Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    پیر, جولائی 27, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • جنرل سید عامر رضا کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اہم ملاقات
    • چینی انجینئرز کی گاڑی بم پروف نہیں تھی ، بشام خودکش حملے کی رپورٹ میں انکشافات
    • سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اگلے دو ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا
    • بی ایل اے کی اغوا برائے تاوان اور مجرمانہ سرگرمیاں بے نقاب، دو شہری اغوا
    • پاکستان کی بھارتی وزیر دفاع کے بیان کی شدید مذمت، کشمیر پر مؤقف ایک بار پھر واضح
    • پشاور: پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان مبینہ مقابلہ، ایک دہشت گرد ہلاک
    • آزاد کشمیر انتخابات کا پہلا مرحلہ پُرامن ماحول میں جاری، عوام کا جمہوری عمل پر بھرپور اعتماد
    • تروبا ٹیسٹ کے دوسرے روز ویسٹ انڈیز کی ٹیم پہلی اننگز میں 311 رنز پر آؤٹ
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » حالیہ انتخابات میں مذہبی سیاسی جماعتوں کو بدترین شکست کیوں ہوئی, مولانا گل نصیب کا انکشاف
    اہم خبریں

    حالیہ انتخابات میں مذہبی سیاسی جماعتوں کو بدترین شکست کیوں ہوئی, مولانا گل نصیب کا انکشاف

    فروری 24, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    خیبر پختونخوا میں مذہبی سیاسی جماعتیں ہمیشہ سے موجود رہی ہیں۔ جمیعت علمائے اسلام، جماعت اسلامی تو خاصی منظم جماعتیں ہیں اور ایک مضبوط ووٹ بنک بھی رکھتی ہیں۔ علاوہ ازیں خیبرپختونخوا میں مذہبی وابستگی بھی عام ہے لیکن اس کے باوجود حالیہ انتخابات میں مذہبی سیاسی جماعتیں ناکام رہیں۔ یہی سوال خیبر نیوز کے پروگرام مرکہ میں پوچھا گیا ہے۔

    جے یو آئی رہنما مولانا گل نصیب نے کہا کہ ہمارے ملک میں الیکشن کے نتائج ووٹ سے نہیں آتے اور نہ اس ملک میں حقیقی جمہوریت قائم ہے۔  اور ایک طرف ہم اس نظام کو ختم کرنے کی بات کرتے ہیں تو دوسری طر ف اس استحصالی نظام کی مضبوطی کے لیےالیکشن میں حصہ بھی لیتے ہیں اور ان مذہبی سیاسی جماعتوں کے  قول وفعل کا یہی  تضاد ناکامی کا باعث ہے۔

    ان کے مطابق اگر ہم نے الیکشن لڑنا ہے تو پھر ہمیں اسلام کیلئے نہیں بلکہ معاشرے کی خدمت اور ترقی کیلئے لڑنا ہوگا جس طر ح ترکی میں اردگان نے کیا ، اس نے مذہب کا نام استعمال نہیں کیا۔ تو اس سے بہتری آ سکتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اگر اسلام ہمارے ہاتھوں آتا ہے تویہ اسلام ہے اور اگر کوئی اور لیکر ٰآتا ہے تو یہ اسلام نہیں ہے، اگر عمران خان یا پی ٹی آئی نے ریاست مدینہ کی بات کی تو ہمیں انہیں سپورٹ کر نا چاہیئے تھا ۔کوئی ساتھ دیتا یا نہیں لیکن ہمیں ( مذہبی سیاسی جماعتوں ) کو ان کا بھر پور ساتھ دینا چاہیئے تھا۔  اس طرح کی قوتوں کی مخالفت سے نوجوان ہم سے دور ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات مجھے  قاضی حسین احمد مرحوم نے ایک دفعہ بتائی تھی جو سچ ثابت ہوئی  ہے۔ جب میں جے یو آئی ف کا امیر تھا تو مولانا نے کہا کہ تم عمران خان کے مخالفت میں میرے ساتھ نہیں دیتے تو میں نے کہا کہ بات کو پارٹی کے جنرل کونسل میں لیکر جائیں تاکہ وہاں سارے علما اس پر بحث کریں تو انہوں نے انکار کیا۔ مولانا کی ضد نے جے یو آئی کو نقصان پہنچایا۔ سیاسی جماعتوں کے عمران خان کے حکومت میں رویہ اور پھر پی ڈی ایم کی حکومت میں رویئے نے بھی مذہبی ووٹ کو عمران خان کی طرف منتقل کرنے میں مدد کی۔

