Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, ستمبر 9, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • بلدیاتی انتخابات،خیبرپختونخوا حکومت کو قانون سازی کیلئے 3 ہفتے کی مہلت
    • خیبر پختونخوا کے بزرگ شہریوں کیلئے بی آر ٹی بسوں میں مفت سفر کی منظوری
    • پی ٹی آئی لانگ مارچ کیس کیلئے لارجر بینچ تشکیل، اٹارنی جنرل، چاروں چیف سیکرٹریز، ایڈووکیٹ جنرلز، آئی جیز طلب
    • وزیر اعظم شہبازشریف کی سعودی عرب پر بزدلانہ حوثی حملوں کی شدید مذمت
    • پاسکو اور یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش کے عمل میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرصدارت اجلاس
    • شزہ فاطمہ خواجہ کی LEAP 2026 میں شرکت، ٹیک ڈیسٹنیشن پاکستان پویلین کا افتتاح
    • پاک چین میڈیا تعاون ایشیا بحرالکاہل میں مشترکہ خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے،ڈاکٹر شذرہ منصب علی
    • سٹاک ایکسچینج: عام شہریوں کی شرکت سے معاشی ترقی تیز ہو سکتی ہے، یوسف رضا گیلانی
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » پاکستان تحریک انصاف نے بھارت سے مدد کیوں مانگی؟
    اہم خبریں اکتوبر 7, 2024

    پاکستان تحریک انصاف نے بھارت سے مدد کیوں مانگی؟

    Facebook Twitter Email
    Why did PTI seek help from India
    Share
    Facebook Twitter Email

    دو دہائیاں قبل پاکستان کے سیاسی افق پر عمران خان کی تحریکِ انصاف نمودار ہوئی، کچھ مہربانوں کی مہربانیوں سے اچانک عروج پر آئی اور اب زوال کی جانب تیزی سے گامزن ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے حالیہ ملک گیر احتجاج کا ایجنڈا کیا ہے؟ یہ سوال اپنی جگہ پر کھڑا ہے اور یہ بھی کہ کیا یہ واقعی پُرامن احتجاج تھا۔ لیکن اس سارے نفڑے میں جس بات نے پاکستانیوں کو حیران کن جھٹکا دیا ہے وہ تحریک انصاف کے اسلام آباد پر حالیہ حملے میں تحریک انصاف کی جانب سے بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کو ڈی چوک دھرنے میں شرکت اور خطاب کی دعوت دینا ہے۔ دوسرے الفاظ میں پاکستان تحریک انصاف نے اپنی سیاست کی ڈوبتی کشتی کو بچانے کیلئے اب بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر سے مدد مانگ لی ہے، تحریک انصاف کے مرکزی رہنما و ترجمان خیبرپختونخوا حکومت بیرسٹر سیف نے نجی ٹی وی پر گفتگو کرتے ہوئے جے شنکر کو پی ٹی آئی احتجاج میں شرکت کی دعوت دی۔

    بھارت سے مدد کی بھیک مانگنے کے پی ٹی آئی کے اس غیر متوقع اقدام سے ملک بھر سے ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ پی ٹی آئی اور عمران خان نے پہلے امریکہ سے مدد مانگی جسے قبل ازیں خود ہی اپنی حکومت کے خاتمے کا ذمے دار قرار دیا تھا اور اب اچانک بانی پی ٹی آئی بھارتی حکومت سے مدد مانگ رہے ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ بیرسٹر سیف نے باضابطہ طور پر میڈیا انٹرویوز کے ذریعے بھارتی وزیر خارجہ تک یہ درخواست پہنچائی۔

    پاکستان میں عدم استحکام کو ہوا دینے کے لیے ڈی چوک احتجاج کے پیچھے چھپی تحریک انصاف کی خوفناک سازش بے نقاب ہو گئی۔ سوال یہ ہے کہ آخر ریاست کیا کر رہی ہے، کیوں خاموش ہے،، کیا ریاست کے پاس اس کا کوئی حل نہیں؟یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کے ازلی دشمن کو احتجاج میں شرکت کی دعوت نے تحریک انصاف کی وطن دوستی کا پول بھی کھول دیاہے، اس دعوت سے ثابت ہوتا ہے کہ عمران خان کی تحریک انصاف اپنے گھناؤنے عزائم کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے-

    سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ تحریک انصاف نے اپنے احتجاج میں شرکت اور اس سے خطاب کی دعوت صرف بھارتی وزیر خارجہ کو ہی کیوں دی؟ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں شرکت کیلئے تو کئی اور ممالک کے وفود بھی آ رہے ہیں۔ دوسری جانب میں دو صیہونی اخبارات دی ٹائمز آف اسرائیل اور دی یروشلم پوسٹ نے عمران خان کے اسرائیل سے خفیہ تعلقات کا اشارہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور عوام کو اسرائیل کو تسلیم کرنے پر آمادہ کر سکتے ہیں۔

