اسلام آباد(ویب ڈیسک) ترجمان دفترخارجہ عاصم افتخار نے کہا ہے کہ طالبان کی عبوری افغان حکومت فوری طور پر تسلیم کرنے کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے۔
وزارت خارجہ میں ہفتہ وار پریس بریفنگ اور بعد میں دفتر خارجہ نے اعلامیہ جاری کیا ۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ اور اس سلسلے میں پاکستان اور عالمی برادری میں مشاورت جاری ہے۔ افغان حکومت تسلیم کرنا ایک اہم سنجیدہ مسئلہ ہے۔
خیال رہے دفتر خارجہ کا بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے۔ جب حال ہی میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ حالیہ مذاکرات کا “کوئی ٹھوس نتیجہ نہیں نکلا”۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا میں سوات کے شہریوں نے دہشت گردی کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ حال ہی میں خبردار کیا تھا کہ اگر دہشت گردوں کو لگام نہ دی گئی تو وہ اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے۔
سوات کی تحصیل چارباغ اور شانگلہ کے علاقے الپوری میں احتجاجی مظاہروں کی اطلاعات ہیں۔ چارباغ میں اسی ہفتے کے آغاز میں ایک اسکول وین عسکریت پسندوں کی فائرنگ کی زد میں آ گئی تھی۔ جس میں ڈرائیور ہلاک اور دو طالب علم زخمی ہو گئے تھے۔
جمعرات, اکتوبر 15, 2026
بریکنگ نیوز
- افغانستان سے ایران منشیات سمگلنگ: طالبان رجیم میں چار گنا تشویشناک اضافہ
- بلوچستان میں آپریشن ردالفتنہ 3: مستونگ میں 2 دہشت گرد ہلاک، 104 غیرقانونی افغان شہری گرفتار
- گورنر خیبرپختونخوا کی محکمہ اطلاعات کو مثبت تشخص اجاگر کرنے اور منفی پروپیگنڈے کا جواب دینے کی ہدایت
- پشاور سکول سانحہ: ریسکیو حکام اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ابتدائی رپورٹ صوبائی حکومت کو ارسال
- سی پیک مغربی روٹ: بلوچستان میں 310 ارب کے منصوبے، 718 کلومیٹر شاہراہوں پر پیشرفت
- انٹیلی جنس رپورٹ: خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے بعد احتجاجی سرگرمیاں محدود رہیں
- سوات میں سی ٹی ڈی اور پولیس کا آپریشن، 3 دہشتگرد ہلاک
- امریکی سفارتخانے کی ناظم الاُمور نیٹلی اے بیکر کی جانب سے پشاور سانحہ پر گہرے دکھ اور ہمدردی کا اظہار