    عمران خان کو یہودی ایجنٹ کہنا اور ان کے خلاف عدم اعتماد میں ساتھ دینا اور پھر ان کی پارٹی کے وفد سے ملنا یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ یہاں پر نہ اسلام خطرے میں ہے اور نہ پختون۔

    جماعت اسلامی کے رہنما عطائ الرحمٰن نے کہا کہ  الیکشن تو اس کا پیمانہ نہیں ہوسکتا کہ پاکستان میں لوگو ں نے مذہبی سیاسی جماعتوں کو مسترد کردیا ہے کیونکہ اس انتخاب کے نتائج  تمام سیاسی جماعتوں نے مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دستور اسلامی نظام کے راہ میں رکاوٹ نہیں ہے کیوں کہ یہاں اسلام کے خلاف قانون سازی پر پابندی ہے،  اسلام نظریاتی کونسل، قرٓآن وسنت کی بالادستی،  اسلام سرکاری مذہب، آرٹیکل 227 کا نفاذ شامل ہے۔ دستور میں تھوڑی سے اصلاحات کی ضرورت ہے لیکن یہاں پر نظام کی شفافیت، ووٹ کی عزت، اور عوام کے رائے کی اہمیت کا مسئلہ ہے۔  انہوں نے کہا کہ لوگوں نے مذہبی بیانہ مسترد نہیں کیا ہے بلکہ پی ٹی آئی کو بھی مذہب کے نام پر ووٹ ملا ہے۔  انہوں نے کہا کہ یہاں 70 فیصد سے زائد عوام اسلام مانگتے ہیں، عمران خان کی ریاست مدینہ کی بات کرنا اور مذہبی اصلاحات سے ہی لوگوں نے انہیں ووٹ دیا ہے، پیسوں کی سیاست میں  مذہبی قوتیں مقابلہ نہیں کرسکتیں۔

    جب تک فری، فیئر اور الیکشن کمیشن کے ضوابط کے تحت الیکشن نہیں ہوتے تو مذہبی قوتوں کا سامنے آنا مشکل ہی ہے۔  مذہبی جماعتوں کی افغان جہاد میں شمولیت کسی کے کہنے پر نہیں بلکہ یہ جماعت اسلامی کا نظریہ ہے۔

    Maulana Gul Naseen
    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپی ایس ایل:کرکٹرز کو ان کے معاوضے مل گئے
    Next Article خاتون نے ایپل آئی پیڈ اوون میں رکھ دیا،پھر کیا ہوا؟
    Web Desk

    Related Posts

    جنرل سید عامر رضا کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اہم ملاقات

    جولائی 27, 2026

    چینی انجینئرز کی گاڑی بم پروف نہیں تھی ، بشام خودکش حملے کی رپورٹ میں انکشافات

    جولائی 27, 2026

    سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اگلے دو ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا

    جولائی 27, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    جنرل سید عامر رضا کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اہم ملاقات

    جولائی 27, 2026

    چینی انجینئرز کی گاڑی بم پروف نہیں تھی ، بشام خودکش حملے کی رپورٹ میں انکشافات

    جولائی 27, 2026

    سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اگلے دو ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا

    جولائی 27, 2026

    بی ایل اے کی اغوا برائے تاوان اور مجرمانہ سرگرمیاں بے نقاب، دو شہری اغوا

    جولائی 27, 2026

    پاکستان کی بھارتی وزیر دفاع کے بیان کی شدید مذمت، کشمیر پر مؤقف ایک بار پھر واضح

    جولائی 27, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.