اسلام آباد(ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے ریکوڈک معاہدے کو قانونی قرار دیتے ہوئے اپنی رائے پر مشتمل محفوظ فیصلہ سنا دیا۔ چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے5 رکنی بینچ نے ریکوڈک کیس کا 13 صفحات پر مشتمل فیصلہ دیا۔
فیصلے میں لکھا کہ ریکوڈک صدارتی ریفرنس میں 2 سوال پوچھے گئے تھے۔ فیصلے میں قرار دیا گیا گیا ریکوڈک معاہدے سپریم کورٹ کے 2013ء کے فیصلے کے خلاف نہیں۔ ماہرین کی رائے لے کر ہی وفاقی و صوبائی حکومتوں نے معاہدہ کیا۔
سپریم کورٹ کے بینچ نے اپنی رائے میں تحریر کیا کہ ملکی آئین قومی اثاثوں کے قانون کے خلاف معاہدے کی اجازت نہیں دیتا۔ صوبائی حکومتیں معدنیات کے حوالے سے قوانین میں ترمیم اور تبدیلی کر سکتی ہیں۔ عدالت نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی کو معاہدے پر اعتماد میں لیا گیا تھا۔ منتخب عوامی نمائندوں نے بھی معاہدے پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ معاہدے میں کوئی غیر قانونی شق نہیں۔
یاد رہے کہ صدر مملکت نے ریکوڈک ریفرنس 15 اکتوبر کو رائے مانگنے کے لئے درخواست دی تھی۔ سپریم کورٹ نے ریکوڈک صدارتی ریفرنس پر17 سماعتیں کیں۔
منگل, اکتوبر 6, 2026
بریکنگ نیوز
- ایران اور امریکہ مذاکرات کیلئے پاکستان کا کردار قابل تحسین ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس
- ڈی آئی خان میں فائرنگ کے مختلف واقعات، ایف بی آر اور پولیس کے 5 اہلکار شہید
- گندم مینجمنٹ کمیٹی کا پہلا اعلیٰ سطحی اجلاس، کسانوں کے مفادات کے تحفظ پر زور
- سکیورٹی فورسز اور ضلعی انتظامیہ کے اشتراک سے جنوبی بلوچستان میں کھلی کچہریوں اور جرگوں کا انعقاد
- شمالی وزیرستان میں انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی، 5 خوارج ہلاک، 2 زخمی
- پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون پر اہم پیش رفت
- اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا پاکستان کا سرکاری دورہ، اہم ملاقاتیں کریں گے
- کیمٹیک میں اقراء یونیورسٹی اسلام آباد کے فیکلٹی ممبران کے لیے براڈکاسٹ میڈیا ٹریننگ ورکشاپ