    ان حالات میں کیا یہ واضح نہیں کہ تحریک انصاف کے مرکزی رہنما بیرسٹر سیف نے بھارتی وزیر خارجہ جئے شنکر کو پی ٹی آئی کے احتجاج میں شرکت کی دعوت دے کربھارت سے اپنا تعلق بھی واضح کر دیا ہے۔ما
    ماضی قریب کی ہی بات تو ہے جب عمران خان نے پاکستان کو دولخت کرنے والے غدار شیخ مجیب الرحمٰن کے گن گائے تھے اور ہزاروں پاکستانیوں کی قاتل عوامی لیگ اور مکتی باہنی کو بھی جمہوریت کے علمبردار قرار دیا تھا۔

    احتجاج کا ایک ایسے وقت میں ہونا اور اُس سے ایک بیانیہ بنانے کی کوشش کرنا کچھ اہم نکات کی طرف توجہ دلاتا ہے۔

    پہلا نکتہ یہ کہ تحریک انصاف کے احتجاج کا وقت اور مقام بہت معنی خیز ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے اہم اجلاس کے موقع پر جبکہ مختلف ممالک سے ہمارے معزز مہمان اسلام آباد تشریف لا رہے ہیں، ایسے انتشاری احتجاج کی کال دینا ملک دشمنی نہیں تو اور کیا ہے؟ ظاہر ہے اس احتجاج کا مقصد ایک ہی ہے یعنی شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کو سبوتاژ کرنا۔

    دوسرا نکتہ یہ کہ تحریک انصاف کے احتجاج میں افغان شہریوں کی شمولیت اور ہتھیاروں کی موجودگی ان کے پر امن ہونے کے دعووں پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ آخر سینکڑوں افغان دہشت گرد اس احتجاج میں کیوں شامل کیے گئے، ان کے پاس اسلحہ کیوں تھا؟

    تیسرا نکتہ یہ کہ ایسے احتجاج سے ہماری معیشت اور معمول زندگی پر منفی اَثر پڑتا ہے۔کیا ایسے موقع پر،جب پاکستان کی سسکتی معیشت کو تھوڑی سی تقویت مل رہی ہے،کوئی محب الوطن احتجاج کر کے ملک کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا سکتا ہے؟

    اور چوتھا نکتہ یہ کہ بیرسٹر سیف نے بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کو جو اپنے احتجاج میں شرکت اور خطاب کی دعوت دی ہے اس کو تحریک انصاف کی سیاست کا پول کھلنا نا سمجھا جائے تو اور کیا نتیجہ اخذ کیا جائے؟

    تحریک انصاف کی قیادت کو جلد یہ بات سمجھ لینی چاہیئے کہ ان کا طرزِ سیاست ان کی سیاست کو تیزی سے پاتال کی گہرائیوں میں دھکیل رہا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleسی ٹی ڈی نے میانوالی مں فتنہ الخوارج کے7 دہشتگرد ہلاک کر دئیے
    Next Article کے پی ہاؤس اسلام آباد کے مختلف بلاکس کو سیل کر دیا گیا
    Web Desk

    Related Posts

    بلدیاتی انتخابات،خیبرپختونخوا حکومت کو قانون سازی کیلئے 3 ہفتے کی مہلت

    ستمبر 8, 2026

    خیبر پختونخوا کے بزرگ شہریوں کیلئے بی آر ٹی بسوں میں مفت سفر کی منظوری

    ستمبر 8, 2026

    پی ٹی آئی لانگ مارچ کیس کیلئے لارجر بینچ تشکیل، اٹارنی جنرل، چاروں چیف سیکرٹریز، ایڈووکیٹ جنرلز، آئی جیز طلب

    ستمبر 8, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    بلدیاتی انتخابات،خیبرپختونخوا حکومت کو قانون سازی کیلئے 3 ہفتے کی مہلت

    ستمبر 8, 2026

    خیبر پختونخوا کے بزرگ شہریوں کیلئے بی آر ٹی بسوں میں مفت سفر کی منظوری

    ستمبر 8, 2026

    پی ٹی آئی لانگ مارچ کیس کیلئے لارجر بینچ تشکیل، اٹارنی جنرل، چاروں چیف سیکرٹریز، ایڈووکیٹ جنرلز، آئی جیز طلب

    ستمبر 8, 2026

    وزیر اعظم شہبازشریف کی سعودی عرب پر بزدلانہ حوثی حملوں کی شدید مذمت

    ستمبر 8, 2026

    پاسکو اور یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش کے عمل میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرصدارت اجلاس

    ستمبر 7, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.