Close Menu
اخبارِخیبرپشاور
    مفید لنکس
    • پښتو خبرونه
    • انگریزی خبریں
    • ہم سے رابطہ کریں
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بدھ, جون 10, 2026
    • ہم سے رابطہ کریں
    بریکنگ نیوز
    • وزیراعظم شہبازشریف کے حکم پر خیبرپختونخوا کو گندم کی فراہمی کی ہدایت
    • عیدالاضحیٰ کے بعد بھی افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل دوبارہ شروع نہ ہو سکا
    • شکیلہ ناز کامیاب سرجری کے بعد گھر منتقل، صحت یابی کا عمل جاری
    • فضل الٰہی کون ہیں؟ میں انہیں جانتی تک نہیں، مجھ سے منسوب بیان من گھڑت ہے، علیمہ خان
    • پاک افغان سرحدی علاقوں میں پاکستان کی کارروائی کے دوران 26 دہشت گرد ہلاک ہوئے، وزیر اطلاعات عطا تارڑ
    • معیشت میں بہتری آئی، زیادہ سے زیادہ وسائل پیدا کرنا اولین ترجیح، وزیراعظم شہباز شریف
    • بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے وطن بھیجی جانے والی ترسیلات زر ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں
    • مظفرآباد کے قریب پاک فوج کا ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، تمام اہلکار شہید
    Facebook X (Twitter) RSS
    اخبارِخیبرپشاوراخبارِخیبرپشاور
    پښتو خبرونه انگریزی خبریں
    • صفحہ اول
    • اہم خبریں
    • قومی خبریں
    • بلوچستان
    • خیبرپختونخوا
    • شوبز
    • کھیل
    • بلاگ
    • ادب
    • اسپاٹ لائٹ
    اخبارِخیبرپشاور
    آپ پر ہیں:Home » رضوانہ تشدد کیس: سول جج کی اہلیہ کو گرفتار کرلیا گیا
    اہم خبریں

    رضوانہ تشدد کیس: سول جج کی اہلیہ کو گرفتار کرلیا گیا

    اگست 7, 2023کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter Email

    اسلام آباد: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے گھریلو ملازمہ رضوانہ پر تشدد کیس میں نامزد ملزمہ سول جج عاصم حفیظ کی اہلیہ سومیہ کی ضمانت خارج کر دی۔ کمسن ملازمہ رضوانہ پر تشدد کیس میں نامزد ملزمہ سومیہ عاصم کی درخواست ضمانت قبل از گرفتاری پر سماعت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد جج فرخ فرید کی عدالت میں ہوئی۔

    دوران سماعت جج فرخ فرید نے ملزمہ سومیہ عاصم کو روسٹرم پر بلایا اور استفسار کیا کہ سومیہ عاصم کے خلاف کیس کا ریکارڈ کہاں ہے؟

    وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ سومیہ عاصم جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئی اور اپنی بے گناہی کا اظہار کیا، ریکارڈ میں پولیس نے لکھا کہ ملزمہ سومیہ عاصم نے تشدد نہیں کیا، سومیہ عاصم نے ملازمہ کو واپس بھیجنے کا بار بار کہا، کمسن بچی کو اس کی ماں کو صحیح سلامت دیا گیا، کیا سومیہ عاصم کو جیل بھیجنا ضروری ہے؟

    پراسیکیوشن کی جانب سے ملزمہ سومیہ عاصم کی ضمانت خارج کرنے کی استدعا کی گئی جبکہ جج فرخ فرید کا کہنا تھا ملزمہ سومیہ عاصم تو ہر حال میں شامل تفتیش ہونے کی پابند ہے۔

    ملزمہ کے وکیل کا کہنا تھا تفتیشی افسر نے تمام پہلوؤں پر تفتیش نہیں کی، کیا تفتیشی افسر نے وقوعہ کی ویڈیو حاصل کی؟ جس پر جج فرخ فرید کا کہنا تھا تاحال کوئی دلیل درخواست ضمانت میں توسیع کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔

    وکیل صفائی نے کہا کہ مقدمے کی پہلی پانچ لائنیں ہی جھوٹ پر مبنی ہیں، جس پر جج نے ریمارکس دیے کہ میں یہاں ٹرائل کے لیے نہیں بیٹھا، درخواست ضمانت پر دلائل دیں۔

    فاضل جج نے کہا کہ ایسا ممکن نہیں کہ جے آئی ٹی رپورٹ آنے تک سماعت ملتوی کی جائے، جج فرخ فرید نے درخواست ضمانت پر دلائل دینے کی ہدایت کر دی۔

