Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    جمعرات, اگست 27, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں ، 11 دہشتگرد ہلاک
    • پاکستان افغانستان کے ساتھ ادارہ جاتی بات چیت کیلئے تیار، دہشتگردی کے خلاف عملی اقدامات کے ثبوت ضروری ہے، دفتر خارجہ
    • سانحہ پمز کیسے رونما ہوا؟ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی
    • پمز سانحے کے اصل حقائق
    • ملک بھر میں آج عید میلاد النبیﷺ مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی جا رہی ہے
    • اسلام آباد کے پمز ہسپتال کی نرسری میں خوفناک آتشزدگی سے 15 نومولود جھلس کر جاں بحق
    • 9 مئی حملوں کا اہم فیصلہ جاری، تحریک انصاف کے اہم رہنماوں کو قید اور جرمانے کی سزائیں
    • وفاقی حکومت کا 10 روپے کا کرنسی نوٹ ختم کرنے کا فیصلہ
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » ایران اسرائیل پر حملہ کیوں نہیں کر رہا ؟
    بلاگ اگست 10, 2024

    ایران اسرائیل پر حملہ کیوں نہیں کر رہا ؟

    Facebook Twitter Email
    Why is Iran not attacking Israel?
    Why is Iran not attacking Israel?
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد(مدثر حسین) 31 جولائی کو ایرانی راجدھانی تہران میں حماس رہنما اسماعیل ہانیہ اور لبنان میں حزب اللہ لیڈر فواد شکر کی اسرائیلی کارروائی کے نتیجے میں شہادت کے بعد ایسا لگ رہا تھا جیسے ایران اور حزب اللہ  چند ہی گھنٹوں کے اندر اسرائیل پر جوابی حملہ کریں گے، اسرائیلی کارروائیاں اتنی خطرناک کوشش تھی کہ ایک دفعہ پھر مشرق وسطیٰ پر جنگ کے مہیب بادل سرعت کے ساتھ چھا گئے اور ہر طرف ایران کی جوابی کارروائی کی باتیں ہونے لگیں لیکن اس واقعے کے بعد اب تک یعنی بیچ میں ڈیڑھ ہفتہ گزر گیا اور تاحال ایران نے کوئی بھی جوابی اقدام نہیں اٹھایا، تو کیا ایران جوابی کارروائی سے پیچھے ہٹ گیا؟

    یقیناَ َ ایسا نہیں ہے، کیونکہ تہران میں نئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی حلف برداری کے چند گھنٹے بعد ہوئے اس واقعے نے پورے ایران میں بدلے اور انتقام کے جذبات کو ابھارا ہے، تاہم کچھ عوامل ایسے ہیں جن کی وجہ سے ایران فوری ردعمل دینے سے رہ گیا۔ ان عوامل میں سب سے اہم اسرائیل کی فضائی برتری ہے، برسوں سے امریکہ نے اسرائیل کو  اس کیل کانٹے سے لیس کیا ہے جو پورے مشرق وسطی ٰمیں کسی دوسرے امریکی حلیف ملک کے پاس نہیں، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر، اردن ، قطر وغیرہ  جو  بظاہر عشروں سے امریکی حلیف ہیں، ان میں سے کسی کے پاس بھی اپنا میزائل شکن دفاعی نظام نہیں، دوسری طرف اسرائیل کے پاس طویل اور مختصر فاصلے سے مارے گئے میزائلز اور راکٹس کو روکنے کے لیے آئرن ڈوم، ڈیوڈ سلنگ اور امریکی پیٹریاٹ میزائلز کی بیٹریاں موجود ہیں، اسی طرح ایران کو پتہ ہے کہ اسرائیل کے اندر سویلین مقام کو ٹارگٹ کرنے کی صورت میں اسرائیل اپنے جدید جنگی طیاروں کے ذریعے ایران کی انفراسٹرکچر کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے، خصوصا َ َایرانی ایٹمی ریکٹرز پر حملہ اسرائیل کی دیرینہ خواہش ہےاور تہران نہیں چاہتا کہ اسرائیل کو یہ موقع ملے کہ وہ ایران کی برسوں کی محنت یعنی نیوکلیر پروگرام پر کاری ضرب لگا دے، یا پھر ایرانی تیل ریفائنریز پر حملے کر کے ایرانی رجیم کو بالکل مفلوج کردے، اسی طرح ایران کی کمزور فضائی قوت بھی فوری ردعمل کی راہ میں رکاوٹ ہے، ایرانی فضائیہ کے پاس انقلاب سے پہلے کے روسی اور امریکہ ساختہ جنگی جہاز ہیں، جو سیکنڈ یا بمشکل تھرڈ جنریشن طیارے ہیں، ان میں ایس یو 24 کو چھوڑ کر ایسا کوئی طیارہ نہیں جو لمبے فاصلے پر جاکر بمباری کریں، یہ ایرانی طیارے فرسودہ ٹیکنالوجی سے لیس ہیں، جو آجکل کے جدید سٹیلتھ طیاروں کا بالکل بھی مقابلہ نہیں کرسکتے۔

