دیا کہ یہ رہنما نہ صرف اپنے علاقے کی روایات اور ثقافت کے محافظ ہیں بلکہ وہ اس کے مستقبل کو بھی شکل دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کی حمایت کا علانیہ اظہار اور امن کو خراب کرنے والوں کی مذمت ان کے عزم کا غماز ہے کہ امن کا پیغام واضح طور پر سنایا جائے گا۔

    اس جرگے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ قبائلی مشران نے انتہاپسندوں کے خلاف متحد ہونے کا عہد کیا ہے۔ قبائلی عمائدین ہمیشہ اپنی کمیونٹیز کی رہنمائی کرتے آئے ہیں، اور اب وہ انتہاپسند نظریات کے پھیلاؤ کے خلاف ایک نیا کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ جرگہ انتہاپسندی کے خلاف جنگ میں ایک نیا آغاز ہے، جہاں مقامی رہنما عوام کو اس بات سے آگاہ کر رہے ہیں کہ ان کے علاقے کے امن کو خطرہ کس طرح ہے اور وہ سیکیورٹی فورسز کی مدد کریں۔

    ان کے اس عہد کا مطلب صرف یہ نہیں کہ وہ فوج کے ساتھ کھڑے ہیں، بلکہ وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ امن کی بحالی کا عمل صرف فوجی کارروائیوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ یہ ایک جامع حکمت عملی کا حصہ ہے جس میں معاشی ترقی، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری شامل ہونی چاہیے۔ مہمند کے عوام کو ترقی کے موقعوں کی ضرورت ہے تاکہ وہ انتہاپسندی سے بچ سکیں اور اپنے علاقے کو خوشحال بنا سکیں۔

    مزید برآں، حکومت کو اس پیغام پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا جو مشران نے دیا ہے۔ مقامی کمیونٹی کی شمولیت امن کے قیام کے لیے ضروری ہے، اور آئندہ سیکیورٹی آپریشنز میں ان کے ساتھ مشاورت اور احترام کا سلوک ضروری ہوگا۔ اس سے عوام اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان اعتماد پیدا ہوگا، جو کسی بھی امن کے عمل کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہے۔

    آخرکار، مہمند میں جرگے کا انعقاد ایک اہم قدم تھا جس نے انتہاپسندوں کے خلاف یکجہتی کا پیغام دیا۔ قبائلی رہنماؤں کی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ بے لوث حمایت اور امن کے لیے ان کا عزم اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مہمند اور اس جیسے علاقوں میں امن کا راستہ اتحاد، مکالمہ اور کمیونٹی کی سطح پر تعاون سے گزر کر ہی ممکن ہے۔ مگر اس وژن کو حقیقت میں بدلنے کے لیے کئی محاذوں پر مسلسل کوششیں ضروری ہیں۔ مہمند اور ان جیسے قبائلی علاقوں میں امن تبھی قائم ہو سکتا ہے جب حکومت اور عوام ایک مشترکہ مقصد کے تحت کام کریں: امن اور خوشحالی کا ایک روشن مستقبل۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleایس آئی ایف سی کی معاونت سے پاکستان میں الیکٹرک وہیکل انڈسٹری کو فروغ ملنے لگا
    Next Article تحریک انصاف اور ٹی ٹی پی کا خفیہ اتحاد
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    اسلام آباد: امام بارگاہ میں خودکش دھماکہ، 31افراد شہید، 150 سے زائد زخمی

    فروری 6, 2026

    خیبر پختونخوا میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں جاری، مزید 24 دہشت گرد ہلاک

    فروری 6, 2026

    پاکستان اور ازبکستان کے درمیان مختلف شعبوں میں 28 معاہدوں اور ایم او یوز پر دستخط ہوگئے

    فروری 5, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    اسلام آباد: امام بارگاہ میں خودکش دھماکہ، 31افراد شہید، 150 سے زائد زخمی

    فروری 6, 2026

    8 فروری پی ٹی آئی احتجاج اور ممکنہ نتائج ۔۔۔۔۔۔

    فروری 6, 2026

    خیبر پختونخوا میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں جاری، مزید 24 دہشت گرد ہلاک

    فروری 6, 2026

    پاکستان اور ازبکستان کے درمیان مختلف شعبوں میں 28 معاہدوں اور ایم او یوز پر دستخط ہوگئے

    فروری 5, 2026

    کشمیر ایک دن ضرور آزاد ہوگا، پاکستان کشمیریوں کی حمایت جاری رکھے گا، وزیراعظم

    فروری 5, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.