Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    ہفتہ, اگست 30, 2025
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • فيلډ مارشل عاصم منير کا کرتارپور کو ترجیحی بنیادوں پر اصل حالت میں بحال کرنے کا اعلان
    • ایرانی صدر کا وزیراعظم شہبازشریف کو ٹیلیفون، پاکستان کو سیلابی صورتحال میں مدد کی پیشکش
    • سہ فریقی سیریز کے پہلے میچ میں پاکستان نے افغانستان کو 39 رنز سے شکست دیدی
    • ایشیائی ترقیاتی بینک کا پاکستان کے سیلاب متاثرین کیلئے 30 لاکھ ڈالر ہنگامی امداد کا اعلان
    • ٹی ٹی پی اور گل بہادر گروپ کی خونی لڑائی، پاکستان کیخلاف پروپیگنڈہ
    • افغان حکومت کالعدم ٹی ٹی پی کیخلاف کارروائی کرے یا ہمارے حوالے کرے، اسحاق ڈار کا مطالبہ
    • ترکیہ نے اسرائیل کیساتھ تمام تجارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کردیا
    • پنجاب میں سیلاب سے 20 اموات، چنیوٹ اور جھنگ کو بچانے کیلئے بند میں شگاف ڈال دیا گیا
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخواہ
    • شوبز
    • کھیل
    • دلچسپ و عجیب
    • بلاگ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » افغان طالبان کے اخلاقی ضابطے یا ریاستی جبر؟ اقوام متحدہ کی چشم کشا رپورٹ
    افغانستان

    افغان طالبان کے اخلاقی ضابطے یا ریاستی جبر؟ اقوام متحدہ کی چشم کشا رپورٹ

    اپریل 13, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Afghan Taliban's Moral Code or State Repression? UN Report Reveals Alarming Human Rights Violations
    Taliban's Moral Police: State-Sanctioned Oppression or Ethical Governance? UN Report Uncovers the Truth
    Share
    Facebook Twitter Email

    افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے تحت نافذ اخلاقی ضابطے اور ریاستی جبر کی حقیقت دنیا کے سامنے آ گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے امدادی مشن (UNAMA) کی تازہ رپورٹ نے طالبان کی جانب سے خواتین اور اقلیتی گروپوں کے حقوق کی پامالی، اور عوامی زندگی میں ان کے کردار کو محدود کرنے کے حوالے سے کئی ہولناک تفصیلات پیش کی ہیں۔

    اگست 2024 میں قائم ہونے والی وزارت "امر بالمعروف و نہی عن المنکر” کے ذریعے طالبان نے 28 صوبوں میں اخلاقی قوانین کو نافذ کرنے کے لئے 3,300 سے زائد اہلکار تعینات کیے ہیں۔ اس کے علاوہ، گورنرز کی قیادت میں کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جو ان قوانین کے نفاذ کو یقینی بنانے میں مصروف ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، طالبان نے اس "اخلاقی پولیس” کے ذریعے خواتین کے حقوق کو گلا گھونٹ دیا ہے، جنہیں نہ صرف عوامی زندگی سے باہر نکال دیا گیا ہے بلکہ ان کی معاشی، سماجی، اور سیاسی آزادیوں پر بھی قدغن لگا دی گئی ہے۔

    رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ طالبان کے اخلاقی ضوابط نے خواتین کی نقل و حرکت اور تعلیم پر شدید پابندیاں عائد کی ہیں۔ افغانستان میں 98 فیصد علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم بند کر دی گئی ہے، جبکہ خواتین کی عوامی وسائل تک رسائی 38 فیصد سے بڑھ کر 76 فیصد تک محدود ہو چکی ہے۔ خواتین کے محرم کے بغیر سفر پر پابندیوں کی وجہ سے نہ صرف ان کی روزگار کی حالت خراب ہوئی ہے بلکہ ان کی آمدن بھی کم ہوئی ہے اور کلائنٹس تک رسائی بھی محدود ہو گئی ہے۔

    افغان طالبان کی اخلاقی پالیسیوں کے نفاذ نے نہ صرف ملکی سطح پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں کہ آیا عالمی ادارے ان مظالم کے خلاف آواز اٹھائیں گے یا خاموش تماشائی بن کر رہیں گے؟ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ طالبان کی جانب سے اخلاقی قوانین کے نفاذ کی وجہ سے فلاحی اداروں کی امدادی ترسیل بھی متاثر ہوئی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق، طالبان کے اخلاقی قوانین کے نتیجے میں فیلڈ وزٹ سے 46 فیصد خواتین محروم ہو چکی ہیں، جبکہ 49 فیصد خواتین کو مستحق خواتین سے ملاقات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ طالبان کی پالیسیوں نے افغان خواتین کے حقوق کے لیے ایک تاریک دور کا آغاز کیا ہے، جو عالمی سطح پر بھی تشویش کا باعث بنا ہے۔

    افغان طالبان کے اخلاقی قوانین اور ان کے جبر کے نتیجے میں افغانستان میں انسانی حقوق کی پامالی عروج پر پہنچ چکی ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ ایک سنگین حقیقت کا پردہ فاش کرتی ہے کہ طالبان کی پالیسیوں نے نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بڑھاوا دیا ہے بلکہ افغانستان میں خواتین کی زندگیوں کو مزید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری اور انسانی حقوق کے ادارے افغانستان میں جاری ان مظالم کے خلاف قدم اٹھائیں، اور طالبان کی جانب سے خواتین اور اقلیتی گروپوں کے حقوق کی پامالی کو روکا جائے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2025 کا کامیاب انعقاد،ایک نیا دور شروع ہونے کو ہے
    Next Article افغان حکومت دہشت گردوں کو لگام ڈالے،وزیراعظم شہبازشریف
    Tahseen Ullah Tasir
    • Facebook

    Related Posts

    فيلډ مارشل عاصم منير کا کرتارپور کو ترجیحی بنیادوں پر اصل حالت میں بحال کرنے کا اعلان

    اگست 29, 2025

    ایرانی صدر کا وزیراعظم شہبازشریف کو ٹیلیفون، پاکستان کو سیلابی صورتحال میں مدد کی پیشکش

    اگست 29, 2025

    سہ فریقی سیریز کے پہلے میچ میں پاکستان نے افغانستان کو 39 رنز سے شکست دیدی

    اگست 29, 2025
    Leave A Reply Cancel Reply

    Khyber News YouTube Channel
    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    فيلډ مارشل عاصم منير کا کرتارپور کو ترجیحی بنیادوں پر اصل حالت میں بحال کرنے کا اعلان

    اگست 29, 2025

    ایرانی صدر کا وزیراعظم شہبازشریف کو ٹیلیفون، پاکستان کو سیلابی صورتحال میں مدد کی پیشکش

    اگست 29, 2025

    سہ فریقی سیریز کے پہلے میچ میں پاکستان نے افغانستان کو 39 رنز سے شکست دیدی

    اگست 29, 2025

    ایشیائی ترقیاتی بینک کا پاکستان کے سیلاب متاثرین کیلئے 30 لاکھ ڈالر ہنگامی امداد کا اعلان

    اگست 29, 2025

    ٹی ٹی پی اور گل بہادر گروپ کی خونی لڑائی، پاکستان کیخلاف پروپیگنڈہ

    اگست 29, 2025
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.