Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, اکتوبر 21, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • گورنر راج کے نفاذ کے بعد خیبر پختونخوا: نئی حکومت اور صوبائی انتظامیہ عوامی خدمت کے لیے متحرک
    • تجاوزات میں ملوث کسی بھی انتظامی افسر کے خلاف کارروائی ہوگی،گورنر فیصل کریم کنڈی
    • پاکستان رینجرز اور مقامی این جی او کے زیر اہتمام تھرپارکر میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد
    • چینی کاروباری وفد کا گلگت بلتستان کا دورہ، تجارتی و سرمایہ کاری کے فروغ پر تبادلہ خیال
    • پاکستان اور مالدیپ کا دوطرفہ تجارت 2سال میں 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق
    • پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس 1 لاکھ 66 ہزار پوائنٹس سے تجاوز کر گیا
    • افغان طالبان رجیم کی ناقص پالیسیاں: تعلیم یافتہ طبقہ بدترین بیروزگاری اور معاشی بدحالی کا شکار
    • گورنر راج کے بعد جنوبی خیبرپختونخوا: سڑکوں، صحت اور تعلیم کے شعبوں کی بحالی کے لیے عوام پرامید
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • خاص خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » حالیہ انتخابات میں مذہبی سیاسی جماعتوں کو بدترین شکست کیوں ہوئی, مولانا گل نصیب کا انکشاف
    بلاگ فروری 24, 2024

    حالیہ انتخابات میں مذہبی سیاسی جماعتوں کو بدترین شکست کیوں ہوئی, مولانا گل نصیب کا انکشاف

    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    خیبر پختونخوا میں مذہبی سیاسی جماعتیں ہمیشہ سے موجود رہی ہیں۔ جمیعت علمائے اسلام، جماعت اسلامی تو خاصی منظم جماعتیں ہیں اور ایک مضبوط ووٹ بنک بھی رکھتی ہیں۔ علاوہ ازیں خیبرپختونخوا میں مذہبی وابستگی بھی عام ہے لیکن اس کے باوجود حالیہ انتخابات میں مذہبی سیاسی جماعتیں ناکام رہیں۔ یہی سوال خیبر نیوز کے پروگرام مرکہ میں پوچھا گیا ہے۔

    جے یو آئی رہنما مولانا گل نصیب نے کہا کہ ہمارے ملک میں الیکشن کے نتائج ووٹ سے نہیں آتے اور نہ اس ملک میں حقیقی جمہوریت قائم ہے۔  اور ایک طرف ہم اس نظام کو ختم کرنے کی بات کرتے ہیں تو دوسری طر ف اس استحصالی نظام کی مضبوطی کے لیےالیکشن میں حصہ بھی لیتے ہیں اور ان مذہبی سیاسی جماعتوں کے  قول وفعل کا یہی  تضاد ناکامی کا باعث ہے۔

    ان کے مطابق اگر ہم نے الیکشن لڑنا ہے تو پھر ہمیں اسلام کیلئے نہیں بلکہ معاشرے کی خدمت اور ترقی کیلئے لڑنا ہوگا جس طر ح ترکی میں اردگان نے کیا ، اس نے مذہب کا نام استعمال نہیں کیا۔ تو اس سے بہتری آ سکتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اگر اسلام ہمارے ہاتھوں آتا ہے تویہ اسلام ہے اور اگر کوئی اور لیکر ٰآتا ہے تو یہ اسلام نہیں ہے، اگر عمران خان یا پی ٹی آئی نے ریاست مدینہ کی بات کی تو ہمیں انہیں سپورٹ کر نا چاہیئے تھا ۔کوئی ساتھ دیتا یا نہیں لیکن ہمیں ( مذہبی سیاسی جماعتوں ) کو ان کا بھر پور ساتھ دینا چاہیئے تھا۔  اس طرح کی قوتوں کی مخالفت سے نوجوان ہم سے دور ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات مجھے  قاضی حسین احمد مرحوم نے ایک دفعہ بتائی تھی جو سچ ثابت ہوئی  ہے۔ جب میں جے یو آئی ف کا امیر تھا تو مولانا نے کہا کہ تم عمران خان کے مخالفت میں میرے ساتھ نہیں دیتے تو میں نے کہا کہ بات کو پارٹی کے جنرل کونسل میں لیکر جائیں تاکہ وہاں سارے علما اس پر بحث کریں تو انہوں نے انکار کیا۔ مولانا کی ضد نے جے یو آئی کو نقصان پہنچایا۔ سیاسی جماعتوں کے عمران خان کے حکومت میں رویہ اور پھر پی ڈی ایم کی حکومت میں رویئے نے بھی مذہبی ووٹ کو عمران خان کی طرف منتقل کرنے میں مدد کی۔

