امریکی بائیں بازو کے نوجوان رہنما زہران ممدانی نے جمعرات کی علی الصبح نیویارک کے میئر کے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔ 34 سالہ ڈیموکریٹ رہنما آئندہ چار برس تک امریکا کے سب سے بڑے شہر کی قیادت کریں گے۔ ان کی مدتِ اقتدار کے دوران سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ سخت سیاسی اختلافات متوقع ہیں۔
زہران ممدانی نے آدھی رات کے فوراً بعد سٹی ہال کے نیچے واقع ایک متروک سب وے اسٹیشن میں حلف اٹھایا، جو نیویارک کی تاریخ میں ایک منفرد اور غیر روایتی تقریب تھی۔ ان کے دفتر کے مطابق اس سادہ مقام کا انتخاب محنت کش طبقے سے وابستگی کی علامت ہے، کیونکہ ممدانی نے اپنی انتخابی مہم میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اخراجات کو مرکزی مسئلہ بنایا تھا۔
امریکی میڈیا کے مطابق زہران ممدانی نے حلف برداری کے وقت قرآنِ پاک کے دو نسخوں پر ہاتھ رکھا، جن میں ایک ان کے دادا کا ذاتی نسخہ تھا جبکہ دوسرا نیویارک پبلک لائبریری کے شومبرگ سینٹر سے لیا گیا۔
ان کی نجی حلف برداری نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز نے کروائی، جو سابق صدر ٹرمپ کے خلاف فراڈ کیس میں اہم کردار ادا کر چکی ہیں۔ تقریب میں ان کی اہلیہ راما دواجی بھی موجود تھیں، جبکہ ان کے والدین، معروف فلم ساز میرا نائر اور کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر محمود ممدانی نے بھی شرکت کی۔
زہران ممدانی یوگنڈا میں بھارتی نژاد خاندان میں پیدا ہوئے اور سات برس کی عمر میں نیویارک منتقل ہوئے۔ مختصر سیاسی تجربے کے باوجود وہ پہلے نیویارک اسٹیٹ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور پھر میئر کے منصب تک پہنچے۔ دو ملین سے زائد ووٹرز کی ریکارڈ شرکت کے ساتھ انہوں نے پچاس فیصد ووٹ لے کر واضح کامیابی حاصل کی۔