    وکیل صفائی کا کہنا تھا پولیس کو کہا گیا بچی اپنا بیان دینے کی کنڈیشن میں نہیں، سرگودھا تک بچی بلکل ٹھیک گئی، اسے کسی ٹریٹمنٹ کی ضرورت نہیں تھی، تاخیری حربے استعمال کرکے بیان کو تاخیر سے ریکارڈ کرایا گیا، تفتیشی افسر کڑی سےکڑی نہیں ملا پا رہا، جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے، والدین اور رشتہ داروں کے پولیس کو دیے گئے بیانات میں تضاد نظر آ رہا ہے، بچی کی طبی رپورٹ کے مطابق بچی کو فریکچر نہیں ہے، سومیہ عاصم پر الزام لگایا گیا کہ بچی کو تیزاب پلایا گیا، بچی کو بس اسٹینڈ پر چھوڑنے سومیہ عاصم گئیں تو انہیں پھنسایا گیا۔

    مدعی وکیل نے دلائل میں کہا کہ تفتیشی افسر کو ڈکٹیٹ نہیں کیا جا سکتا کہ تفتیش کیسےکرنی ہے، عدالت بھی تفتیشی افسر کو کوئی ڈائریکشن نہیں دے سکتی، سومیہ عاصم کس بنیاد پر اپنی ضمانت میں توسیع مانگ رہی ہے، کیا عورت کوئی بھی جرم کرلے اور اسے ضمانت دے دی جائے؟ اگر عورت کو ایسے ہی ضمانتیں ملتی رہیں تو معاشرہ ختم ہو جائے گا۔

    مدعی وکیل کا کہنا تھا الزام لگایا گیا کہ بچی کے والدین نے بلیک میل کیا، کیوں ہوئے بلیک میل؟ حقیقت ہے کہ بچی کے والدین سے رابط کیا گیا اور پیسوں کی آفر کی گئی، بچی کی طبی رپورٹ کو تو آج تک سومیہ عاصم کے وکلا نے چیلنج نہیں کیا، اتنے زیادہ زخم ہیں،کیا کوئی والدین اپنی بیٹی کو اتنا زخمی کر سکتے ہیں؟ کبھی کوئی ماں باپ اپنی بیٹی پراتنا تشدد نہیں کرسکتے۔

    بچی رضوانہ کے والدین کے وکیل کا کہنا تھا قانون کے مطابق کمسن بچی کو ملازمہ رکھنا ہی ایک جرم ہے، سول جج اور اہلیہ کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ کمسن ملازمہ رکھنا جرم ہے، ماموں اور بچی کی والدہ کا بیان ریکارڈ پر موجود ہے۔

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد کے جج فرخ فرید نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد سومیہ عاصم کی ضمانت خارج کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرنے کا حکم دیا، ضمانت میں توسیع کی درخواست خارج ہوتے ہی پولیس نے سومیہ عاصم کو گرفتار کر لیا۔

    جج فرخ فرید کا پراسیکیوشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا سچ تلاش کرنے میں ڈر نہیں ہونا چاہیے، شواہد ایمانداری سے جمع کریں اور کوئی دباؤ نہ لیں، معاملے کی تفتیش میرٹ پر ہونی چاہیے۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleتحریک انصاف نے چیئرمین کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنےکا اعلان کر دیا
    Next Article چیئرمین پی ٹی آئی کی اٹک سے اڈیالہ جیل منتقلی کیلئے درخواست دائر
    Web Desk

    Related Posts

    وزیراعظم شہبازشریف کے حکم پر خیبرپختونخوا کو گندم کی فراہمی کی ہدایت

    جون 10, 2026

    پاک افغان سرحدی علاقوں میں پاکستان کی کارروائی کے دوران 26 دہشت گرد ہلاک ہوئے، وزیر اطلاعات عطا تارڑ

    جون 10, 2026

    بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے وطن بھیجی جانے والی ترسیلات زر ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں

    جون 10, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    khybernews streaming
    فولو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    • YouTube
    مقبول خبریں

    وزیراعظم شہبازشریف کے حکم پر خیبرپختونخوا کو گندم کی فراہمی کی ہدایت

    جون 10, 2026

    عیدالاضحیٰ کے بعد بھی افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل دوبارہ شروع نہ ہو سکا

    جون 10, 2026

    شکیلہ ناز کامیاب سرجری کے بعد گھر منتقل، صحت یابی کا عمل جاری

    جون 10, 2026

    فضل الٰہی کون ہیں؟ میں انہیں جانتی تک نہیں، مجھ سے منسوب بیان من گھڑت ہے، علیمہ خان

    جون 10, 2026

    پاک افغان سرحدی علاقوں میں پاکستان کی کارروائی کے دوران 26 دہشت گرد ہلاک ہوئے، وزیر اطلاعات عطا تارڑ

    جون 10, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026 اخبار خیبر (خیبر نیٹ ورک)

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.