    عمران خان کو یہودی ایجنٹ کہنا اور ان کے خلاف عدم اعتماد میں ساتھ دینا اور پھر ان کی پارٹی کے وفد سے ملنا یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ یہاں پر نہ اسلام خطرے میں ہے اور نہ پختون۔

    جماعت اسلامی کے رہنما عطائ الرحمٰن نے کہا کہ  الیکشن تو اس کا پیمانہ نہیں ہوسکتا کہ پاکستان میں لوگو ں نے مذہبی سیاسی جماعتوں کو مسترد کردیا ہے کیونکہ اس انتخاب کے نتائج  تمام سیاسی جماعتوں نے مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دستور اسلامی نظام کے راہ میں رکاوٹ نہیں ہے کیوں کہ یہاں اسلام کے خلاف قانون سازی پر پابندی ہے،  اسلام نظریاتی کونسل، قرٓآن وسنت کی بالادستی،  اسلام سرکاری مذہب، آرٹیکل 227 کا نفاذ شامل ہے۔ دستور میں تھوڑی سے اصلاحات کی ضرورت ہے لیکن یہاں پر نظام کی شفافیت، ووٹ کی عزت، اور عوام کے رائے کی اہمیت کا مسئلہ ہے۔  انہوں نے کہا کہ لوگوں نے مذہبی بیانہ مسترد نہیں کیا ہے بلکہ پی ٹی آئی کو بھی مذہب کے نام پر ووٹ ملا ہے۔  انہوں نے کہا کہ یہاں 70 فیصد سے زائد عوام اسلام مانگتے ہیں، عمران خان کی ریاست مدینہ کی بات کرنا اور مذہبی اصلاحات سے ہی لوگوں نے انہیں ووٹ دیا ہے، پیسوں کی سیاست میں  مذہبی قوتیں مقابلہ نہیں کرسکتیں۔

    جب تک فری، فیئر اور الیکشن کمیشن کے ضوابط کے تحت الیکشن نہیں ہوتے تو مذہبی قوتوں کا سامنے آنا مشکل ہی ہے۔  مذہبی جماعتوں کی افغان جہاد میں شمولیت کسی کے کہنے پر نہیں بلکہ یہ جماعت اسلامی کا نظریہ ہے۔

    Maulana Gul Naseen
    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپی ایس ایل:کرکٹرز کو ان کے معاوضے مل گئے
    Next Article خاتون نے ایپل آئی پیڈ اوون میں رکھ دیا،پھر کیا ہوا؟
    Web Desk

    Related Posts

    گورنر راج کے نفاذ کے بعد خیبر پختونخوا: نئی حکومت اور صوبائی انتظامیہ عوامی خدمت کے لیے متحرک

    اکتوبر 21, 2026

    تجاوزات میں ملوث کسی بھی انتظامی افسر کے خلاف کارروائی ہوگی،گورنر فیصل کریم کنڈی

    اکتوبر 21, 2026

    پاکستان رینجرز اور مقامی این جی او کے زیر اہتمام تھرپارکر میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد

    اکتوبر 21, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    گورنر راج کے نفاذ کے بعد خیبر پختونخوا: نئی حکومت اور صوبائی انتظامیہ عوامی خدمت کے لیے متحرک

    اکتوبر 21, 2026

    تجاوزات میں ملوث کسی بھی انتظامی افسر کے خلاف کارروائی ہوگی،گورنر فیصل کریم کنڈی

    اکتوبر 21, 2026

    پاکستان رینجرز اور مقامی این جی او کے زیر اہتمام تھرپارکر میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد

    اکتوبر 21, 2026

    چینی کاروباری وفد کا گلگت بلتستان کا دورہ، تجارتی و سرمایہ کاری کے فروغ پر تبادلہ خیال

    اکتوبر 21, 2026

    پاکستان اور مالدیپ کا دوطرفہ تجارت 2سال میں 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق

    اکتوبر 21, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.