    کمزور فضائی طاقت کے علاوہ امریکی اور علاقائی عرب ممالک کی جنگ روکنے کی کوشش بھی ایران کو فوری حملہ کرنے سے باز رکھے ہوئے ہیں، رواں سال اپریل میں جب شام میں ایرانی قونصلیٹ پر حملے کے بعد ایران نے اسرائیل پر سینکڑوں ڈرونز اور بیلسٹک میزائلز کے ذریعہ حملہ کیا تھا، تب بھی اردن، سعودی عرب، مصر اور متحدہ عرب امارات نے امریکہ کے ساتھ ملکر اپنے اپنے فضائی حدود سے گزرنے والے ایرانی پروجیکٹائلز کو گرایا تھا، ایران نہیں چاہے گا کہ اب کی بار پھر اسکا حملہ ایک ناکام کوشش ثابت ہو۔

    تاہم ایسا بھی نہیں کہ ایران اپنی عسکری کمزوری کی وجہ سے اسرائیلی کارروائی کو درگزر کرے، مختلف عالمی میڈیا رپورٹس میں کہا جاتا ہے کہ ایران اسرائیل کے عسکری تنصیبات پر وار کرنے کی تیاری کر رہا ہے،ایرانی سپریم لیڈر سیدنا آیت اللہ علی خامنہ ای نے بھی سخت جواب کی دھمکی دی ہے،  کیونکہ ایرانی دارالحکومت میں حماس رہنما کا قتل وہ داغ ہے جسے ایرانی پاسداران انقلاب ہر حال میں دھونے کی کوشش کریں گے، پاسداران انقلاب اور نئی ایرانی حکومت میں اس مدعے پر خاصا سوچ وبچار ہوا ہے، کہ کیسے اسرائیل کو سبق بھی سکھایا جائے اور خطہ وسیع جنگ سے بھی محفوظ رہے، ایک ممکنہ منظرنامہ حزب اللہ اور دوسرے ایران نواز ملیشا کے ذریعے اسرائیلی اہداف پر حملے ہیں، تاہم اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، اس حوالے سے آئندہ دو تین دن اہم ہیں۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleصدرمملکت کا ارشد ندیم کو سول ایوارڈ دینے کا اعلان
    Next Article بنگلہ دیش ٹیم اب 13 اگست کو پاکستان آئے گی،پی سی بی
    Arshad Iqbal

    Related Posts

    پمز سانحے کے اصل حقائق

    اگست 26, 2026

    ایران نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی کا ایران کا دورہ انتہائی مثبت قرار دیدیا

    اگست 25, 2026

    فیلڈ مارشل کی تہران میں ایرانی قیادت سے اہم ملاقاتیں، کشیدگی میں مزید اضافے کی روک تھام، آبنائے ہرمز کھولنے پر تبادلہ خیال

    اگست 25, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں ، 11 دہشتگرد ہلاک

    اگست 27, 2026

    پاکستان افغانستان کے ساتھ ادارہ جاتی بات چیت کیلئے تیار، دہشتگردی کے خلاف عملی اقدامات کے ثبوت ضروری ہے، دفتر خارجہ

    اگست 27, 2026

    سانحہ پمز کیسے رونما ہوا؟ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی

    اگست 26, 2026

    پمز سانحے کے اصل حقائق

    اگست 26, 2026

    ملک بھر میں آج عید میلاد النبیﷺ مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی جا رہی ہے

    اگست 26, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.