Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعہ, جنوری 23, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز: امن و استحکام کی ضمانت
    • ڈی آئی خان: امن کمیٹی کے سربراہ کے گھر شادی کی تقریب میں خودکش دھماکہ، 3 افراد جاں بحق، 7 زخمی
    • چترال کے علاقے ڈومیل میں گھر پر برفانی تودہ گرنے سے 9 افراد جاں بحق، ایک بچہ زخمی
    • خواتین کے نام پر پالیسیاں ، فائدہ کیا؟
    • پشاور میں جائیداد کے تنازع پر فائرنگ، ایف سی ملازم سمیت دو افراد جاں بحق، متعدد زخمی
    • صوابی میں خاتون کے ہاں بیک وقت 5 بچوں کی پیدائش
    • ملک کے بالائی علاقوں میں شدید برفباری سے نظام زندگی مفلوج، مختلف حادثات میں 2 افراد جاں بحق، 35 زخمی ،کئی علاقوں میں سیاح پھنس گئے
    • گل پلازہ واقعے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے: گورنر خیبرپختونخوا
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخواہ
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » افغان طالبان کے اخلاقی ضابطے یا ریاستی جبر؟ اقوام متحدہ کی چشم کشا رپورٹ
    افغانستان

    افغان طالبان کے اخلاقی ضابطے یا ریاستی جبر؟ اقوام متحدہ کی چشم کشا رپورٹ

    اپریل 13, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Afghan Taliban's Moral Code or State Repression? UN Report Reveals Alarming Human Rights Violations
    Taliban's Moral Police: State-Sanctioned Oppression or Ethical Governance? UN Report Uncovers the Truth
    Share
    Facebook Twitter Email

    افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے تحت نافذ اخلاقی ضابطے اور ریاستی جبر کی حقیقت دنیا کے سامنے آ گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے امدادی مشن (UNAMA) کی تازہ رپورٹ نے طالبان کی جانب سے خواتین اور اقلیتی گروپوں کے حقوق کی پامالی، اور عوامی زندگی میں ان کے کردار کو محدود کرنے کے حوالے سے کئی ہولناک تفصیلات پیش کی ہیں۔

    اگست 2024 میں قائم ہونے والی وزارت "امر بالمعروف و نہی عن المنکر” کے ذریعے طالبان نے 28 صوبوں میں اخلاقی قوانین کو نافذ کرنے کے لئے 3,300 سے زائد اہلکار تعینات کیے ہیں۔ اس کے علاوہ، گورنرز کی قیادت میں کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جو ان قوانین کے نفاذ کو یقینی بنانے میں مصروف ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، طالبان نے اس "اخلاقی پولیس” کے ذریعے خواتین کے حقوق کو گلا گھونٹ دیا ہے، جنہیں نہ صرف عوامی زندگی سے باہر نکال دیا گیا ہے بلکہ ان کی معاشی، سماجی، اور سیاسی آزادیوں پر بھی قدغن لگا دی گئی ہے۔

    رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ طالبان کے اخلاقی ضوابط نے خواتین کی نقل و حرکت اور تعلیم پر شدید پابندیاں عائد کی ہیں۔ افغانستان میں 98 فیصد علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم بند کر دی گئی ہے، جبکہ خواتین کی عوامی وسائل تک رسائی 38 فیصد سے بڑھ کر 76 فیصد تک محدود ہو چکی ہے۔ خواتین کے محرم کے بغیر سفر پر پابندیوں کی وجہ سے نہ صرف ان کی روزگار کی حالت خراب ہوئی ہے بلکہ ان کی آمدن بھی کم ہوئی ہے اور کلائنٹس تک رسائی بھی محدود ہو گئی ہے۔

    افغان طالبان کی اخلاقی پالیسیوں کے نفاذ نے نہ صرف ملکی سطح پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں کہ آیا عالمی ادارے ان مظالم کے خلاف آواز اٹھائیں گے یا خاموش تماشائی بن کر رہیں گے؟ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ طالبان کی جانب سے اخلاقی قوانین کے نفاذ کی وجہ سے فلاحی اداروں کی امدادی ترسیل بھی متاثر ہوئی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق، طالبان کے اخلاقی قوانین کے نتیجے میں فیلڈ وزٹ سے 46 فیصد خواتین محروم ہو چکی ہیں، جبکہ 49 فیصد خواتین کو مستحق خواتین سے ملاقات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ طالبان کی پالیسیوں نے افغان خواتین کے حقوق کے لیے ایک تاریک دور کا آغاز کیا ہے، جو عالمی سطح پر بھی تشویش کا باعث بنا ہے۔

    افغان طالبان کے اخلاقی قوانین اور ان کے جبر کے نتیجے میں افغانستان میں انسانی حقوق کی پامالی عروج پر پہنچ چکی ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ ایک سنگین حقیقت کا پردہ فاش کرتی ہے کہ طالبان کی پالیسیوں نے نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بڑھاوا دیا ہے بلکہ افغانستان میں خواتین کی زندگیوں کو مزید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری اور انسانی حقوق کے ادارے افغانستان میں جاری ان مظالم کے خلاف قدم اٹھائیں، اور طالبان کی جانب سے خواتین اور اقلیتی گروپوں کے حقوق کی پامالی کو روکا جائے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2025 کا کامیاب انعقاد،ایک نیا دور شروع ہونے کو ہے
    Next Article افغان حکومت دہشت گردوں کو لگام ڈالے،وزیراعظم شہبازشریف
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    ڈی آئی خان: امن کمیٹی کے سربراہ کے گھر شادی کی تقریب میں خودکش دھماکہ، 3 افراد جاں بحق، 7 زخمی

    جنوری 23, 2026

    چترال کے علاقے ڈومیل میں گھر پر برفانی تودہ گرنے سے 9 افراد جاں بحق، ایک بچہ زخمی

    جنوری 23, 2026

    خواتین کے نام پر پالیسیاں ، فائدہ کیا؟

    جنوری 23, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز: امن و استحکام کی ضمانت

    جنوری 23, 2026

    ڈی آئی خان: امن کمیٹی کے سربراہ کے گھر شادی کی تقریب میں خودکش دھماکہ، 3 افراد جاں بحق، 7 زخمی

    جنوری 23, 2026

    چترال کے علاقے ڈومیل میں گھر پر برفانی تودہ گرنے سے 9 افراد جاں بحق، ایک بچہ زخمی

    جنوری 23, 2026

    خواتین کے نام پر پالیسیاں ، فائدہ کیا؟

    جنوری 23, 2026

    پشاور میں جائیداد کے تنازع پر فائرنگ، ایف سی ملازم سمیت دو افراد جاں بحق، متعدد زخمی

    جنوری 23, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.